چین، فلپائن، تھائی لینڈ اور جاپان وغیرہ ملکوں میں کورونا وائرس کی وبا سے مسجدیں اور گرجا گھر ویران

Source: S.O. News Service | Published on 17th February 2020, 11:07 AM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بیجنگ،16فروری(ایس او نیوز/ایجنسی) چین میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد وہاں کی مسلم کمیونٹی کی مساجد بھی اپنے نمازیوں سے محروم ہوتی جا رہی ہیں۔ مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی حاضری میں بتدریج کمی ہوئی ہے۔ عوام کچھ حفاظتی اقدامات  اپنانے اور بیشتر حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کے گروہوں میں شریک ہونے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر وائرس کی وبا سے مذہبی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

فلپائن ایک کیتھولک مسیحی عقیدے کا ماننے والا ملک ہے۔ اس کے دارالحکومت منیلا سمیت دیگر شہروں میں گرجا گھر ذوق و شوق سے عبادت کرنے سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ چینی کورونا وائرس کی فلپائن میں موجودگی ہے۔ گرجا گھروں کے پادری اس وبا سے پریشان ہیں کیونکہ اْن کا واعظ سننے والے افراد مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔فلپائنی گرجا گھروں میں مقدس پانی زیادہ مقدار میں بھی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ اس کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے عبادت گزار وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔ اسی طرح مختلف جالیوں اور خاص طور پر اعتراف گناہ کے کمروں میں بھی کپڑا لٹکا دیا گیا ہے تا کہ مسیحی افراد اور پادریوں میں میل ملاپ محدود رہے۔چین کے خصوصی انتظامی علاقے ہانگ کانگ کے سب سے سینئر اور سرکردہ پادری کارڈینل ہون ٹونگ نے گرجا گھروں میں عبادات کو معطل کرنے کا حکم انتیس جنوری سے جاری کر رکھا ہے۔ کارڈینل ٹونگ نے اپنے مسیحی عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ چرچ میں آنے کے بجائے آن لائن سروس کو گھر بیٹھ کر فالو کریں۔ ہانگ کانگ میں پچاس سے زائد باشندے کورونا وائرس کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ چین سے باہر ہونے والی چار ہلاکتوں میں ایک ہانگ کانگ میں ہوئی تھی۔مشرقی بعید کے کئی ممالک کی اکثریتی آبادی وہاں کے روایتی بدھ مت کو مانتی ہے۔

جاپان کے بدھ عقیدت مند بھی اب اپنے ٹیمپل میں جانے سے گریز کے رویے کو اپنا چکے ہیں۔ مختلف حفاظتی اقدامات نے مذہبی سرگرمیوں کو شدید انداز میں متاثر کر رکھا ہے۔ جاپان کی شنتو آبادی بھی اپنے پیشواؤں کی مزاروں پر جانے سے اجتناب کر رہی ہے۔ شنتو مزاروں پر غیر ملکی سیاحوں کی آمد بھی بہت کم ہو چکی ہے۔تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے بدھ مت کے مقبول پگوڈا کا علاقہ واٹ پھو ہے۔ اس علاقے میں واقع بدھ ٹیمپل کمپلیکس عقیدت مندوں اور سیاحوں سے بھرا رہتا تھا لیکن ویرانی بڑھتی جا رہی ہے۔ لوگوں کی آمد انتہائی کم ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کمپلیکس میں آرام کرنے کی صورت میں مہاتما بدھ کاایک بڑا مجسمہ رکھا ہوا ہے۔ واٹ پھو کے ٹیمپل میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ آیا کرتے تھے لیکن اب مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی بھی ہجوم میں جانے سے گریز کرنے پر عمل پیرا ہیں۔مشرقی بعید کے ایک اور ملک جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں بھی ایک پروٹیسٹنٹ گرجا گھر کے دروازے عبادت گزاروں پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اسی چرچ میں عبادت میں شریک ایک مقامی باشندے میں وائرس کی وبا تشخیص کی گئی تھی۔ کوریائی پروٹیسٹنٹ گرجا گھروں میں جراثیم کش اسپرے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریائی کیتھولک آبادی کو بھی ایسی صورت حال کا سامنا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں کوروناوائرس سے 29 اموات،1071 متاثر، کورونا پوری دنیا میں 34,512 جانیں تلف،723,962 متاثرین

پوری دنیا کے زیادہ تر (اب تک 185) ممالک میں کرونا وائرس (کووڈ-19) کی وبا تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور اس کے متاثرین سے پوری دنیا میں اب تک34,512لوگوں کی موت ہوچکی ہے جبکہ تقریباً723,962لوگ اس سے متاثر ہیں -

اٹلی: کورونا پازیٹو مریضوں کا علاج کر رہے 51 ڈاکٹروں کی موت

کورونا وائرس نے اٹلی میں اپنا قہر سب سے زیادہ برپا کر رکھا ہے۔ مہلوکین کی تعداد اٹلی میں چین سے بہت زیادہ ہو چکی ہے اور متاثرین کی تعداد بھی یہاں اتنی زیادہ ہے کہ ڈاکٹروں کو علاج کرنے میں کافی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات: مدت ختم ہو جانے والے اقاموں میں 3 ماہ کی توسیع کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات میں کابینہ نے متعدد نئے فیصلوں کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلے ملک میں مختلف سیکٹروں کو کرونا وائرس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں ، غیر ملکی مقیمین اور امارات کا دورہ کرنے والوں کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔