میسورواجتماعی عصمت دری کے مجرم جلد پکڑے جائیں گے: وزیراعلیٰ بسوراج بومائی

Source: S.O. News Service | Published on 26th August 2021, 11:40 PM | ریاستی خبریں |

نئی دہلی،26؍اگست(آئی این ایس انڈیا) کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسوراج ایس بومائی نے جمعرات کوکہاہے کہ حکومت نے میسوروگینگ ریپ کے واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور مجرموں کو جلد پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔بومائی ، جو قومی دارالحکومت کے دو روزہ دورے پرہیں ، نے نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ میری حکومت نے اسے سنجیدگی سے لیا ہے۔ مجرموں کو جلد پکڑ کر قانون کے دائرے میں لایا جائے گا۔

میسوروکے چمودی ہل کے قریب منگل کو ایک کالج کی طالبہ کو پانچ افراد نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا اور یہ معاملہ بدھ کو سامنے آیا۔ ملزم نے لڑکی کے دوست پر بھی حملہ کیا۔ متاثرہ اور اس کا دوست نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بنگلورو: محض 3 سال میں جھکی پولیس رہائش گاہ کی عمارت، 32 خاندانوں کو محفوظ نکالاگیا

بنگلورو میں پولیس کی رہائش کیلئے بنائی گئی عمارت صرف تین سالوں میں خستہ حالت میں پہنچ گئی ہے۔ صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ تہہ خانے میں کئی دراڑیں آ گئی ہیں اور عمارت نے ایک طرف جھکاؤ بھی شروع کر دیا ہے۔

بی جے پی کی مدد کرنے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے: ضمیر احمد خان 

رکن اسمبلی بی زیڈ ضمیر احمد خان نے جے ڈی ایس  پر الزام لگایا ہے کہ 30 ؍ اکتوبر کو سندگی ہانگل اسمبلی حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے کے مقصد سے جے ڈی ایس نے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔

کلبرگی کے چنچولی میں زلزلوں کے جھٹکوں سے خوفزدہ لوگ گاؤں چھوڑنے پر مجبور۔شمالی کرناٹک میں زلزلوں کی وجہ ’’ہائیڈرو سسمسیٹی‘‘، این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں انکشاف

شمالی کنڑا کے بیدر اور کلبرگی ضلع میں سلسلہ وار زلزلے درحقیقت ’’ہائیڈ رو سسمسیٹی‘‘ ( زمین کے اندر پانی کے دباؤ کاعمل  ) کا معاملہ ہے جو مانسون کے بعد ہوتا ہے ۔ یہ انکشاف این جی آر آئی کے ابتدائی مطالعہ میں ہوا ہے ۔

آئی ٹی کے دھاوے سیاسی تھے، کانگریس کے ساتھ کام کرنے پر نشانہ بنایا گیا ؛ انتخابی مہم کی کمپنی کا دعویٰ

بنگلورو میں محکمہ آئی ٹی کی جانب سے جس ڈیزائن با کسڈ‘‘ نامی کمپنی پر حال ہی میں دھاوا کیا ، اس کے منیجنگ ڈائرکٹر نریش اروڑا نے مرکزی محکمہ کو نشانہ بناتے ہوئے  کہا کہ یہ دھاوے واضح طور پر سیاسی تھے اور آئی ٹی عہد یداروں کو دھاوؤں کے دوران کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔