نفرت کی سیاست کو فروغ دینے مودی سرگرم انتخابی ریلی سے خطاب میں وزیراعظم نے کرناٹک کی حکمران پارٹیوں پر ہلہ بولا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th April 2019, 10:52 AM | ریاستی خبریں |

گنگاوتی،13؍اپریل(ایس او نیوز) انتخابی موسم میں مستقل زہرافشانی کی جارہی ہے ۔مذہبی بنیادوں پرووٹوں کے ارتکازکاسلسلہ جاری ہے۔ترقیاتی معاملوں پرگفتگوکی بجائے ہندو،مسلمان، پاکستان،گھس پیٹھ جیسے متنازعہ بیانات دیے جارہے ہیں۔امیت شاہ،یوگی،مینکاگاندھی اوربی جے پی کے اعلیٰ لیڈر مستقل متنازعہ بیانات دے رہے ہیں،لیکن زمین پرایک بھی کارروائی نظرنہیں آرہی ہے۔الیکشن کمیشن کی خاموشی پرمختلف طبقات نے سوالات اٹھائے ہیں۔الیکشن کمیشن کیاایکشن لیتاہے یہ بھی دیکھنے والی بات ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو کرناٹک کے گنگاوتی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرنے پہنچے۔

اس ریلی میں مودی نے کرناٹک کی حکمراں جماعتوں کانگریس اور جنتا دل (سکیولر) پر جم کرہلہ بولا۔ٹیپو جینتی کے لئے ان کے پاس پیسے ہیں لیکن جب ہنپی تہوار منانے کی باری آتی ہے تو ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے،جو فوجی ملک کی خدمت کے لئے جاتے ہیں، ملک کی حفاظت کے لئے کچھ بھی کر گزرتے ہیں۔جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی ریونا کے سیاست سے ریٹائرمنٹ سے متعلق بیان پر مودی نے کہا کہ2014میں ایسا ہی وعدہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے بھی کیا تھا، کیا انہوں نے ریٹائرمنٹ لیا؟ ایسے ہی ان کا بیٹا بھی ریٹائرمنٹ نہیں لے گا۔غور طلب ہے کہ جے ڈی ایس لیڈر اور ایچ ڈی دیوے گوڈا کے بڑے بیٹے کے ایچ ڈی ریونا نے کہا تھا کہ اگر2019میں این ڈی اے نے دوبارہ حکومت بنا لی تو وہ سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔نریندر مودی نے کہاکہ دیوے گوڈا کے بیٹے (ایچ ڈی ریونا) نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ این ڈی اے نے حکومت بنا لی تو سیاست سے ریٹائرمنٹ لے لیں گے۔2014میں یہی بات خود ایچ ڈی دیوے گوڈا نے کہی تھی، کیا انہوں نے سیاست چھوڑ دی؟ توقع کے مطابق انہوں نے ریٹائرمنٹ نہیں لیا،ان کا بیٹا بھی ریٹائرمنٹ نہیں لے گا۔

کانگریس اور جے ڈی ایس پرہلہ بولتے ہوئے مودی نے کہاکہ یہ انتخابات نیشن فرسٹ بمقابلہ فیملی فرسٹ ہے۔کرناٹک میں کنبہ پروری کی علامتیں ہیں۔ کانگریس اورجے ڈی ایس دونوں ہی پارٹیاں عوام سے جتنی کٹی ہوئی ہیں، اتنی ہی اپنے خاندان سے جڑی ہوئی ہیں،ان کے لئے اپنی ضروریات ہیں، ملک کی ضروریات نہیں، بلکہ اپنا مفاد اہم ہے۔کمیشن ہی ان کا مشن ہے۔پی ایم مودی نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کے بیان پر کہاکہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جو شخص دو وقت کی روٹی حاصل نہیں کرپاتا، وہ فوج میں شامل ہو جاتا ہے۔انہوں نے فوج کے جوانوں کی توہین کی ہے،نوجوان نازک حالات کا سامنا کرتے ہوئے ملک کی سرحد کی حفاظت کرتے ہیں لیکن یہ لوگ اسے سمجھ نہیں سکتے۔ پہلے مرحلے کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہاکہ ملک میں جہاں جہاں مجھے جانے کا موقع ملا ہے، وہاں ایک ہی لہر نظر آرہی ہے، وہ لہر ہے کہ پھر ایک بار مودی سرکار۔پہلے مرحلے کے انتخابات میں بی جے پی اور اس کے اتحاد کے ساتھی یکطرفہ کامیابی حاصل کریں گے۔مغربی بنگال میں بھی تبدیلی کا ماحول ہے۔

مودی نے کہا کہ کرناٹک میں کنبے کی علامت کانگریس اور جنتا دل سکیولر ( جے ڈی ایس ) ہیں۔ دونوں ہی پارٹیاں عوام سے جتنی دور ہیں، اتنی ہی اپنے کنبوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے لئے عوام کی ضروریات نہیں، ملک کی ضروریات نہیں بلکہ اپنا مفاد اہم ہے ۔انہوں نے کہاکہ کمیشن ہی ان کا مشن ہے۔وزیر اعظم نے ریلی میں آئی بھیڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اتنی شدید گرمی میں آپ آشیرواد دینے آئے ، اس لئے میں سب کا شکر گزار ہوں ۔ پورے ملک میں ایک بار پھر عوام کی یہی آواز ہے ، ایک لہر چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی محبت دہلی میں بیٹھے لوگوں کی نیند خراب کر رہی ہے اور کیا آپ کا اشیرواد مجھے ملے گا؟ مودی نے کہا کہ ریلی میں آئی بھیڑ بتاتی ہے کہ ہوا کا رخ کس طرف ہے ۔کرناٹک کی جے ڈی ایس کانگریس مخلوط حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے مودی نے کہا کہ پہلے حکومت10فیصد والی تھی، اب دونوں مل گئے تو یہ20فیصد ہو گیا۔ اب بچوں اور حاملہ خواتین کا پیسہ لوٹا جا رہا ہے ۔مودی نے ایک بار پھر تغلق روڈ کا ذکر کرتے ہوئے پوچھاکہ آپ کو تغلق روڈ انتخابی گھپلے کے بارے میں جانتے ہیں؟انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش سے پیسے دہلی بھیجے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈیل میں کانگریس کے پنجے کی بات تو ہم نے سنی ہے ، لیکن اب بچوں کا نوالہ چھیننے کا کام کانگریس نے کیا ہے ۔

وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کے فوج پر دیئے گئے بیان کی نکتہ چینی کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ فوج کے اہلکار ریگستان کی50ڈگری درجہ حرارت میں خود کو کھڑا رکھتے ہیں ، ان کے بارے میں ایسی بات کی جاتی ہے ۔ تین تین پیڑیاں اقتدار پر قابض لوگ ملک کے لوگوں کو سمجھ نہیں سکتے ہیں ۔ ان کی یہ سوچ ہی ہے جس سے ہر دفاعی سودے میں گھپلہ ہوتا رہا۔ فوج کے لئے بلٹ پروف جیکٹ کی مانگ کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔غور طلب ہے کہ میڈیا میں ایسی خبر آئی تھی جس میں مسٹر کمارسوامی نے کہا ہے کہ جس کو دو وقت کا کھانا نہیں ملتا ہے ، وہ فوج میں جاتا ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

باغی اراکین اسمبلی ایوان کی کارروائی میں حاضر ہونے کے پابند نہیں:سپریم کورٹ عدالت کے فیصلہ سے مخلوط حکومت کو جھٹکا -کانگریس عدالت سے دوبارہ رجوع کرے گی

کرناٹک کے باغی اراکین اسمبلی کے استعفوں سے متعلق سپریم کورٹ نے آج جو فیصلہ سنایا ہے وہ ”آڑی دیوار پر چراغ رکھنے“ کے مصداق ہے- کیونکہ اس سے نہ کرناٹک کا سیاسی بحران ختم ہوگا اورنہ ہی مخلوط حکومت کو بچانے میں کچھ مدد ملے گی-