بارش کے بعد بھٹکل کی قومی شاہراہ : گڑھوں کا دربار، سواریوں کے لئے پریشانی؛ گڑھوں سے بچنے کی کوشش میں حادثات کے خدشات

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 15th September 2019, 9:27 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:15؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) لوگ فورلین قومی شاہراہ  کی تعمیر کو لے کر  خوشی میں جھوم رہے ہیں لیکن شہر میں شاہراہ کا کام ابھی تک  شروع نہیں ہوا ہے، اُس پرستم یہ ہے کہ سواریوں کو پرانی سڑک پر واقع گڑھوں میں سے گرتے پڑتے گزرنے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ لوگ جب گڈھوں سے بچنے کی کوشش میں اپنی سواریوں کو دوسری طرف گھماتے ہیں تو پیچھے سے یا آگے سے دوسری سواری کے ذریعے ٹکر مارنے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے۔

سواریوں اور سواروں کی حفاظت کے پیش نظر  ساحلی پٹی کے دیگر تعلقہ جات کی طرح بھٹکل میں بھی فورلین شاہراہ کی تعمیر کے منصوبہ پر عمل آوری کو دس برس ہونے کو ہیں ، لیکن تعلقہ کے منکولی کے چند جگہوں کے علاوہ  بھٹکل شہر میں فورلین کی تعمیر کاکام ابھی  تک شروع  نہیں ہواہے۔ پچھلے 5برسوں  پہلے شروع کیا گیا شاہراہ کےلئے  نشان زدہ  کام ابھی تک ویسا ہی پڑا   ہے۔ تعمیری کام شروع ہونا تو دور کی بات ، شہری سطح میں شاہراہ کی لمبائی اور چوڑائی بھی ابھی تک طئے نہیں ہو پارہی ہے۔ فورلین  کی تعمیر کے بہانے پرانی قومی شاہراہ کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پرانی شاہراہ پر بچھا تارکول نکل کر سڑک کی حالت خستہ ہوگئی ہے۔ جہاں دیکھووہاں گڑھوں کا دربار ہے ، جو سواریوں کے لئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ گڑھے وہ بھی کیسے ؟ بھٹکل سرکاری بس اسٹانڈ کے دونوں گیٹ پر موجود گڑھوں کو دیکھ لیجئے پتہ چلے گا کہ نظا م کس ابتر حالت کو پہنچ گیا ہے۔ تھوڑی سی بار ش پر بھی یہ دونوں گڑھے تالاب نما  شکل اختیار کرلیتے ہیں اور زیادہ بار ش ہوگئی تو سڑک ہے یا تالاب ہے پتہ نہیں چلتا۔گڑھوں سے بچنے کی دھن میں سامنے سے آنے والی سواری سے ٹکرانے کا خوف اور  سڑک پرپھسلنے کا ڈرموجود رہتاہے۔ اس سلسلے میں جب افسران سے گفتگو کریں تو افسران فورلین کی تعمیر کابہانہ گھڑ لیتے ہیں ۔ کلی طورپر شاہراہ ناسور بنتی جارہی ہے۔

 تنگنگنڈی کراس سے منکولی کراس  کے درمیان والی شاہراہ تعلقہ کی سطح پر بہت اہمیت رکھتی ہے۔ متعلقہ علاقے کی شاہراہ پر صرف ہائی وے کی سواریاں ہی نہیں بلکہ شہر کے عوام بھی بھاگ دوڑ کرتے رہتےہیں اورا سی شاہراہ پر اسکولی بچوں کی سواریاں بھی گذرتی  ہیں۔ شاہراہ کی گنجانی اور مسلسل بارش کی وجہ سے تینگنگنڈی سے لے کر منکولی کراس  تک کی شاہراہ پر تارکول نکلتی جارہی ہے، جھلی ، چھوٹے چھوٹے پتھر بکھرے ہوئے ہیں، تھوڑی سی دھوپ اور ہوا چلی تو ماحول گدلا ہو جاتا ہے۔ بارش کی وجہ سے شاہراہ پر جہاں تہاں پانی جمع ہوجاتاہے۔ مان لیں کہ بارش کے بعد شاہراہ کی تعمیر کا کام شروع ہوجاتاہے تب بھی واضح تصویر ابھرنےکے لئے سال دو سال لگنا طئے لگتا ہے۔ ایسے میں عوام  سوال کررہے ہیں  کہ کیا تب تک عوام کو اسی  کچی اور خستہ حال سرک پر ہی بھاگ دوڑ کرنا ہوگا یا  سڑک کی مرمت کی طرف بھی کسی کا دھیان جائے گا ؟  اس تعلق سے عوام یہ بھی سوال اُٹھارہے ہیں کہ شاہراہ تعمیر کرنے والے  ٹھکیدار بڑے لوگ ہونےکی وجہ سے افسران بھی سر نیچے کرکے چلنے لگیں گے تو عوام کا کیا ہوگا؟  عوام اس بات کا مطالبہ کررہے ہیں کہ اس سلسلے میں افسران سڑک کی مرمت کی طرف حتمی فیصلہ لیں یا پھر  فورلائین تعمیر کا کام جلد سے جلد شروع کیا جائے۔

معاملے کو لےکر ساحل آن لائن نے  جب بھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا سے سوال کیا تو انہوں نے وضاحت کرتےہوئے کہاکہ یہ سحیح ہے کہ قومی شاہراہ پر گڑھے ہونے کی وجہ سے سواریوں کے لئے تکلیف ہورہی ہے۔انہوں نے  اس تعلق سے یقین دلایا کہ وہ  شاہراہ کے ٹھیکداروں سے ضروری اقدامات کرنے کے لئے فوری ہدایات جاری کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروارمیں کار پلٹ گئی، 5 زخمی

کاروار تعلقہ کے سدا شیوگڑھ میں نیشنل ہائی وے66 پر جانوروں کے درمیان آ جانے سے ایک کار بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے۔

ہیبار کے ہاتھ سے شکر پھسل گئی :کام نکلنے کے بعد کیا اب بی جےپی شیورام ہیبار کونظر انداز کرے گی ؟

ریاست کی کابینہ  وزراء میں اترکنڑا ضلع سے صرف ایک ہی وزیر شیورام ہیبار مزدوروں کاقلم دان رکھتے ہیں ان کے پاس موجود شکر کا قلم دان واپس لے لیاگیا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ یڈیورپا کی قیادت والی حکومت میں حال ہی میں توسیع کرتےہوئے کئی نئے وزراء کو شامل کیاگیا تو چند وزراء کے قلم ...

بھٹکل بس اسٹانئڈ کے سامنے پرائیویٹ بس والوں کا کاروبار۔ تعلقہ پنچایت میٹنگ میں گرما گرم بحث

بھٹکل تعلقہ پنچایت کی ماہانہ میٹنگ کے دوران سرکاری بس اسٹائنڈ کے سامنے ہی چلائے جارہے پرائیویٹ بسوں کے کاروبار کا مسئلہ زیر بحث آیا۔  تعلقہ پنچایت صدر ایشور نائک کی صدارت میں چل رہی میٹنگ میں رکن ہنومنت نائک نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہاکہ شہر میں پرائیویٹ بسوں کا کاروبار بغیر ...

ڈانڈیلی کی کالی ندی کا پانی دیگر اضلاع کو سپلائی کرنےکی مخالفت میں شہریوں کا احتجاج

ڈانڈیلی کی مشہور کالی ندی کا پانی دیگر اضلاع کو سپلائی کرنےکے لئےجاری تعمیراتی کام تیز رفتار ی سے ہو رہاہے۔ لیکن شہر کے عوام اس بات کو لے کر کافی پیچیدگی کا شکار ہیں۔ کالی ندی کی حفاظت کو لےکر کالی ندی پانی کے سلسلےمیں اگلے ایک ہفتہ میں عوامی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ لےکر ...

فورلین شاہراہ پر جانوروں کی موجودگی سے حادثات میں اضافہ : کیا مویشی پالن وزیر کی تجویز کارگر ہوگی ؟

ساحلی پٹی پر قومی شاہراہ کو منتقل کرتےہوئےفورلین کی تعمیر ہورہی ہےتقریباً کام مکمل بھی ہوچکاہے، اس کے باوجود  فورلین شاہراہ سواریوں اور مسافروں کی مشکلات میں کوئی کمی نظر نہیں آرہی ہے۔ شاہراہ پر جہاں تہاں کھڑے جانوروں سے بار بار حادثات ہورہےہیں انسانی جانیں تلف ہورہی ہیں ...

مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد ورفت میں اضافہ :افسران کی غفلت سے مین روڈ کا تعمیری کام برسوں سے  تعطل کا شکار

مرڈیشور ایک سیاحتی مرکز کے طور پر بہت مشہور ہے ،ملک و بیرونی ملک اور ریاستوں کے سیاح جب مرڈیشور کے مین روڈ سے گزرتے ہیں تو خستہ سڑک کی بدولت سر شرم سے جھک جاتاہے۔ مرڈیشورکے عوام اس حالت کے لئ ے  افسران کی لاپرواہی  کو ذمہ دار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  مشہور سیاحتی مقام کی اہم ...

رام مندر کی بنیادیں کیوں لرز رہی ہیں؟ ... معصوم مرادآبادی

یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر جس ’ عظیم الشان‘رام مندر کی تعمیر ہورہی ہے ، اس کا خمیر ظلم اور ناانصافی سے تیار ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کی تعمیرمیں ایسی دشواریاں حائل ہورہی ہیں ، جن کا تصور بھی مندر تعمیر کرنے والوں نے نہیں کیا ...

گرام پنچایت انتخابات  کے نتائج: ریاست کے مختلف مقامات سےکچھ اہم اور دلچسپ جھلکیاں

ریاست کرناٹک  میں گرام پنچایت انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوچکا ہے جس میں ایک طرف بی جےپی حمایت یافتہ امیدوار وں نے سبقت حاصل کی ہے تو دوسری طرف کچھ اہم اور دلچسپ قسم کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ کچھ حلقوں میں ساس نے بہو کو ہرایا ہے، کچھ میں شوہر کو جیت اور بیوی کو شکست ہوئی ہے تو ...

کیا سی آر زیڈ قانون کا نفاذ نہ ہونے سے اترکنڑا میں سیاحت کی ترقی رُکی ہوئی ہے ؟

اترکنڑا ضلع میں سیاحت کی ترقی کے بے شمار مواقع و وسائل میسر ہیں، لیکن ماہرین کی مانیں تو  ضلع کی سیاحت کی ترقی اس وجہ سے رُکی ہوئی ہے کہ  سی آر زیڈ ترمیمی قانون جاری ہونے کے باوجود اس قانون کو   ابھی تک ضلع میں  نافذ نہیں کیا گیا ہے۔ ضلع کی ترقی نہ ہونے سے نوجوانوں کی بے روزگاری ...