اومیکرون 2 ہفتوں میں 38 ممالک میں پھیل چکا، ابھی تک کوئی موت نہیں ہوئی: عالمی ادارہ صحت

Source: S.O. News Service | Published on 4th December 2021, 11:35 AM | عالمی خبریں |

جنیوا،4؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)  جنوبی افریقہ میں پائے جانے والا کورونا کا نیا ویرینٹ اومیکرون دنیا کے دوسرے ممالک میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعہ کے روز بتایا کہ اومیکرون 38 ممالک میں پھیل چکا ہے، تاہم کورونا کی اس نئی قسم سے اب تک کسی موت کی اطلاع نہیں ہے۔ غورطلب ہے کہ اس ویرینٹ کا سب سے پہلا معاملہ جنوبی افریقہ میں دو ہفتے قبل رپورٹ کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس بات کا پتا لگانے میں کئی ہفتے لگیں گے کہ اومیکرون کتنا متعدی ہے، کیا یہ سنگین بیماری کا سبب بنتا ہے اور علاج اور ٹیکے اس کے خلاف کتنے کارگر ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے انتباہ دیا ہے کہ یہ اگلے کچھ ہفتوں میں یورپ کے نصف سے زیادہ کورونا کے معاملوں کو سبب بن سکتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی امور کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا، "ہمیں ان سبھی جوابات کے ملنے کا انتظار ہے جن کی ہمیں تلاش ہے۔ فی الحال ہمیں سائنس پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں صبر کرنا چاہیے اور خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔”

وہیں عالمی ادارہ صحت کی کورونا پر تحقیق کی سربراہ وان کرخوف نے کہا ہے کہ معاملوں میں وائرس کی متنقلی میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن واضح تصویر حاصل کرنے میں مزید کچھ دن لگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک شدت کا تعلق ہے، ابتدائی رپورٹیں یونیورسٹی کے طلبا کے ایک گروپ سے آئی ہیں اور کم عمر افراد میں ہلکی بیماری کا رجحان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اومیکرون کے اب تک پائے جانے والے کیسز سنگین نہیں ہیں اور تمام متاثرین نے سفر کیا تھا، نیز جو لوگ بیمار ہیں وہ فضائی سفر نہیں کر رہے ہیں، لہذا ومیکرون کی شدت کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا جلد بازی ہوگی۔ ویکسین پر بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ موجودہ ویکسین پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

روس-یوکرین جنگ کے سبب عالمی غذائی بحران کا اندیشہ، لاکھوں لوگ نقص تغذیہ کے ہو سکتے ہیں شکار!

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملہ سے جلد ہی عالمی غذائی بحران پیدا ہو سکتا ہے جو سالوں تک بنا رہ سکتا ہے۔ جنرل سکریٹری انٹونیو گٹیرس نے کہا کہ بڑھتی قیمتوں کے سبب غریب ممالک میں جنگ نے غذائی بحران کو بڑھا دیا ہے۔

سری لنکا: سمندر کے ساحل پر دو مہینے سے کھڑا ہے پٹرول سے لدا جہاز، حکومت کے پاس خریدنے کے لئے نہیں ہے پیسے !

سری لنکا  نے بدھ کے روز کہا کہ پٹرول سے لدا جہاز تقریباً دو ماہ سے اس کے ساحل پر کھڑا ہے لیکن اس کے پاس ادائیگی کے لیے غیر ملکی کرنسی نہیں ہے۔ سری لنکا نے اپنے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ایندھن کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر انتظار نہ کریں۔ تاہم سری لنکا کی حکومت نے کہا کہ ملک کے پاس ...

مہندا راج پکشے اور ان کے 15 ساتھی ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے: عدالت

سری لنکا اب تک کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی پر ملک گیر مظاہروں کے درمیان صدر گوٹابایا راج پکشے نے کل قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ جلد نئی حکومت اور وزیراعظم کا اعلان کریں گے۔

سری لنکا: صدر گوٹابایا کا قوم سے خطاب، راج پکشے خاندان سے کابینہ میں کوئی نہیں ہوگا

  سری لنکا میں پرتشدد مظاہروں کے درمیان کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور تشدد کے مرتکب افراد کو گولی مارنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس دوران سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکشے نے قوم سے دوسرے مرتبہ خطاب کیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر نئی حکومت تشکیل دی جائے گی اور نئے ...

بحران میں مبتلا سری لنکائی باشندوں کی ہندوستان میں دراندازی کا اندیشہ، تمل ناڈو پولیس الرٹ

سیاسی اور معاشی بحران میں مبتلا سری لنکا میں ہر طرف تشدد کا ماحول ہے۔ وہاں کے کئی شہریوں کے ذریعہ ہندوستان میں دراندازی کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اسے روکنے کے لیے تمل ناڈو کی ساحلی پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔