مودی حکومت کے خلاف کسانوں کی ملک گیر تحریک 9 اگست کو

Source: S.O. News Service | Published on 3rd August 2020, 11:14 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،3؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) آل انڈیا کسان اسٹرگل کوآرڈی نیشن کمیٹی (اے آئی کے ایس سی سی) نے زراعت سے متعلق تین آرڈی ننس جاری کیے جانے کے خلاف 9 اگست کو ملک گیر سطح پر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ کمیٹی کے ایگزیکٹیو گروپ کے رکن اور ’جے کسان آندولن‘ کے بانی یوگیندر یادو نے پیر کو یہاں جاری بیان میں کہا کہ مرکز کی مودی حکومت کورونا کے دور میں تین کسان مخالف آرڈی ننس لائی ہے جن کا اصل نام ’جمع خوری چالو کرو قانون، منڈی ختم کرو قانون اور کھیتی کمپنیوں کو سونپوقانون’ ہونا چاہیے کیونکہ ان آرڈی ننس کا یہی اصل مقصد ہے۔

یوگیندر یادو نے کہا کہ تاجر زرعی پیداوار خرید کر جمع کرکے اپنی من مرضی سے قیمت طے کرکے فروخت کرتا ہے جس سے کسان اور صارفین دونوں کو نقصان ہوتا ہے۔ اے پی ایم سی کی کمیوں کی وجہ سے کسانوں کا استحصال ہوتا ہے جسے دور کیا جاسکتا تھا لیکن کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے خرید کا حق نجی ہاتھوں میں دیا جارہا ہے۔ اس سے کسان اپنی پیداوار کی فروخت کا حق کھو دیگا۔ ٹھیکہ کھیتی قانون میں کہنے کو کسان کھیت کا مالک ہوگا لیکن کھیتی کرنے اور پیداوار کی فروخت کا حق کمپنی کو حاصل ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کھیتی کسانی کے بنیادی نظام کو تبدیل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ اب پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی تحریک جیسی تحریک کو نو اگست کو ملک گیر سطح پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

سماج وادی پارٹی بی جے پی حکومت کی منمانی کے خلاف گورنر کو آج سونپے گی میمورنڈم: اکھلیش

سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی منمانی اور جابرانہ پالیسیوں کے خلاف 21 ستمبر یعنی آج سماج وادی پارٹی سبھی اضلاع میں تحصیل سطح پر ضلع انتظامیہ کے ذریعہ گورنر کو ایک میمو رنڈم پیش کرے گی۔

بی جے پی کے رویہ سے پارلیمانی جمہوریت شرمسار: کانگریس

کانگریس نے کہا کہ راجیہ سبھا میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے جس طرح کا سلوک کیا ہے اس سے ملک کی پارلیمانی جمہوریت شرمسار ہوئی ہے اور ڈپٹی چیرمین ہری ونش نارائن سنگھ نے اراکین کے جذبات کو کچل کر ایوان کی کارروائی کو انجام دیا۔