اُدے پور سے کانگریس کے نئے سفر کا آغاز ۔۔۔۔۔ از:ظفر آغا

Source: S.O. News Service | Published on 8th May 2022, 8:01 PM | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی، 8؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) آخر کانگریس پارٹی نے اُدے پور کے سفر کے لئے کمر باندھ لی۔ دیر آئے درست آئے۔ یہ سفر بہت پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ کانگریس کو خود اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اس قسم کے کیمپ کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب جب کانگریس مشکل حالات میں پھنسی ہے تب تب کانگریس نے ایسے کیمپ منعقد کر کے پارٹی کے مسائل حل کئے ہیں۔ مثلاً 2001 کے چناؤ سے قبل پارٹی نے شملہ اور پنچ گنی میں اسی طرح کی میٹنگ کی تھی اور پارٹی کے لئے آگے کا راستہ طے کیا تھا۔ ہم کو یہ بات پسند ہو یا نہ ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ نریندر مودی نے سن 2014 سے اب تک کی قلیل مدت میں ہندوستان کو سیاسی اور سماجی سطح پر بدل دیا ہے۔ آج ہم ایک ہندو راشٹر میں جی رہے ہیں۔ یہ آزادی کے بعد پہلی بار ایک نئی سیاسی حقیقت ہے جس کا کانگریس سمیت تمام بی جے پی مخالف پارٹیوں کو سامنا ہے۔ ظاہر ہے کہ مودی کے اس نئے ہندوستان میں کانگریس کو نظریاتی طور پر ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔آج کانگریس کا سیکولر اور سوشلسٹ ہندوستان کا نظریہ دھومل پڑ چکا ہے۔ ان حالات میں کانگریس کرے تو کیا کرے!

ادے پور میں کانگریس کو سیاسی سطح پر سب سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ آخر اب پارٹی کی نظریاتی لائن کیا ہو! اس سوال کے دو جواب ہیں، پہلا کانگریس بھی ہندوتوا کے آگے گھٹنے ٹیک کر خود بھی ہندو رنگ میں رنگ جائے، جیسا کہ عام پارٹیاں کر رہی ہیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ کانگریس نہرو اور گاندھی کے سیکولر اور گنگا جمنی ہندوستان کے راستے پر چلتی رہے اور بی جے پی کے ہندوتوا کے نظریہ کے خلاف جدوجہد کر کے اپنی پہچان بنائے۔ کانگریس میں اندرون خانہ ایک گروہ ہے جو پارٹی پر ’سافٹ ہندوتوا‘ لائن پر چلنے کے لئےدباؤ ڈالتا ہے۔ سافٹ ہندوتوا لائن کے معنی یہ ہیں کہ کانگریس بھی بی جے پی کی بی ٹیم بن جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ لائن پارٹی کو چناؤ جتا سکتی ہے، ہرگز نہیں۔ کیونکہ جس کو ہندوتوا پر ووٹ ڈالنا ہے وہ سافٹ ہندو پارٹی کو کیوں ووٹ ڈالے گا۔ کانگریس یہ تجربہ سن 1980 کی دہائی میں کر چکی ہے اور سن 1989 کا لوک سبھا چناؤ اسی لائن پر چل کر ہار چکی ہے۔

کانگریس کانگریس ہے۔ اس کا نظریہ ہندوستان کی تہذیبی قدروں اور سیاسی تجربات کی بنا پر گاندھی کی قیادت میں رنگارنگ ہندوستان کے قیام کے لئے سیکولر بنیادوں پر طے ہوا تھا۔ نظریاتی سطح پر اگر کانگریس اس راستہ سے ہٹتی ہے تو اپنی پہچان بھی کھو بیٹھے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ملک میں ہندوتوا کا سیلاب ہے۔ یہ کانگریس کے لئے سخت حالات کا وقت ہے۔ ان حالات میں کانگریس کے لئے اپنے نظریات پر قائم رہنا ایک سخت امتحان ہے۔ اپنی سیکولر لائن کو عوام کے سامنے کس طور پر پیش کیا جائے کہ وہ عوامی سطح پر مقبول بھی ہو، یہ فیصلہ لینے اور سوچنے کا وقت ضرور ہے۔ ادے پور میں یہ بات اور یہ مسئلہ آپسی بحث و مباحثہ سے طے ہونی چاہئے کہ کانگریس سافٹ ہندوتوا کا راستہ نہیں اپنا سکتی ہے، لیکن وہ اس مسئلہ پر مصلحتاً ابھی خاموش رہے گی یا کس طرح وہ عوام کے سامنے اپنا نظریہ پیش کرے گی۔

یہ تو رہا سیاسی اور نظریاتی مسئلہ۔ دوسرا سب سے بڑا مسئلہ کانگریس کے لئے تنظیم کا ہے۔ اس وقت پارٹی ریاستوں میں تنظیمی سطح پر کھوکھلی ہو چکی ہے۔ کسی بھی پارٹی کی تنظیم کاری ایک طویل راستہ ہے۔ اگلے لوک سبھا چناؤ سن 2024 میں ہونے ہیں۔ اس قلیل مدت میں ظاہر ہے کہ پارٹی کی تنظیم کاری نہیں ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں کیا ہو! یہ مسئلہ پارٹی کے سامنے سن 2004 کے لوک سبھا چناؤ سے قبل بھی تھا۔ اس وقت چناؤ سے قبل شملہ میں پارٹی نے جو فیصلہ کیا تھا وہی فیصلہ اس وقت بھی مناسب ہوگا۔ یعنی بی جے پی مخالف پارٹیاں کسی ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو کر بی جے پی مخالف ووٹ کے آپس میں بنٹنے سے روکیں اور آپسی اتحاد کے ساتھ چناؤ لڑیں۔ اس میں کانگریس اور دیگر صوبائی بی جے پی مخالف پارٹیوں کا فائدہ اور بقا دونوں ہی ہیں۔ اسی فیصلہ کے تحت سن 2004 میں چناؤ سے قبل یو پی اے کا قیام ہوا تھا اور یو پی اےنے اس وقت واجپئی جی کی قیادت والی بی جے پی کو شکست دی تھی۔ ایک بار پھر سے اسی تجربہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی جلد از جلد اپوزیشن کا کوئی ایک نیا پلیٹ فارم بنا کر بی جے پی مخالف ووٹ کو متحد کر کے اسے چناؤ میں شکست دی جائے۔

تیسرا سب سے بڑا مسئلہ کانگریس قیادت کا ہے۔ پارٹی کا اگلا صدر کون ہوگا یہ بات بھی ادے پور میں طے ہو جانی چاہئے۔ راہل گاندھی کو پھر پارٹی کی کمان سونپ دی جانی چاہئے۔ وہ پارٹی کے اندر تمام گروہوں کی مفاہمت کے ساتھ پارٹی چلائیں۔ یہ فیصلہ جلد از جلد ہو جانا چاہئے۔ اب پارٹی محض غور و فکر سے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ ایک ضروری عمل ہے اور اسے ادے پور میں پورا ہو جانا چاہئے۔ لیکن اس کے فوراً بعد پارٹی کو ادے پور میں ہونے والے فیصلوں کو عملی شکل دینی ہوگی۔ اس کے لئے جلد ہی پارٹی کا ایک کل ہند کنونشن ہونا چاہئے، جہاں راہل گاندھی صدر چن کر پارٹی کی نئی لائن اوپر سے نیچے تک ہر سطح پر پہنچا دینی چاہئے۔ اور بس پھر 2024 کے چناؤ کے لئے پارٹی کو اپوزیشن اتحاد کے ساتھ کمر بستہ ہو جانا چاہئے۔ اسی میں کانگریس اور ہندوستان دونوں کی بقا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بارہویں جماعت کے پولیٹکل سائنس نصاب سے گجرات فسادات سے متعلق واقعات کیا ہٹائے جارہے ہیں ؟ کیا اس باب کو ہٹانے سے تاریخ بدل جائے گی؟

12ویں جماعت میں پولیٹکل سائنس پڑھنے والے طلبا کو اب NCERTکی کتابوں میں 2002کے گجرات فسادات کے بارے میں کچھ نہیں ملے گا-27 فروری 2002کو ایودھیا سے لوٹ رہی سابرمتی ایکسپریس کے کوچ ایس 6میں گودھرا اسٹیشن پر آگ لگانے کا واقعہ ہوا تھا-

مہاراشٹر میں آج بھی وہی آیا رام، گیا رام کا کھلا کھیل ۔۔۔۔۔ خصوصی رپورٹ : ظفر آغا

سنہ 1967 کا دور جس کو بھی یاد ہوگا اس کو ’آیا رام، گیا رام‘ بھی یاد ہوں گے۔ دراصل ان دنوں جس طرح مہاراشٹر حکومت کو گرانے کی کوشش ہو رہی ہے، اس پس منظر میں مجھے ’آیا رام، گیا رام‘ یاد آ گئے۔

اُٹھو اور ملک کو برباد کرنے والوں کا مقابلہ کرو۔۔۔۔۔۔از: نواب علی اختر

ہندوستان میں عرصہ دراز سے مسلمان اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ جیتے آئے ہیں لیکن افسوس گزشتہ کچھ سالوں میں جہاں مسلسل مسلمانوں پر منظم طور پر جانی و مالی حملے ہو رہے ہیں وہیں پیہم فکری و مذہبی طور پر بھی انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کانپور فساد: سنگ وخشت مقید اور سگ آزاد۔۔۔۔ از :اعظم شہاب

کانپور فساد معاملے میں یوگی حکومت اور ان کی پولیس کا ’کوئیک ایکشن‘ دیکھ کر ’دل گارڈن گارڈن‘ ہو اٹھا۔ کمال کی مستعدی ہے، واہ یوگی جی واہ! یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی یوپی پولیس ہے جوفائرنگ کی جگہ منھ سے ہی ٹھائیں ٹھائیں کر دیتی تھی اور وہ آواز کو سن کرملزمین فرار بھی ہوجاتے ...

مودی حکومت کے 8 سال اور گاندھی-پٹیل کا نظریہ۔۔۔۔۔ از: رام پنیانی

گزشتہ 30 مئی کو نریندر مودی نے بطور وزیر اعظم آٹھ سال پورے کر لیے۔ اس موقع پر حکومت کی کارگزاریوں اور ناکامیوں کے بارے میں کئی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ امت شاہ سے لے کر کئی بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈروں نے حکومت کی گزشتہ آٹھ سالوں کی حصولیابیوں کی تعریف کی۔

تقسیم کی  کوششوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ ہم آہنگی و خیرسگالی پر زوردینا ضروری : ملک کے موجودہ حالات پر کنڑا روزنامہ ’پرجاوانی ‘ کا اداریہ

ملک کے مختلف مقامات پر عبادت گاہوں کے متعلق جو  تنازعات پیدا کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں و ہ دراصل سماجی اور سیاسی تقسیم کا مقصد رکھتی ہیں۔ ایسی کوششوں کے پیچھے معاشرے میں ہنگامہ خیزی پیدا کرنے کامقصدکارفرما ہےتو ملک کے سکیولرنظام کو کمزور کرنے کا مقصد بھی اس میں شامل ہے۔