میانمار: سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی، روہنگیا مسلمان پھرانخلاء پر مجبور

Source: S.O. News Service | Published on 29th June 2020, 5:12 PM | عالمی خبریں |

 لندن،29/جون (آئی این ایس انڈیا) میانمار کے راکھین صوبے میں متوقع فوجی کارروائی کے پیش نظر ایک بار پھر ہزاروں کی تعداد میں مقامی روہنگیا آبادی گھروں سے بھاگ رہی ہے۔

تاہم حکومت نے ہفتے کو اعلان کیا ہے کہ سرحدی علاقوں کے حکام نے انخلا کا حکم نامہ واپس لے لیا ہے۔راکھین ریاست کے ایک مقامی انتظامی سربراہ نے انتباہ کیا تھا کہ فوج درجنوں دیہاتوں کے مقامی لیڈروں کے خلاف کارروائی کرنے والی ہے۔باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی خبر سنتے ہی ہزاروں کی تعداد میں مقامی آبادی اپنے علاقے چھوڑ کر کسی محفوظ مقام کی تلاش میں گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہی ہے۔

دوسری طرف ہفتے کو حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ انخلا کا حکم سرحدی حکام نے منسوخ کر دیا ہے۔ تاہم سرحدی حکام کا کہنا کہ چند دیہاتوں میں کارروائی کی جا رہی ہے۔بدھ کے روز ایک تحریری حکم نامے میں گاؤں کے لیڈروں کو متنبہ کیا گیا تھا۔

یہ خط خبر رساں ایجنسی رائٹرز اور ایک وزیر کرنل من تھان نے دیکھا تھا۔ اس خط میں کہا گیا تھا کیانک تھان قصبے اور اس کے مضافات میں سرکش باغی چھپے ہوئے ہیں اور فوج ان کے خلاف کارروائی کرنے جا رہی ہے۔ اس خط سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ اسے کس نے لکھا تھا، مگر راکھین صوبے کے سرحدی سلامتی کے وزیر من تھان نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ میانمار کی اس وزارت کی طرف سے آیا، جو فوج کے ماتحت کام کرتی ہے۔ اس خط میں اراکان آرمی کی طرف اشارہ تھا۔ روہنگیا باغی اس گروپ کے کرتا دھرتا ہیں۔ کرنل من تھان نے بتایا کہ اس کارروائی میں دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر نے اس حکم نامے کی غلط توضیح کی ہے۔ فوج کا ہدف مخصوص گروپ ہے اور صرف چند دیہاتوں میں یہ آپریشن کیا جائے گا۔ہفتے کے روز سرکاری ترجمان نے بتایا کہ حکومت نے فوج کو ہدایت دی ہے کہ اس کارروائی کو کلیرنس آپریشن نہ کہا جائے۔

اتوار کو اقوام متحدہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کیانک تھان قصبے میں جاری لڑائی پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور فریقین سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کے عالمی قوانین کا احترام کریں اور شہریوں کی زندگی بچانے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

میانمار میں برطانیہ،  آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا کے سفارت خانوں نے فوج کی جانب سے ’کلیرنس آپریشن‘ کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس سے انسانی ہمدردی کے جاری کام متاثر ہوں گے۔ کیانک تھان قصبے اور اس کے نواحی علاقوں میں ہزاروں روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔

ان علاقوں سے ان کے بھاگنے کی خبریں مختلف تنظیموں کی جانب سے آرہی ہیں۔ جب کہ میانمار کی حکومت صحافیوں کو راکھین صوبے کے بہت سے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ جس کی وجہ سے خبروں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بحرین کی اسرائیل سے ڈیل،علاقائی سلامتی کو تقویت ملے گی: شیخ سلمان کی نیتن یاہو سے گفتگو

بحرین کے ولی عہد شیخ سلمان بن حمد آل خلیفہ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے عالمی سلامتی اور امن کو مضبوط بنانے اور امن ، استحکام اور خوش حالی کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ایردوآن نے یو این میں اٹھایا مسئلہ کشمیر، ’اندرونی معاملات میں دخل نہ دے ترکی‘ انڈیا کی تاکید

 جموں و کشمیر کے حوالہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن کے بیان پر اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندہ ٹی ایس ترومورتی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کو دوسرے ممالک کی خودمختاری کا احترام کرنا سیکھنا چاہئے۔