کرناٹک میں لاک ڈاؤن نہیں مگر۔ سخت ضابطہ نافذ ، ریاست بھر میں جمعہ کی شب سے پیر کی صبح تک ویک اینڈ کرفیو، عبادت گاہیں بند

Source: S.O. News Service | Published on 21st April 2021, 11:44 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 20؍اپریل (ایس او نیوز) کرناٹک میں کورونا کی صورتحال میں دن بدن بگاڑ کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے سخت امتناعی احکامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا  ہے۔ 

گورنر واجو  بھائی والا  کی  صدارت میں ہوئے کل جماعتی اجلاس میں جہاں تمام سیاسی جماعتوں  نے لا ک ڈاؤن پر زور دیا، اس کے فوری بعد وزیر اعظم مودی نے جب قوم سے خطاب کرتے ہوئے لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا مشورہ دیا تو اسے مانتے  ہوئے حکومت کرناٹک نے لاک ڈاؤن  کے  بجائے سخت امتناعی احکامات دفعہ 144 کے تحت نافذ کرنے کا  اعلان کیاہے۔

اس کے ساتھ ہی گزشتہ 10 دن سے جاری رات کے کرفیو کی مدت میں توسیع کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب رات کا کرفیو 21 ؍اپریل کی شب 9 بجے سے صبح 6 بجے تک  کے لئے ہوگا۔ یہ احکامات 4 مئی تک نافذ رہیں گے۔ جمعہ کی شب 9 بجے سے پیر کی صبح 6 بجے تک ریاست میں ویک اینڈ کرفیو نافذ کیا جائے گا۔

ریاستی حکومت کی طرف  سے جاری گائڈلائنس کی تفصیلات میڈیا کو دیتے ہوئے چیف سکریٹری نے نئی پابندیوں کے تحت جن کو کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے اور جن کو بند رکھنے کہا گیا اُس کی تفصیلات مند درجہ ذیل ہے  ؛

ریاست بھر میں رات 9 بجے سے صبح 6 بجے تک نائٹ کرفیو 

  • جمعہ کی شب 9 بجے سے پیر کی صبح 6 بجے  تک ویک اینڈ کرفیو 
  • تمام مذہبی مقامات بشمول مندر، مسجد ، گرجا وغیرہ عوام کے لئے بند البتہ مساجد میں خدمت پر مامور عملہ مذہبی رسومات کسی باہر والے  کو شامل کئے بغیر انجام دے سکتا ہے۔ 
  • تعلیمی ادارے ، سنیما ہال، شاپنگ مال ، جم، اسٹیڈیم ، سوئمنگ پل، تھیٹر ، آڈیو یٹیوریم اور با ر بند رہیں گی۔ 
  • ریسٹوران اور ہوٹلوں میں صرف پارسل خدمات کی اجازت ہوگی۔ 
  • تعمیراتی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ صنعتی خدمات کو کوئی رکاوٹ نہیں۔ 
  • تجارتی سرگرمیوں کو محدود اجازت دی گئی ہے ۔ خردنی اشیا، شہری رسد نظام کے تحت آنے والی دکانیں ، پھلوں، ترکاریوں ، دودھ ، گوشت ، مچھلی اور جانوروں کا چارہ فروخت کرنے والی دکانوں کو کھلا رکھنے کی اجازت سماجی فاصلے کی پابندیوں کے ساتھ 
  • پھلوں ، ترکاریوں اور پھولوں کے ہول سیل بازاروں کو کھلے میدانوں میں منتقل کیا جائے گا۔ ان کی منتقلی 23 ؍ اپریل تک ہوجانی چاہئے۔ 
  • ہوٹلوں اور لاڈجنگ میں صرف مہمانوں کی خدمت کی اجازت ۔ 
  • شراب خانوں اور ریسورنٹ سے شراب صرف پارسل دی جاسکتی ہے۔ 
  • بینک انشورنس ، دفاتر ، اے ٹی ایم حسب معمول کام کریں گے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو حسب معمول کا م کرنے کی اجازت ۔ 
  • سرکاری اور نجی دفاتر ، ادارے اور تنظیمیں جنتی ضرورت ہے اتنے کم سے کم عملے کے ساتھ کام کرسکتے ہیں ۔ آئی ٹی کمپنیوں میں صرف ضروری عملے کو کام کرنے کی اجازت ہوگی، باقی عملہ  گھر سے کام کرسکتا ہے ۔عدالتوں کے کام کاج کا فیصلہ عدالتوں کا انتظامیہ کرے گا۔ پٹرول ، ڈیزل اور گیس اسٹیش حسب معمول کام کریں گے۔ 
  • ریاست بھر میں اور بین ریاستی مسافروں کی آمد و رفت ، محکمہ صحت کی طرف سے جاری ضوابط کی پابندی کے ساتھ برقرار رہے گی۔ سرکاری پرائیویٹ بسوں، میٹرو، ٹرین ٹیکسی اور آٹو رکشا میں سفر کی اجازت حسب معمول رہے گی۔ البتہ بسوں اور میکسی کیاب، ٹیمپو ٹراولر اور میٹرو میں مسافروں کی تعداد 50 فیصد تک محدود کردی گئی ہے۔ مال برداری پر کوئی روک نہیں ۔ 
  • شادی میں صرف 50 لوگوں کی شرکت کی اجازت ۔ آخری رسومات میں صرف 20 لوگ شر کت کرسکیں گے۔ 
  • ماسک استعمال نہ کرنے پر جرمانہ سختی سے وصول کیا جائے گا۔ سماجی فاصلے کی پابندی نہ کرنے پر دفعہ 144 کے تحت فوجداری مقدمہ۔ 

ویک اینڈ کرفیوں کی پابندیاں

  • ویک اینڈ کرفیو کےدوران سوائے ہنگامی خدمات سے جڑے افراد کے تمام افراد کی نقل و حمل پر مکمل پابندی رہے گی۔ 
  • گھروں کے آس پاس خوردنی اشیا کی دکانوں کو صبح 6 بجے سے 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ البتہ ہوم ڈیلیوری پر کوئی پابندی  نہیں رہے گی۔ 
  • ہوٹلوں کو پارسل خدمات کی اجازت ہوگی۔  

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: شمالی کینرا میں کووڈ وباء کا بدلتا منظر نامہ : سب سے آخری پوزیشن والا ضلع پہنچ گیا سب سے آگے ؛ کون ہے ذمہ دار ؟

کورونا کی دوسری لہر جب ساری ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی تو ضلع شمالی کینرا پوزیٹیو معاملات میں گزشتہ لہر کے دوران سب سے آخری پوزیشن پر تھا۔ لیکن پچھلے دو تین دنوں سے بڑھتے ہوئے پوزیٹیو اورایکٹیو معاملات کی وجہ سے اب یہ ضلع ریاست میں سب سے  اوپری درجہ میں پہنچ گیا ہے۔ بس ...

کورونا کرفیو کی وجہ سے لاری ڈرائیوروں کو سفرکے دوران کھانے پینے اور لاری کی مرمت کا مسئلہ درپیش:ڈرائیور، کلینر اور گیاریج والوں کی زندگی پنکچر

کورونا وائرس پر لگام لگانے کے لئے حکومتوں کی طرف سے  نافذ کئے گئے سخت کرفیو کی وجہ سے ہوٹل ، ڈھابے ،گیاریج ، پنکچر کی دکانیں وغیرہ بند ہیں ، جس کے نتیجے میں  ضروری اشیاء سپلائی کرنےوالی لاریوں کے ڈرائیوروں کو سفر کے دوران میں کئی مشکلات درپیش ہیں۔

بھٹکل سمیت ساحلی کرناٹکا میں 'ٹاوکٹے' طوفان کا اثر؛ طوفانی ہواوں کے ساتھ جاری ہے بارش؛ کئی مکانوں کی چھتیں اُڑ گئیں، بھٹکل میں ایک کی موت

'ٹاوکٹے' طوفان جس کے تعلق سے محکمہ موسمیات نے پیشگی  اطلاع دی تھی کہ    یہ طوفان  سنیچر کو کرناٹکا اور مہاراشٹرا کے ساحلوں سے ٹکرارہا ہے،   اس اعلان کے عین مطابق  آج سنیچر صبح سے  بھٹکل سمیت اُترکنڑا اور پڑوسی اضلاع اُڈپی اور دکشن کنڑا میں طوفانی ہواوں کےساتھ بارش جاری ہے جس ...

لوگ کورونا سے مرے جارہے ہیں اور ریاستی حکومت کو لگی ہے ذات پات کے اعداد و شمار کی فکر

پورے ملک کی طرح ریاست میں بھی کورونا کا قہر جاری ہے ۔ عوام آکسیجن، اسپتال میں بستر اور دوائیوں کی کمی سے تڑپ رہے ہیں۔ لیکن ریاستی حکومت کو الیکشن اور ذات پات کی تفصیلات کی فکر لاحق ہوگئی ہے تاکہ آئندہ انتخاب کے لئے تیاریاں مکمل کی جائیں۔

کورونا پر قابو پانے میں ایڈی یورپا مکمل طورپر ناکام: ایم بی پاٹل

ریاست میں کورونا وباء سے نمٹنے میں ایڈی یورپا کی بی جے پی حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔سابق ریاستی وزیر و مقامی بی ایل ڈی ای میڈیکل کالج کے سربراہ ایم بی پاٹل نے آج یہاں ایک اخباری کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر یہ بات بتائی۔

کرناٹک میں 120ٹن لکویڈ آکسیجن کی آمد

ریاست کرناٹک میں میڈیکل آکسیجن کی قلت ہنوز جاری ہے۔ حکومت آکسیجن منگوانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کا دعویٰ کررہی ہے۔ ریاست کی راجدھانی بنگلورو میں پہلی آکسیجن ایکسپریس کی آمد ہوئی۔