لوگ ہوا-پانی سے مر رہے ہیں، پھانسی کی کیا ضرورت! نربھیا معاملہ کے قصوروار کی دلیل

Source: S.O. News Service | Published on 10th December 2019, 8:56 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،10/دسمبر(ایس او نیوز/یو این آئی) راجدھانی دہلی کے نربھیا اجتماعی آبروریزی سانحہ کے مجرم اکشے نے سپریم کورٹ میں منگل کو نظر ثانی کی عرضی داخل کی۔ اکشے نے اپنے وکیل اے پی سنگھ نے ذریعے نظر ثانی عرضی داخل کی ہے۔ سزائے موت پانے والے اکشے نے نظرثانی کی درخواست میں کہا ہے کہ دہلی کے لوگ ہوا اور پانی کی آلودگی سے مر رہے ہیں، تو اسے پھانسی کیوں دی جا رہی ہے؟

اکشے کمار نے مزید کہا وید، پوران اور اُپ نشد میں ہزاروں سالوں تک جینے کا ذکر ہے، مذہبی کتابوں کے مطابق لوگ ستیوگ میں ہزاروں سال زندہ رہتے تھے لیکن اب کلجگ میں تو لوگ 50-60 سال میں خود ہی مر جاتے ہیں ایسے میں کسی کو پھانسی پر چڑھانے کی کیا ضرورت ہے!

ادھر، اکشے کے وکیل اے پی سنگھ نے عدالت کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت میں کہا، ’’اکشے غریب اور کمزور طبقے سے ہے اور اس کی طرف سے نظرثانی درخواست دائر کرنے میں ہوئی تاخیر کو موضوع نہیں بنایا جانا چاہئے‘‘۔

اے پی سنگھ نے کہا کہ ان کی کوشش بے گناہ کو بچانے کی ہے اور درخواست میں کئی حقائق پیش کئے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ نو جولائی 2018 کو ونے، پون اور مکیش کی نظر ثانی کی عرضیاں مسترد کر چکا ہے، لیکن اکشے نے ابھی تک نظر ثانی کی عرضی داخل نہیں کی تھی۔ اے پی سنگھ دیگر مجرمان پون اور ونے کے بھی وکیل ہیں۔

غور طلب ہے کہ 16 دسمبر 2012 کو نربھیا کو اجتماعی آبروریزی کے بعد سنگین حالت میں پھینک دیا گیا تھا۔ کئی دنوں کے علاج کے بعد انہیں ايرلفٹ کرکے سنگاپور کے ملکہ الزبتھ ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، لیکن اس کو بچایا نہ جا سکا اور انہوں نے وہیں دم توڑ دیا تھا۔

اس صورت میں چھ ملزم پکڑے گئے تھے، جس سے ایک نابالغ تھا اور اسے بچہ اصلاح گھر بھیج دیا گیا تھا، جہاں سے اس نے اپنی سزا پوری کر لی تھی، جبکہ ایک ملزم نے خود کشی کر لی تھی۔ باقی چاروں کو نچلی عدالت نے پھانسی کی سزا سنائی تھی، جسے دہلی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

یوم جمہوریہ کے موقع پر پس مرگ پدما وبھوشن ایوارڈ پانے والوں میں شامل ہیں اڈپی پیجاورمٹھ سوامی اور جارج فرنانڈیز

یوم جمہوریہ کے موقع پر مرکزی حکومت کی طرف سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو پدما بھوشن اور پدماوبھوشن جیسے اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ امسال جن شخصیات کو پس مرگ پدماوبھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اس میں پیجاور مٹھ کے سوامی اور سابق مرکزی وزیر ...

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

دہلی کے شاہین باغ میں لاکھوں مظاہرین نے منایا پورے جوش وخروش کے ساتھ یوم جمہوریہ؛ شہریت قانون کی سخت مخالفت

شہریت قانون کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں نے آج 26 جنوری کے موقع پر پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم جمہوریہ کی تقریب منائی اور لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں  شاہین باغ میں ہی ترنگا جھنڈا لہراتے ہوئے  ملک میں نئے انقلاب  کی جھلک دکھائی۔

شہریت قانون اور این آر سی ملک کے دلتوں، غریبوں اور پسماندہ طبقہ کے خلاف ہے؛ سیتامڑھی میں انسانی زنجیر کے ذریعے احتجاج

  سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے اب شہروں سے نکل کر گاوں اور دیہاتوں میں بھی پھیل چکے ہیں اور ملک کے تقریبا ہر علاقوں سے بڑے پیمانے پر ریلیاں اور احتجاج کئے جانے کی خبریں موصول ہورہی ہیں، اسی طرح ایک خبر بہار  کےضلع سیتامڑھی کے سونبر سا بلاک کے مہولیا ...

شہریت قانون کی مخالفت میں اب شیموگہ میں نظر آرہا ہے شاہین باغ ؛26 جنوری کی رات کو پبلک پارک میں عورتوں کا جم غفیر!

جیسے جیسے شہریت قانون کی مخالفت میں اُٹھنے والی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ اُتنی ہی تیزی کے ساتھ اُبھرتی نظر آرہی ہے، اب تازہ خبر ریاست کرناٹک کے شہر شموگہ سے سامنے آئی ہے جہاں 25 جنوری کی شام سے ہی  آر ایم نگر میں موجود پبلک پارک میں خواتین کی بھیڑ جمع ہونی شروع ...

جدوجہد کرنے والے نوجوان گاندھی جی کے عدم تشدد کے پیغام کو ہمیشہ یاد رکھیں: صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کا قوم کو پیغام

صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے جمہوریت کے لئے حکمراں اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو اہم قرار دیتے ہوئے عوام خاص طورپر نوجوانوں کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے عدم تشددے کے منتر کو ہمیشہ یاد رکھنے کی تلقین کی۔