کوئی ملک طاقت کے ذریعے دوسرے ملک کی سرحدیں تبدیل نہیں کر سکتا: امریکی نائب وزیر خارجہ

Source: S.O. News Service | Published on 11th January 2022, 11:54 AM | عالمی خبریں |

جنیوا، 11؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی)  جنیوا میں امریکہ اور روس کے درمیان مذاکرات کسی اہم پیش رفت کا اعلان کیے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔ امریکہ کی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی ریابکوف کے درمیان سوئس شہر میں کوئی ساڑھے سات گھنٹے تک بات چیت اور مشاورت جاری رہی۔

اس ملاقات میں ماسکو کی یوکرین پر حملے کی دھمکی پر کشیدگی بڑھنے کے بعد فوجی حکام بھی موجود تھے۔ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کی قیادت میں واشنگٹن اور یورپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے اس دھمکی پرعمل کیا تو اس کے شدید منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ اس وقت دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد پرتعینات ہیں مگر ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرین پر فوجی چڑھائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکہ کی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین نے اجلاس کے بعد ایک کال میں کہا کہ ’’کوئی ملک طاقت کے ذریعے کسی دوسرے ملک کی سرحدوں کو تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی خارجہ پالیسی کی شرائط طے کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو اپنے اتحادوں کے انتخاب سے منع کرسکتا ہے‘‘۔

اگرچہ امریکی حکام نے کہا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات ’’تزویراتی سکیورٹی ڈائیلاگ‘‘کا تسلسل ہیں۔یہ عمل گذشتہ موسم گرما میں امریکی صدرجو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میرپوتین کے درمیان شروع ہوا تھا لیکن حالیہ بات چیت بنیادی طور پر یوکرین کے بحران پرمرکوز تھی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا روس نے یوکرین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے منصوبے کا کوئی جواب دیا ہے؟ شرمین نے کہا:’’مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس کا جواب جانتے ہیں۔ ہم نے یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ تعمیری، نتیجہ خیزاور کامیاب سفارت کاری کےبغیرکچھ ہونا بہت مشکل ہے‘‘۔

ان مذاکرات سے قبل روس نے مطالبات کی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں اس بات کی ضمانت طلب کی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا لیکن امریکہ نے سخت ردعمل جاری کیا اور وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس کے کچھ مطالبات مطلق ’نان اسٹارٹرز‘‘ہیں۔یعنی ان پر کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ نیٹو نے بھی یہ کہا کہ خودمختار فیصلے کرنا ہر ملک پر منحصر ہے۔اس کے باوجود بلنکن نے کہا کہ آگے بڑھنے کا بہترین راستہ بات چیت اور بحران کا سفارتی حل ہے۔

وینڈی شرمین نے بتایا کہ ’’ہم نے مذاکرات میں بہت سے خیالات پیش کیے ہیں جہاں ہمارے دونوں ممالک باہمی سلامتی کے مفاد میں اقدامات کرسکتے ہیں،یہ ہمارے مفاد میں ہوں گے اور تزویراتی استحکام کو بہتر بنائیں گے‘‘۔

امریکہ نے روس کے خدشات کو کم کرنے کے لیے بعض تجاویزپیش کی ہیں۔ان میں مشرقی یورپ میں روسی سرحدوں کے قریب امریکی اور نیٹو فوجی مشقوں کو محدود کرنا شامل ہے۔امریکی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ یوکرین میں مخصوص میزائل نظام کی موجودگی پر بھی تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک روس اورچین کی جانب سے امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات کو درپیش سب سے اہم مسائل وخطرات پرتوجہ مرکوز کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سعودی حکومت کا ایسا اصول جس کے سبب 10 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں نے ملازمت چھوڑ دی

  مملکت سعودی عرب میں 2018 کے آغاز سے 2021 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام تک 45 ماہ کے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد غیر ملکی ملازمین اپنی ملازمتیں چھوڑ آئے۔ سعودی میڈیا کے مطابق ملازمین کی یہ تعداد ملک میں غیر ملکی ملازمین کی کل تعداد کا 10 فیصد ہے۔

ایئر انڈیا نے کیا 5 جی معاملہ پر امریکہ کے لئے پروازوں میں تخفیف کا اعلان

ایئرانڈیا سمیت کئی بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں نے 5جی موبائل فون سروس اور پیچیدہ ہوا بازی ٹیکنالوجیز کے درمیان مداخلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کے باعث بدھ سے امریکہ کے لیے پروازیں بند کر دی ہیں۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس نے دہلی سے امریکہ میں سان فرانسسکو، شکاگو اور جے ایف کے ...

امیکرون کے بعد مزید نئے ویرینٹ کا امکان: عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہنوم گیبریئس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض ختم نہیں ہوا ہے اور اومیکرون کے بعد بھی نئی شکلیں سامنے آنے کا امکان ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ دلائل دیے جا رہے ہیں کہ ...

’کورونا سے شفایاب ہونے کے بعد بھی کئی لوگوں کو مہینوں تک آرام نہیں!‘ 40 فیصد افراد کو کسی نہ کسی مسئلہ کا سامنا

دنیا بھر میں کورونا سے شفایاب ہونے والے افراد پر کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس سے شفایاب ہونے کے بعد بھی مہینوں تک لوگوں کو آرام نہیں ملتا اور وہ کووڈ کے بعد کی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق نومبر 2021 میں گئی تحقیق کے بعد کہا گیا کہ دنیا ...

ہندوستان میں مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، کورونا کو روکنے کیلئے موجودہ اقدامات کافی، مکمل لاک ڈاؤن سے فائدے کم، نقصانات زیادہ:ڈبلیو ایچ او

ہندوستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود فی الحال مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے- یہ بات ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن(ڈبلیو ایچ او)نے کہی -