منی پور میں بی جے پی کے ساتھ اپنے اتحاد کا جائزہ لے گی این پی ایف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 18th May 2019, 1:53 PM | ملکی خبریں |

امفال،18/ مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) منی پور میں بی جے پی کے زیرقیادت والی اتحادی پارٹی این پی ایف نے کہا ہے کہ پارٹی اس کے خیالات اور تجاویز پرتوجہ نہیں دے رہی ہے۔این پی ایف نے اس بات پر فیصلہ کرنے کے لیے اپنے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی ہے کہ اسے اتحاد میں بنے رہنا ہے یا اپنی حمایت واپس لیناہے۔ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی نے کہاہے کہ اس نے حکومت کے کام کاج کو ہموار بنانے کے لیے اپنے ساتھیوں کو ہر ممکن سہولیات دی ہیں۔ناگا پیپلزفرنٹ (این پی ایف) کی ریاستی یونٹ کے سربراہ اوانگبو نیومی نے دعویٰ کیاہے کہ بی جے پی اپنے اتحاد کے ساتھیوں کو حقیر سمجھتی ہے۔اس بارے میں تفصیلی معلومات دیئے بغیر انہوں نے کہاکہ 2016 میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد سے بی جے پی نے کبھی اتحاد کی اصل روح کا احترام نہیں کیا۔ایسے کئی موقع آئے جب ان کے رہنماؤں نے ہمارے ارکان کو اتحاد ی ماننے سے انکار کیا۔60 رکنی اسمبلی میں این پی ایف کے چار رکن اسمبلی ہیں۔ہمارے چار ممبران اسمبلی میں سے لوشی دکھو وزیر ہیں، جو ماؤ اسمبلی سیٹ سے ممبر اسمبلی ہیں۔نیومی نے یہ بھی کہا کہ بھگوا پارٹی نے اپنے اتحاد کے ساتھیوں سے جو وعدے کئے تھے اسے کبھی پورا نہیں کیا۔انہوں نے دعوی کیاکہ این پی ایف نے ہمیشہ بی جے پی کو اپنے بڑے بھائی کی طرح سمجھا ہے لیکن یہ بھگوا پارٹی کو ہمیں جھانسہ دینے سے نہیں روک پایا۔ہمیں مناسب احترام نہیں ملا۔نیومی کے دعووں کو غلط بتاتے ہوئے منی پور میں بی جے پی ترجمان بجائے نے کہا کہ این پی ایف نے اتحاد میں شامل ہونے کے دوران کہا تھا کہ اسے وزیر کاعہدہ نہیں چاہئے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کے کئی مطالبات ہیں۔انہوں نے کہاکہ این پی ایف کے مطالبات پوری طرح بے بنیاد ہیں۔حکومت کے کام کاج کوہموار بنانے کے ساتھ ہمارے اتحاد کے ساتھیوں کو ہر ممکن سہولیات دی گئی ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

تریپورہ: بی جےپی-آئی پی ایف ٹی اتحاد خطرے میں

تریپورہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اپنے کارکنوں پر مبینہ حملے کے سلسلے میں اتحادی حکومت کی معاون انڈین پیپلز فرنٹ آف تریپورہ (آئی پی ایف ٹی) سے رشتہ توڑنے کے بعد دباؤ کے درمیان آئی پی ایف ٹی لیڈروں نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ موجودہ صورت حال میں اتحادی حکومت میں شامل نہیں رہ ...

بہار میں شدت کی گرمی، 183 افراد ہلاک،22 جون تک سرکاری اسکول بند،گیا میں دفعہ 144 نافذ

بہار میں زبردست گرمی اور لُو کے تھپیڑوں سے لوگوں کا جینا دشوار ہو گیا ہے۔ حالات اتنے بدتر ہیں، اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق پچھلے 3 دن کے دوران تقریباً 183 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔

پرگیہ ٹھاکر کو لوک سبھا میں پہلے ہی دِن اپوزیشن کی مخالفت کا کرنا پڑا سامنا

عام انتخابات کے دوران ناتھو رام گوڈسے کے متعلق دئے گئے بیان کی وجہ سے تنازعہ کا شکار بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو آج لوک سبھا میں پہلے ہی دن اس وقت اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے حلف لیتے وقت اپنے نام کے ساتھ چنمیانند اودھیشانند گری بھی ...