کاروار: موسلادھار بارش اور سیلاب کی وجہ سے نیشنل ہائے ویز کا رابطہ منقطع۔ گوگل پر جاری ہوا ہے نقشہ۔ فیس بک پر دستیاب ہے ریلیف سے متعلق ایپ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th August 2019, 12:40 PM | ساحلی خبریں |

کاروار 11/فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا، مہاراشٹرا اور کیرالہ میں موسلادھاربرسات اور سیلاب کی وجہ سے کئی مقامات پر نیشنل ہائی ویز پر رابطہ منقطع ہوگیا ہے  جس سے سفر پر نکلے ہوئے لوگ بری طرح پھنس گئے ہیں اور جو لوگ سفر پر نکلنے والے ہیں ان کے لئے بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

    بگڑے موسم اورقومی شاہراہوں پر درپیش مشکلات کے تعلق سے عوام اور خاص کرکے مسافروں کو صحیح معلومات پہنچانے کے لئے  انٹرنیٹ پر ’گوگل میاپ‘ کے ذریعے ان مقامات کا نقشہ’ویسٹرن انڈیا فلڈس‘ (مغربی ہندوستان کے سیلاب) کے عنوان سے پیش کیاگیا ہے، جہاں پر نیشنل ہائی ویز پانی میں ڈوب گئے ہیں اور وہاں سفر کرنا فی الحال دشوار ہوگیا ہے۔خیال رہے کہ کیرالہ اور کرناٹکا میں کئی جگہوں پرچٹانیں کھسکنے کی وجہ سے سڑکیں ناقابل استعمال ہوگئی ہیں۔قدرتی آفت کے اس مشکل وقت میں بہت سارے دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں اور ان کا دوسرے شہروں اورگاؤں سے بھی راستہ ٹوٹ گیا ہے۔گوگل میاپ نے اپنے ایپلی کیشن کے ذریعے ایسے مقامات کی طرف سفر کرنے سے عوام کو باز رکھنے کے لئے رہنمائی کاکام کیا ہے۔اس ایپ پر ہر ایک منٹ پر ان مقامات کی حقیقی صورتحال کے بارے میں معلومات اپڈیٹ کی جارہی ہیں۔ جن مقامات پر ٹریفک روک دی گئی ہے اور سفر کے لئے اس طرف گزرنا ممکن نہیں ہے، ان مقامات پر سرخ نشان لگائے گئے ہیں۔جہاں پرسفر اور موٹر گاڑیوں کی آمد ورفت بند ہونے کے امکانات موجود ہیں اسے گہرے پیلے رنگ سے نمایاں کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ گوگل میاپ استعمال کرنے والے خود بھی اپنے طور پر سیلاب یا راستہ ناقابل استعمال ہونے کی معلومات اس پر اپلوڈ کرسکتے ہیں۔

    اس کے علاوہ سوشیل میڈیا کے معروف پلیٹ فارم فیس بک نے بھی ریلف حاصل کرنے یا پہنچانے کے لئے سہولت فراہم کی ہے۔فیس بک پر ’فلڈ‘ (سیلاب) کے عنوان سے تلاش کرنے پر ’کرائسس ریسپانس‘ مینو نظر آتا ہے۔اسے کھولنے کے بعد سیلاب سے متاثرہ حصوں میں مقیم فیس بک فرینڈز کی تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر سیلاب زدہ افراد کو ریلیف پہنچانی ہوتو ’آفر ہیلپ‘کاکالم موجود ہے۔اس کے ذریعے امداد پہنچانا یا پھر امداد حاصل کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔اس کے لئے ضروری تفصیلات درج کرنے کے بعد ضرورت مند وہاٹس ایپ یا میسنجر کے ذریعے رابطہ قائم کرسکیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔