کورونا کی احتیاطی تدابیر میں ‌کوئی مستثنیٰ ‌نہیں، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے قائم کی مثال

Source: S.O. News Service | Published on 17th May 2020, 1:56 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ویلنگٹن،17؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کورونا وائرس کے حوالے سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پرعمل درآمد میں اپنی ذات سے آغاز کرکے عوام کے لیے ایک عمدہ مثال قائم کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے خطرے کے پیش نظر سماجی دوری کے اصول پر وزیراعظم اور ایک عام آدمی میں کوئی فرق نہیں۔ انہوں نے ایک کیفے میں اس لیے داخل ہونے سے انکار کردیا کیونکہ اس میں پہلے ہی گنجائش کے مطابق گاہک پورے تھے اور مزید گاہکوں کی آمد سماجی دوری کے اصول کو متاثر کرسکتی تھی۔

تفصیلات میں نیوز لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن اور ان کے منگیتر، کلارک گیفورڈ دارالحکومت ویلنگٹن کے اولیو کیفے میں ہفتے کے روز ناشتہ کرنے آئے مگر ان کی آمد سے پہلے ہی اس کیفے میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس موقعے پر وزیراعظم نے دیکھا کہ کیفے میں سماجی دورے کے فاصلے پرعمل درآمد کے ساتھ گاہک پہلے سے موجود ہیں اور مزید کی گنجائش نہیں تو وہ باہر ہی سے چلی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سماجی دوری کے اصول پرعمل درآمد میں وزیراعظم اور عام شہری میں کوئی فرق نہیں۔

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں حکومت نے تین روز قبل ہوٹل اور کیفے مشروط طور پرکھولنے کا اعلان کیا تھا۔ ساتھ ہی حکومت نے کورونا کے خطرات کے پیش نظر سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کا کیفے میں داخل ہونے سے انکار سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔ ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ "مائی گاڈ !جیسنڈا آرڈرن نے صرف اولیو کیفے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو گاہکوں کی تعداد پوری دیکھ کر واپس چلی گئیں اور منگیتر سے کہا کہ یہاں جگہ پہلے ہی پُر ہوچکی ہے۔ ٹوئٹر کے ایک اور صارف جونانا نے کہا کہ یہ میں نے اب تک کی سب سے بہترین ٹوئٹس میں سے ایک ہے۔ مجھے یہ پسند ہے۔ میں نیوزی لینڈ سے محبت کرتا ہوں۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکہ: ٹرمپ کی فوج تعیناتی کی دھمکی پر فسادات میں شدت، ایئرفورس بیس میں فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملک میں فوج تعینات کرنے کی دھمکی پر امریکہ بھر میں فسادات میں مزید شدت آگئی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی موت کو قتل قراردیدیا گیا جبکہ ریاست ڈکوٹا میں ایئر فورس بیس میں فائرنگ کے نتیجہ میں 2 اہلکار ہلاک ہوگئے ۔

پوری دنیا میں کورونا کا قہر جاری، متاثرین کی تعداد 63 لاکھ سے تجاوز

پوری دنیا میں عالمی وبا کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اور ہر روز متاثرین اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق کورونا متاثرین کی تعداد 63لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ اس وبا سے اب تک 3.73لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔

کرناٹک میں کورونا کے 24 گھنٹوں میں 267 نئے معاملات ، داونگیرے میں مریض کی موت سے مرنے والوں کی تعداد 53

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران منگل کی شام 5 بجے تک ریاست میں 267 نئے کو رونا مریض پائے جانے سے ریاست میں کووڈ۔19 سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2494 تک پہنچ گئی اور داونگیرے میں مزید ایک مریض کے ریاست میں فوت ہونے سے ریاست میں اس وبائ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 53 ہوگئی۔

یکم جولائی سے کرناٹک میں اسکول کھل جائیں گے۔کلاسس شروع کرنے کے لئے مرحلہ وار تاریخوں کا اعلان

کرناٹک حکومت نے ریاست بھر میں یکم جولائی سے مرحلہ وار پرائمری اور سکینڈری اسکول کھول دینے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں - وزیر برائے بنیادی و ثانوی تعلیم سریش کمار کی صدارت میں محکمہ تعلیمات عامہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی میٹنگ کے بعد کمشنر برائے تعلیمات عامہ کی جانب سے اسکولس ...

ہوناور: لاری میں بے ہوش پڑے ہوئے ڈرائیور کو پولیس نے عوام کے تعاون سے پہنچایا اسپتال، کورونا کا شبہ

ہوناور کے شراوتی سرکل پر کھڑی ایک لاری  میں ڈرائیور بے  ہوش پائے جانے کےبعد پولس نے اسے مقامی لوگوں کی مدد سے اسپتال پہنچادیا ہے۔ عوام کو شبہ ہے کہ اس پر کورونا وائرس کا حملہ ہوا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران جان گنوا نے والے مہاجر مزدوروں کے اہل خانہ کو 25لاکھ روپئے معاوضہ دینے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

   سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا  کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے   مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بغیر تیاری کے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام کرنے کی جگہ اور اپنے گھروں کو پیدل سفر کرنے والے جو مہاجر مزدور بھوک اور تھکن سے جان گنو ا چکے ہیں،  ان کے ...

کرناٹک میں ایک ہی دن 187 افراد کورونا پوزیٹیو، تین ہزار سے پار ہوا اکڑہ

ریاست کرناٹک میں پیر کے دن 187 افراد کورونا پوزیٹیو پائے گئے ، جس سے کل تعداد 3408 ہوگئی ۔ 2026 افراد زیر علاج ہیں۔ 110 مریض شفایاب ہو کر رخصت ہوئے ۔ اب تک رخصت ہونے والوں کی تعداد 1328 ہوگئی ہے، 52 ؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔