12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس نہیں ہوئی تو بھوک ہڑتال کریں گی اپوزیشن پارٹیاں: ملکارجن کھرگے

Source: S.O. News Service | Published on 8th December 2021, 10:59 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 8؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) اپوزیشن پارٹیوں نے منگل کے روز مرکزی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا میں جو رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، اس کے لیے پوری طرح سے مودی حکومت ذمہ دار ہے۔ حکومت نے ضابطوں کو توڑتے ہوئے ہمارے 12 اراکین کو معطل کیا ہے۔ اگر معطلی واپس نہیں لی گئی تو اپوزیشن پارٹیاں معطل اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔

راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے نے منگل کے روز کہا کہ ’’راجیہ سبھا میں پیدا ہو رہی رکاوٹوں کے لیے، بار بار ایوان ملتوی ہونے کے لیے حکومت ذمہ دار ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم نے ایوان کو چلانے کی بہت کوشش کی۔ ہم بار بار ایوان کے لیڈر، سربراہ سے ملتے رہے اور اپنی بات رکھی کہ رول 256 کے مطابق ہی اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر سکتے ہیں۔ لیکن انھوں نے ان ضابطوں کو چھوڑ دیا اور غلط طریقے سے مانسون اجلاس میں پیش آئے واقعہ کو سرمائی اجلاس میں لا کر 12 اراکین کو معطل کر دیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی منشا ایوان چلانے کی نہیں ہے۔‘‘

ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ہم نے اب یہ طے کیا ہے کہ جب تک اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس نہیں لی جاتی، ہم اپنی مخالفت جاری رکھیں گے۔ معطلی واپس نہیں ہوئی تو بیٹھے ہوئے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ہم بھی ایک دن بیٹھ کر بھوک ہڑتال کریں گے۔ ہم نے لوک سبھا کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی یہ گزارش کی ہے کہ وہ بھی دھرنے میں تعاون دیں۔ حکومت جس طریقے سے چل رہی ہے، وہ تاناشاہی عمل ہے۔‘‘

ملکارجن کھرگے نے کہا کہ راجیہ سبھا میں جو خلل پیدا ہو رہا ہے، اس کے لیے صرف حکومت ہی ذمہ دار ہے۔ اراکین پارلیمنٹ کو معطل کر رہے ہیں، تو شرائط و ضوابط کے مطابق ہی ایسا ہونا چاہیے۔ گزشتہ اجلاس کی بات کو سرمائی اجلاس میں لا کر معطل کیا گیا۔ ہر معطل کیے جانے والے اراکین پارلیمنٹ سے پہلے بات کر کے ان کو بتانا چاہیے تھا کہ کیوں معطل کر رہے ہیں اور یہ 11 اگست 2021 کو ہی ہونا چاہیے تھا۔ حکومت قوانین کو غلط طریقے سے استعمال کر رہی ہے۔

غور طلب ہے کہ 12 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد سے گزشتہ 6 دنوں سے روزانہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ مظاہرہ کر رہے ہیں۔ منگل کو بھی پارلیمنٹ احاطہ میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے دھرنا دیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ جیہ بچن، شیوسینا کے سینئر لیڈر سنجے راؤت اور کئی دیگر اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ ان کی حمایت کے لیے پہنچے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھوپیش بگھیل کی کانگریس صدر سونیا گاندھی، راہل اور پرینکا سے ملاقات، انتخابی حکمت عملی پر تبادلہ خیال

چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل نے بدھ کے روز دہلی میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی سے ملاقات کی۔ ساتھ ہی وہ پارٹی کی جنرل سکریٹری اور انچارج اتر پردیش پرینکا گاندھی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے لئے بھی پہنچے۔

اب یوپی میں ہوگی ورچوئل لڑائی، بی جے پی اور کانگریس کے پاس ہے ٹرینڈ ٹیم

سماجوادی پارٹی کے گوتم پلی واقع دفتر سے آج پہلی ورچوئل ریلی کا آغاز کیا گیا۔ اس ریلی کو خطاب کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے بڑے لیڈر امبیکا چودھری نے صوبے کی بی جے پی حکومت کی ناکامیوں کو ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔

کیرالہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بی پی ایل کنبوں کو مفت ملے گا انٹرنیٹ: پنارائی وجین

 کیرالہ کے وزیر اعلی پنارائی وجین نے منگل کے روز کہا کہ اس سال مئی تک کیرالہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں 100 بی پی ایل کنبوں کو مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔ پنارائی وجین نے کہا کہ کیرالہ فائبر آپٹک نیٹ ورک (کے ایف او این) کا مقصد تقریباً 20 لاکھ بی پی ایل کنبوں کو مفت انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی ...

’لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں‘ نعرہ سے متاثر خاتون صحافی ندا احمد نے صحافت کو کیا الوداع، سیاست میں رکھا قدم

صحافت کو خیرباد کر کے سیاست میں قدم رکھنے والی ندا احمد کا کہنا ہے کہ سیاست میں جو لوگ بہت زیادہ وعدے کر تے ہیں، سمجھ لو کچھ نہیں کرتے۔ اس لئے میں وعدے نہیں کروں گی، بلکہ کچھ کر کے دکھانا ہے۔

پی ایم مودی کی میزبانی میں ہند-وسطی ایشیا چوٹی کانفرنس 27 جنوری کو

ہندوستان 27 جنوری کو پہلے ہند وسطی ایشیا چوٹی کانفرنس کا انعقاد کرے گا وزیر اعظم نریندر مودی کی میزبانی میں ورچول توسط سے ہونے والی اس چوٹی کانفرنس میں قزاقستان، جمہوریہ کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے سربراہان شرکت کریں گے پہلے ان لیڈران کے یوم جمہوریہ کی ...