شمالی کوریا کا میزائل پروگرام جاری ہے، رپورٹ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 15th November 2018, 11:29 AM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 15نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ایک امریکی ریسرچ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ اس نے شمالی کوریا کے میزائلوں سے متعلق ایسے 13 مقامات کا پتا لگایا ہے جن کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی تازہ ترین علامت ہے کہ شمالی کوریا کو اس کے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار کرانے کی امریکی کوشش تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔جون میں شمالی کوریا کے سربراہ کم یانگ ان کے ساتھ اپنے سربراہی اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ کم یانگ ان فوری طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا شروع ہو جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنے وطن پہنچیں گے جو تھوڑی ہی دیر بعد ہو گا، تو میرا خیال ہے کہ وہ یہ عمل فوراً ہی شروع کر دیں گے۔پانچ ماہ بعد کم یانگ نہ صرف یہ کہ اس عمل کو فوری طور پر شروع کرنے میں ناکام رہے، بلکہ یہ شواہد بڑھ رہے ہیں کہ وہ مسلسل مزید ہتھیار بنا رہے ہیں۔ پیر کے روز سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے کہا کہ اس نے شمالی کوریا کے میزائلوں سے متعلق کم از کم 13 غیر اعلان شدہ مقامات کا پتا چلا لیا ہے۔ جس میں ایک ایسا مقام بھی شامل ہے جو غیر فوجی علاقے کے قریب واقع ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسکائپ پر انٹرویو دیتے ہوئے ادارے کے برمودز نے کہا کہ شمالی کوریا نے اپنی بیلسٹک میزائل فورس پر، جسے ایک اسٹریٹیجک فورس کہا گیا ہے، بہت وقت، سرمایہ اور وسائل وقف کئے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ یہ غالباً جنوبی کوریا یا امریکہ کی جانب سے مستقبل کے کسی حملے کو روکنے کے لئے بہترین مزاحمتی راستہ ہے۔ٹرمپ اور کم کے درمیان سربراہی اجلاس کے بعد سے کوئی جوہری پیش رفت نہیں ہوئی ہے اگرچہ کچھ بکھری ہوئی کامیابیاں ہوئی ہیں۔ شمالی کوریا نے میزائلوں کے تجربے کی ایک تنصب کے اہم حصوں کو منہدم کرنے کا ایک وعدہ ضرور پورا کیا۔ اور شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات بتدریج بہتر ہوئے ہیں۔ لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ کوئی بڑے تعجب کی بات نہیں ہے کہ شمالی کوریا اپنے بیلسٹک میزائلوں سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔سابق امریکی سفارت کار منٹارو اوبا کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں ہمیں بہت کچھ پہلے ہی پتا تھا۔ ہمیں پہلے ہی علم تھا کہ شمالی کوریا اپنے میزائل پروگرام کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے اور امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان اس کے خاتمے کے لیے کوئی حقیقی وعدہ نہیں ہوا تھا۔اس پیش رفت کے باوجود صدر ٹرمپ بدستور اعلانیہ طور پر مثبت توقعات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کے ساتھ معاملہ جس طرح جاری ہے اس پر ہم بہت خوش ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ ٹھیک ہے، ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے۔ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ کم کے ساتھ ایک دوسرا سر براہی اجلاس کریں گے۔لیکن گزشتہ ہفتے یہ منصوبہ اس وقت پیچیدہ صورت حال کا شکار ہو گیا جب پومپیو اور شمالی کوریا کے ایک سینئر لیڈر کے درمیان ایک میٹنگ بغیر وجہ بتائے آخری منٹ میں منسوخ ہو گئی۔

ایک نظر اس پر بھی

کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیا گیا، چین میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 56 ہوگئیں ؛ چین سے دوسرے ممالک میں بھی پھیلنے کا خدشہ

چین کی حکومت نے کہا ہے کہ 25 جنوری تک 1975 افراد کے 'کورونا' وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہوئی ہے اور اس وائرس سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 56 ہوگئی ہے۔دوسری طرف 'کورونا' وائرس کو عالمی وباء قرار دیتے ہوئیاس کے انسداد کے لیے عالمی سطح پر مزید اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔یہ وائرس گذشتہ ...

ترکی میں زلزلے کے باعث ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری طاقت ور زلزلے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 29 ہوگئی، 1400 زخمی

ترکی میں جمعہ کی شام آنے والیطاقت ور زلزلے کے نتیجے میں اب تک 29 افراد جاں بحق جب کہ 1400 زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیاداوں پر امدادی کام جاری ہے اور ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ مشرقی ترکی کے علاقوں میں آنے والے اس تباہ کن زلزلے کیباعث دسیوں افراد لاپتا ...

آپ کا شکریہ... ٹرمپ نے مذاکرات سے متعلق ایران کی مشروط پیش کش مسترد کر دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے کی شرط کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ٹرمپ کا یہ موقف ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی حالیہ تجویز کے جواب میں سامنے آیا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’ایرانی وزیر ...

امریکی ڈیموکریٹس پرصدر ٹرمپ کے خلاف من گھڑت معلومات فراہم کرنے کا الزام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے لیے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر ری پبلیکنز کی طرف سے شدید تنقید کرتے ہوئے ان معلومات کو جعلی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے رکن سینیٹر رِک اسکاٹ نے کہا ہے کہ 'ڈیموکریٹس نے صدر کے ...

اردغان کی معاہدے کی خلاف ورزی، ترک فوجیوں کی لیبیا آمد جاری

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی طرف سے لیبیا میں عدم مداخلت سے متعلق طے پائے برلن معاہدے کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ ترکی کی طرف سے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی مدد کے لیے مسلسل فوجی بھیجے جا رہے ہیں۔کل جمعہ کو ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ لیبیا میں فائز السراج کی قیادت میں ...