کمٹہ: ندی میں لگے غیر قانونی پمپ ہٹانے کی مخالفت۔ افسران کی گاڑیاں روک کر احتجاج۔دینکر شیٹی کی قیادت میں اجلاس

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2019, 12:24 AM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کمٹہ:14/مئی (ایس او نیوز) کمٹہ اور ہوناور کے لئے پینے کا پانی فراہم کرنے والی اگناشینی ندی میں عوام کے طرف سے غیر قانونی طور پر لگائے گئے پمپ سیٹ  کو میونسپل افسران نے ہٹانے کی مہم چلائی تو مقامی عوام نے سرکاری افسران کی گاڑیاں روک کر اس کی مخالفت کی اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔

 پینے کے پانی کی شدید قلت کی وجہ سے ضلع ڈپٹی کمشنر نے سنتے گولی پنچایت علاقے میں واقع ماراکل کے اطراف میں 12کلو میٹر کے دائرے میں روزانہ صرف ۳ گھنٹوں کے لئے تھری فیس بجلی فراہم کرنے کی ہدایت ہیسکام کو دی تھی۔اس کے علاوہ میونسپل افسران نے علاقے میں ندی سے پانی نکالنے کے لئے کسانوں کی طرف سے غیر قانونی طور پر لگائے پمپ سیٹس کی نشاندہی کرلی انہیں اکھاڑ کر اپنی موٹر گاڑی میں رکھ کر جب لے جانے لگے تو مقامی افراد نے ان کی گاڑیاں روک لیں۔ اور احتجاج کرنے لگے کہ پمپس کو نقصان پہنچانے کے انداز میں انہیں اکھاڑا گیا ہے۔جب ماحول کشید ہ ہوگیاتو میونسپل چیف آفیسر نے کمٹہ پولیس اسٹیشن سے اضافی کمک طلب کرلی۔ 

 اس موقع پر پنچایت کے سابق صدر ونائیک بھٹ نے الزام لگایا کہ”ہمارے پمپ سیٹس کو اس انداز سے اکھاڑا گیا اور لائن کاٹ دی گئی ہے کہ اب اس کو درست کرنے کے لئے کم از کم پانچ پانچ ہزار روپے درکا رہونگے۔“ چیف آفیسر ایم کے سریش نے کہا کہ”برسات کا آغاز ہونے تک ان پمپ سیٹس کا استعمال نہ کرنے کا تحریری وعدہ لینے کے بعد ہی کسانوں کو پمپس واپس لوٹائے جائیں گے۔“

 اس واقعے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں ایم ایل اے دینکر شیٹی کی قیادت میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی۔انہوں نے کہا کہ”کسانوں کے قیمتی پمپ سیٹس کو داداگیری کرکے اکھاڑ کر لاری بھر کر لے جایا گیا ہے۔میونسپل افسران کو نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔“ اس کے جواب میں چیف آفیسر نے کہا کہ ”وہاں پر جوغیر قانونی پمپ سیٹس تھے، ان کا کوئی مالک ہی نہیں ہے۔کسی بھی سیٹ کو بجلی کنکشن کا آر آر نمبر موجود نہیں ہے۔اس لئے وہ پمپ سیٹس ضبط کرلیے گئے ہیں۔تھری فیس بجلی کا کنکشن محدودوقت کے لئے جاری کیے جانے کی وجہ سے اب ندی میں صرف ایک فٹ پانی بڑھ گیا ہے۔ جو آئندہ پندرہ دنوں تک عوام کوپینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے کافی نہیں ہے۔“

 اسسٹنٹ کمشنر پریتی گہلوت نے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ”آئندہ صرف کچھ دنوں تک کسان اپنے باغوں کے لئے موٹر پمپ کے ذریعے ندی سے پانی نکالنے کا کام بند کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔کیونکہ سب سے زیادہ اہم پینے کے پانی کی سپلائی ہے۔اگر آپ لوگوں کو پینے کے پانی کی قلت ہوگی تو حکومت کی طرف سے ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا۔“

ایک نظر اس پر بھی

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

مرڈیشور ساحل پر ماہی گیروں اور انتظامیہ افسران کے درمیان پارکنگ جگہ کو لےکر تنازعہ: ماہی گیروں کا احتجاج  

مرڈیشور میں مچھلی شکار پیشہ کے لئے جگہ مختص کرنے اور ماہی گیر کشتیوں کو  محفوظ رکھنے کےلئے جگہ متعین کرنے کے متعلق   ماہی گیروں اور مقامی انتظامیہ کے درمیان پھر ایک بار تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔

کاروارمیں ریڈ الرٹ کے باوجود کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کی انٹر سیپٹر کشتیاں نہیں اتریں سمندر میں!

ابھی دو دن پہلے ملک کی خفیہ ایجنسی نے سمندری راستے سے دہشت گردانہ حملہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پوری ریاست کرناٹکا میں اور بالخصوص ساحلی کرناٹکا میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

منگلورو:ڈاکٹرمریم انجم بن گئیں خواتین سے متعلقہ کینسرکے علاج میں ایم سی ایچ ڈگری پانے والی جنوبی کینرا کی پہلی ماہر ڈاکٹر 

ڈاکٹر مریم انجم نے خواتین سے متعلقہ کینسر کے شعبے میں خصوصی مہارت والی ایم سی ایچ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ جس کے ساتھ انہیں جنوبی کینرا میں اس طرح کی مہارت پانے والی پہلی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز ملا ہے۔