جے ڈی ایس ہی مسلمانوں کو سیاسی مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے: محیط الطاف

Source: S.O. News Service | Published on 19th October 2021, 11:35 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 19؍اکتوبر(ایس او  نیوز) ریاستی اسمبلی میں اس وقت مسلم نمائندگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جے ڈی ایس لیڈر ونئی دہلی میں سابق خصوصی نمائندہ برائے کرناٹک ڈاکٹر سید محیط الطاف نے آج کہا کہ ریاست کرناٹک میں 45اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں اگر مسلمان متحد ہوکر کام کریں تو مسلم امیدوار منتخب ہوسکتے ہیں اور 75اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹس فیصلہ کن ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے آپسی اختلافات اور نا اتفاقی کی وجہ سے اسمبلی میں صرف7مسلم نمائندے ہیں۔ایک اخباری بیان میں محیط الطاف نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بی جے پی جس انداز سے طاقتور ہورہی ہے اسے کوئی ایک پارٹی ہرا نہیں سکتی۔ علاقائی پارٹیاں ہی متحد ہوکر فرقہ پرست بی جے پی کو شکست دے سکتی ہیں۔ جیسے آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی،تمل ناڈو میں ایم کے اسٹالن،مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے بی جے پی کو شکست دی ہے۔ ریاست کرناٹک میں جے ڈی ایس واحد علاقائی پارٹی ہے جو بی جے پی کو شکست دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں مضبوط ہوجائیں تو 2024ء میں ہونے والے عام انتخابات میں بی جے پی کو شکست دے سکتی ہیں۔ کانگریس پر انہوں نے الزام لگایا کہ اب تک کانگریس نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پراستعمال کیا ہے۔ مسلمانوں کے حقیقی مسائل حل کرنے میں کانگریس دلچسپی نہیں رکھتی، اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جے ڈی ایس سے ہاتھ ملا لینا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ اب بھی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ مسلمانوں کو خواب غفلت سے بیدار ہوکر حقیقت کا سامنا کرنا چاہئے۔ کرناٹک میں اس وقت جے ڈی ایس ہی واحد پارٹی ہے جو مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے اور انتخابات میں زیادہ نمائندگی بھی۔ اس لئے اس وقت مسلمانوں کو دور اندیشی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

جے ڈی ایس امیدواروں کی جیت کے ذریعے پارٹی کارکن اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں: انیتاکمارسوامی

بنگلورو دیہی لوکل باڈیز حلقے سے ریاستی قانون ساز کونسل کیلئے ہورہے انتخابات کو جے ڈی ایس پارٹی نے سنجیدگی سے لیاہے اور اس انتخابات میں پارٹی امیدواروں کوکامیاب کرکے پارٹی کارکنوں کو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرناہوگا۔یہ بات رکن اسمبلی انیتاکمار سوامی نے کہی۔

منگلورو : طلبہ کے درمیان گروہی تصادم - کئی طلبہ ہوئے زخمی -  پولیس نے مارا ہاسٹل پر چھاپہ - 6 طالب علم گرفتار ۔ مقامی لوگوں کا احتجاج ۔ ہاسٹل خالی کروانے کا مطالبہ  

شہر کے ایک ڈگری کالج میں زیر تعلیم اور گوجرکیرے علاقے میں واقع ہاسٹل میں قیام پزیر طلبہ کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑے جس کے نتیجے میں بعض طلبہ زخمی بھی ہوگئے ۔ مار پیٹ اور تصادم کی اطلاع ملنے پر پولیس نے دیر رات ہاسٹل پر چھاپہ مار کر کئی طالب علموں کو گرفتار کر لیا ۔

چامنڈی پہاڑ پر زمین کھسکنے کے واقعات: نندی مجسمے کے راستے کو پیدل چلنے والے راستہ میں تبدیل کرنے اپیل

گزشتہ چند دنوں سے میسورو ضلع میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے میسور کے قریب واقع چامنڈی پہاڑ پر زمین کھسکنے کے واقعات پیش آرہے ہیں جس کی وجہ سے پہاڑ پر واقع چامنڈیشوری دیوی کے درشن کو پہنچنے والے زائرین کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔