برسات کے موسم میں بھٹکل سے کاراور تک نیشنل ہائی وے توسیعی منصوبے سے عوام کو پریشانی کا اندیشہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 15th May 2019, 5:28 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 15/مئی (ایس او نیوز) بھٹکل سے کاروار ماجالی تک نیشنل ہائی وے 66 کا توسیعی کام جس انداز سے چل رہا ہے اس سے عوام کے اندرکافی بے چینی پائی جاتی ہے۔ عوا م کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار کمپنی آئی آر بی کو تعمیری کام صحیح ڈھنگ سے انجام دینا چاہیے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ مانسون شروع ہونے کے بعد عام لوگوں کو اور سڑک پر سفر کرنے والوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنے کی نوبت نہ آئے۔

ہائی وے کی بدتر حالت:    فی الحال تعمیری کام کی جو صورتحال ہے اس کے مطابق ٹھیکے دار کمپنی کی طرف سے کہیں پہاڑ وں کی کھدائی ہورہی ہے اور کہیں بیچ سڑک پر بڑے بڑے گڈھے پڑے ہوئے ہیں۔ کہیں مٹی اور پتھروں کے ڈھیر لگے ہیں۔ مختلف مقامات پر سڑک کو موڑنے کے بورڈ لگے ہوئے ہیں اور یہ بورڈ چند دنوں میں دوسرے مقام پر منتقل کیے جاتے ہیں۔اس سے موٹر گاڑیاں چلانے والوں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور برسات کے موسم میں بڑے حادثات ہونے کے امکانا ت بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ ایسے میں اگر کوئی بڑا حادثہ ہوجاتا ہے تو پھر اس کے لئے ٹھیکیدار کمپنی ہی پوری طرح ذمہ دار ہوگی۔

 ہوناور میں کٹے ہوئے پہاڑ سے خطرہ:    برسات کا موسم شروع ہونے میں ابھی کچھ ہی دن باقی ہیں، او رایسے میں ٹھیکے دار کمپنی آئی آر بی نے  ہوناور کے چرچ کے قریب ایک پہاڑ کو کاٹنے کا م شروع کردیا ہے۔گزشتہ سا ل برسات کی وجہ سے کٹے ہوئے پہاڑ سے زمین کھسکنے کا واقعہ یہاں پیش آ چکا ہے۔ جس کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے لوہے کی سلاخیں اور جالیوں کا استعمال کرتے ہوئے بڑی بھاری مشینوں کے ذریعے کانکریٹ کی دیوار کھڑی کردی گئی تھی۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ برسات کے موسم میں اگر سو فٹ بلندی سے پہاڑی کی زمین کھسکنے لگے گی تو اسے روکنے کا کیا انتظام ممکن ہوگا۔یہاں پر ٹھیکے دار کمپنی نے اپنے لئے جتنا ضروری ہے اتنا حصہ پہاڑ کا کاٹ لیا ہے۔ لیکن پہاڑ کی  چوٹی پر موجود دو بڑے بڑے تودوں کو یوں ہی چھوڑدیا ہے۔کمپنی کی یہ بے پروائی برسات کے موسم میں بڑے جان لیواحادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

احتیاطی تدبیر ضروری ہے:    خیال رہے کہ گزشتہ سال ڈپٹی کمشنر نے ٹھیکیدارکمپنی کو مانسون کے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے احکامات جاری کردئے تھے۔ اس کے باوجود من چاہے انداز میں پہاڑیوں کی کھدائی کرنے کی وجہ سے کمٹہ میں پہاڑی تودہ گرنے اور جانی نقصان ہونے کا واقعہ پیش آیا تھا۔حالانکہ برسات کے موسم میں تعمیری کام روک دیا جاتاہے، لیکن مٹی کے ڈھیر، تعمیراتی سامان، گڈھے اور بغیر اشارتی بورڈ کے سڑک پر موجود موڑ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔اس لئے اس مرتبہ بھی ضلع انتظامیہ کو وقت سے پہلے اس پر دھیان دینا ہوگا۔ٹھیکے دار کمپنی کے ملازمین، انجینئرز اور افسران اس موسم میں موقع پر موجود نہیں رہتے۔ آج بھی نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے طرف سے کوئی بھی انجینئر تعمیراتی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کسی بھی مقام پر نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں جہاں پہاڑوں کو توڑنے اور کھدائی کا کام ہوا ہے ان مقامات کا بھرپور جائزہ لیا جائے اور کسی بھی ناخوشگوار حادثے سے بچنے کے لئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

ایک نظر اس پر بھی

اُترکنڑا سے چھٹی مرتبہ جیت درج کرنے والے اننت کمار ہیگڑے کی جیت کا فرق ریاست میں سب سے زیادہ؛ اسنوٹیکر کو سب سے زیادہ ووٹ بھٹکل میں حاصل ہوئے

پارلیمانی انتخابات میں شمالی کینرا کے بی جے پی امیدوار اننت کمار ہیگڈے نے پوری ریاست کرناٹک میں سب سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے 479649 ووٹوں کی اکثریت سے کانگریس  جے ڈی ایس مشترکہ اُمیدور  آنند اسنوٹیکر  کو شکست دی ۔

ریاست میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے سیاسی لیڈروں کی ذلت بھری شکست

ریاست کرناٹکا میں انتخابی میدان میں کبھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والے چند نامورسیاسی لیڈران جیسے ملیکا ارجن کھرگے، دیوے گوڈا، ویرپا موئیلی اورکے ایچ منی اَپا وغیرہ کو اس مرتبہ پارلیمانی انتخاب میں انتہائی ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ 

منگلورو:کلاس میں اسکارف پہننے پر سینٹ ایگنیس کالج نے طالبہ کو دیا ٹرانسفر سرٹفکیٹ۔طالبہ نے ظاہر کیاہائی کورٹ سے رجوع ہونے اور احتجاجی مظاہرے کاارادہ

کلاس روم میں اسکارف پہن کر حاضر رہنے کی پاداش میں منگلورومیں واقع سینٹ ایگنیس کالج نے پی یو سی سال دوم کی طالبہ فاطمہ فضیلا کو ٹرانسفر سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کالج سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہے۔

بھٹکل میں رمضان باکڑہ کی نیلامی؛ 40 باکڑوں کے لئے میونسپالٹی کو 1126 درخواستیں

رمضان کے آخری عشرہ کے لئے بھٹکل  میں لگنے والے رمضان باکڑہ کی آج میونسپالٹی کی جانب سے  نیلامی کی گئی۔ بتایا گیاہے کہ 40 باکڑوں کی نیلامی کے لئے  میونسپالٹی کے جملہ 1126 درخواست فارمس فروخت ہوئے تھے۔