لاہور میں رمضان کے دوسرے دن خودکش دھماکہ،9ہلاک،25زخمی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 9th May 2019, 11:07 AM | عالمی خبریں |

لاہور،9/مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی) ایشیا کے سب سے بڑے صوفی درگاہوں میں سے ایک داتا دربار کے باہر چہارشنبہ کے روز زبردست خود کش دھماکہ ہوا جس میں اب تک 9 افراد کے ہلاک ہونے اور کم و بیش 25 لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ رمضان کے دوسرے دن پاکستان کے مشہور شہر لاہور میں ہوئے اس دھماکہ کے تعلق سے پاکستانی میڈیا ذرائع نے بتایا کہ یہ خود کش بم دھماکہ پولیس کی گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا جو داتا دربار کے قریب کھڑی تھی۔ مہلوکین میں 5 پولیس افسروں کے شامل ہونے کی بات بھی کہی جا رہی ہے۔دھماکہ کے بعد علاقے میں افرا تفری کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے ناقابل فراموش ہیں۔ پاکستانی صدر عارف علوی نے خودکش حملہ پر افسوس ظاہر کیا اور شہید ہونے والے پولیس جوانوں اور معصوم شہریوں کے تئیں اظہارِ ہمدردی کی۔پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل کیپٹن (ریٹائرڈ) عارف نواز خان نے حملہ میں پولیس فورس کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی اور دھماکہ کے کچھ دیر بعد ہی تین پولیس اہلکار کے مارے جانے کی بات کہی۔ لیکن یہ تعداد اب بڑھ کر 9ہو گئی ہے۔ عارف نواز خان نے 25 افراد کے زخمی ہونے کی بات بھی کہی اور انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ کچھ کی حالت اب بھی سنگین بتائی جا رہی ہے۔میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خودکش دھماکہ داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کے باہر صبح تقریباً 8.45 بجے ہوا۔ ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جس میں حملہ آور کے ذریعہ پولیس کو ہی نشانہ بنایا گیا تھا، یہی سبب ہے کہ مہلوکین میں پولیس کی تعداد زیادہ ہے۔لاہور کی ڈپٹی کمشنر صالحہ سعید کا اس دھماکہ سے متعلق کہنا ہے کہ میواسپتال میں لائی گئی لاشوں میں سے ایک مشتبہ حملہ آور کی لاش ہے۔ انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملہ خودکش تھا۔ حملے میں بال بیرنگ کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد سوات دربار کا گیٹ وے بند کر دیا گیاہے اور احتیاطی طور پر سکیورٹی بھی اس علاقے میں سخت کر دی گئی ہے۔واضح رہے کہ گیارہویں صدی میں تعمیر داتا دربار کو 2010 میں بھی ایک خود کش حملے کا گواہ بننا پڑا تھا اور اس وقت 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

سری لنکا: مسلم مخالف فسادات میں ایک شخص ہلاک، مساجد کو نقصان

حکومتی وزیر رؤف حکیم کے مطابق مسلم مخالف فسادات میں ایک مسلمان ہلاک ہو گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی املاک کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ رؤف حکیم کا تعلق مسلم کانگریس نامی سیاسی جماعت سے ہے۔ یہ سیاسی پارٹی حکومتی اتحاد میں شامل ہے۔ حکیم کے مطابق مشتعل افراد نے پیر تیرہ ...