قومی خواتین کمیشن کو گزشتہ 5 سال میں عصمت دری سے منسلک 10500 سے زیادہ شکایات موصول

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th July 2019, 11:53 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 18 جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بہبودبرائے خواتین واطفال کی وزارت نے بتایا کہ قومی خواتین کمیشن کو گزشتہ پانچ سال کے دوران عصمت دری اور عصمت دری کی کوشش کے ساتھ منسلک 10500 سے زیادہ شکایات ملی ہیں۔بہبودبرائے خواتین واطفال وزیر اسمرتی ایرانی نے جمعرات کو راجیہ سبھا کو ایک تحریری جواب میں یہ معلومات دی۔انہوں نے بتایا کہ قومی خواتین کمیشن کو ملی 10531 شکایات میں سے زیادتر شکایات شمالی ریاستوں کی ہیں۔ا سمرتی نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اتر پردیش سے سب سے زیادہ 6987 شکایات ملیں جبکہ دہلی سے 667 شکایات، ہریانہ سے 659 شکایات، راجستھان سے 573 شکایات اور بہار سے 304 شکایات موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سال 2014 میں سب سے زیادہ 2575 شکایات کمیشن کوحاصل ہوئیں۔ایرانی کے مطابق، عصمت دری اور عصمت دری کی کوشش کی اس سال 550 شکایات ملیں جبکہ گزشتہ سال ملی ایسی شکایات کی تعداد 2082 تھی۔انہوں نے بتایا کہ 2017 میں ایسی 1637 شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ 2016 میں 1359 شکایات ملی تھیں،2015 میں ایسی شکایات کی تعداد 2328 تھی۔
 

ایک نظر اس پر بھی

کانپور پہنچی یشونت سنہا کی ’گاندھی شندیس یاترا‘، سی اے اے کو بتایا مودی حکومت کی ’نوٹنکی‘

 ممبئی سے گاندھی شانتی سندیش یاترا لے کر منگل کو کانپور پہنچے سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے کہا کہ ایک طرف ملک میں جہاں جمہوریت خطرے میں ہے تووہیں ملک کی گرتی معیشت سے پوری دنیا فکر مند ہے۔

سی اے اے کیخلاف قرار دادیں ’’دستوری اعتبار سے بھیانک غلطی‘‘ ، کوئی طاقت کشمیری پنڈتوں کو کشمیر واپس جانے سے نہیں روک سکتی ؛ منگلورو میں ریالی سے راجناتھ سنگھ کا خطاب

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے آج اپوزیشن پارٹیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئےاُن سے خواہش کی ہے کہ یہ پارٹیاں ‘ جہاں اُن کی اکثریت ہے، ریاستی اسمبلیوں میں سی اے اے کیخلاف قرار دادیں منظور کرتے ہوئے ’’دستوری اعتبار سے بھیانک غلطی ‘‘ نہ کریں۔ راجنا تھ سنگھ نے اپوزیشن پارٹیوں کو مشورہ ...

معیشت میں بہتری کے لیے ’مرہم‘ نہیں، سخت اقدامات کی ضرورت: کانگریس

کانگریس نے کہا ہے کہ لوگوں کی آمدنی اور خریدنے کی اہلیت کم ہونے کے ساتھ ہی صنعتی پیداوار، براہ راست ٹیکس، درآمدات۔برآمدات وغیرہ میں کمی کی وجہ سے معیشت بری صورت حال سے دوچار ہے اور بہتر ی کے لئے لیپا پوتی کرنے کے بجائے اب طویل مدتی سخت اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔