نربھیا معاملہ: قصوروار ونے اور مکیش کی كيوریٹو عرضی خارج، پھانسی کا راستہ صاف

Source: S.O. News Service | Published on 14th January 2020, 9:21 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،14/جنوری (ایس او نیوز/یو این آئی) سپریم کورٹ نے نربھیا اجتماعی عصمت دری اور قتل معاملے کے قصوروار ونے اور مکیش کمار کی کیوریٹو عرضیاں منگل کے روز خارج کر دیں۔ دو دیگر قصوروار پون اور اکشے نے کیوریٹو عرضیاں دائر نہیں کیں۔

جسٹس این وی رمن کے چیمبر میں ان دنوں کی عرضیوں پر سماعت ہو نی تھی، چند منٹوں کے اندر عرضیاں خارج کر دی گئیں۔ جسٹس رمن کی سربراہی والی پانچ رکنی اس بنچ میں جسٹس ارون مشرا، روہنگٹن فلی نریمن، جسٹس آر بھانو متی اور جسٹس اشوک بھوشن شامل تھے۔

عدالت اعظمیٰ نے اپنے مختصر حکم میں کہا ’’کیوریٹو عرضیوں کی سماعت کھلی عدالت میں کیے جانے کی عرضی خارج کی جاتی‘‘۔ عدالت نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی جانب سےگزشتہ 7 سات جنوری سے جاری بلیک وارنٹ ( ڈیتھ وارنٹ) پر روک کے متعلق درخواست کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ عرضی میں کوئی مضبوط بنیاد نظر نہیں آ تی ہے‘‘۔

بنچ نے کہا ’’ہم نے کیوریٹو عرضیوں اور متعلقہ دستاویزات کو پڑھا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ان درخواستوں میں روپا اشوک ہورا بنام اشوک ہورا اور دیگر کے معاملے میں اسی عدالت کے فیصلے میں طے شدہ ضابطوں کے تحت سوال نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ اس لئے ہم عرضیاں خارج کرتے ہیں ‘‘۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے اس معاملے کے چار قصورواروں ونے، مکیش، پون گپتا اور اکشے کے خلاف گزشتہ سات جنوری کو ڈیتھ وارنٹ جاری کیا تھا، جس کے بعد ونے اور مکیش نے عدالت میں کیوریٹو عرضیاں داخل کی تھی۔ دو دیگر قصورواروں نے ابھی تک کیورٹیو عرضیاں دائر نہیں کی ہیں۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ان چاروں کو پھانسی پر چڑھانے کے لئے 22 جنوری صبح سات بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔ پورے ملک کو دہلا دینے والے نربھیا اجتماعی عصمت اور قتل معاملے کے چار قصورواروں میں سے دو ونے اور مكیش نے سپریم کورٹ میں جمعرات کو کیوریٹو عرضیاں دائر کی تھی۔ مکیش کمار کی جانب سے ورندہ گوروور نے کیورٹیو عرضی دائر کی تھی، جبکہ ونے کی جانب سے سداشیو نے عرضی پر دستخط کیے تھے۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے چاروں قصوروں کو 22 جنوری کو صبح سات بجے تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کا حکم دیا تھا۔ فیصلے کے بعد سبھی قصورواروں نے سپریم کورٹ کے سامنے كيوریٹو عرضی دائر کرنے کی بات کہی تھی۔ نچلی عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ میں کہا تھا کہ اب کسی بھی قصوروار کی کوئی بھی درخواست کسی بھی عدالت میں یا صدر جمہوریہ کے سامنے زیر التوا نہیں ہے۔ تمام قصورواروں کی نظر ثانی عرضیاں عدالت نے مسترد کر دی تھی۔ استغاثہ نے عدالت سے ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کی اپیل کرتے ہو ئے کہا تھا کہ ’’ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے اور تعمیل کرنے کے درمیان قصور وار کیوریٹو عرضی دائر کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں‘‘۔

نربھیا کے ساتھ 16 دسمبر 2012 کو اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی اور اسے بری طرح زخمی کرنے کے بعد سڑک پر پھینک دیا گیا تھا، بعد میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں چھ ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں ایک نابالغ ملزم بھی تھا۔ اسے تین سال کے لئے اصلاح گھرمیں رکھا گیا تھا، جہاں سے وہ رہا ہو چکا ہے۔ ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں پھانسی لگالی تھی، جبکہ باقی چار ملزمان ونے، پون گپتا، مکیش کمار اور اکشے کمار کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، جسے دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

متھرا : کرشن مندر کے لئے مسجد کے انہدام کا اعلان کرنے والے دیو مراری کے خلاف ایف آئی آر

 ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد فیصلہ مندر کے حق میں آنے کے بعد سے ایک طبقہ کے حوصلہ بلند نظر آ رہے ہیں اور اب ان کی نظریں ملک کی دیگر ان مساجد پر مرکوز ہیں جہاں تنازعہ کھڑا ہوتا رہا ہے۔

یوپی میں نظم و نسق کی حالت کافی خراب: مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے اترپردیش میں نظم ونسق پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جرائم پر کنٹرول اور نظم ونسق کے معاملے میں سابقہ سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور برسراقتدار بی جے پی میں اب کوئی فرق نہیں رہ گیا ہے۔

دبئی میں ایک سواری نے ایک شخص کو رونڈ ڈالا؛ مہلوک ایشیائی شخص کی شناخت ہنوز نہیں ہوپائی؛ پولس نے عوام سے کی تعاون کی اپیل

یہاں ایک سواری کی ٹکر میں ایک شخص ہلاک ہوگیا مگر اُس شخص کی شناخت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے اور یہ کون ہے، کس ملک یا کس  شہر سے ہے کچھ پتہ نہیں چل پایا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ یہ ایشیاء کے  کسی ملک سے تعلق رکھتا ہے۔