اﷲ اکبراﷲ اکبرکی صداؤں سے گونج اٹھا نیوزی لینڈ حملے کے بعد پہلی نمازجمعہ کی ادائیگی ۔اجتماع میں وزیراعظم سمیت بڑی تعداد میں غیرمسلموں کی بھی شرکت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd March 2019, 11:02 AM | عالمی خبریں |

ویلنٹن،23؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر گزشتہ جمعہ ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی جانب سے خوفزدہ اور افسردہ مسلمانوں کی حوصلہ افزائی نے انسانیت میں انقلاب برپاکردیا ہے۔نماز جمعہ سے قبل پورا نیوزی لینڈ اللہ اکبر ،اللہ اکبر،اشہد ان لا الہ اللہ و اشہد ان محمد رسول اللہ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے تمام مساجد کے ساتھ سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سے اذان جمعہ کا باضابطہ نشریہ ہوااور سخت حفاظتی انتظام کے دوران حملے کے بعد فرزندان توحید نے پہلی نماز جمعہ سانحہ سے متاثرہ النور مسجد کے سامنے والے ہیگلے پارک میں بہت اطمینان کے ساتھ اداکی۔ عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق جمعہ کی اذان ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کرنے کا مقصد مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرانا تھا کہ وہ نہ صرف ملک میں محفوظ ہیں بلکہ اطمینان و سکون سے اپنی مذہبی عبادات بھی اداکرسکتے ہیں۔ نماز کے لئے ہونے والے اجتماع میں شرکت کے لئے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن بھی پہنچیں اور مسلمانوں اور شہیدوں کے اہل خانہ سے اظہاریکجہتی کیا۔ہیگلے پارک میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مختلف مذاہب اورعقائد سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جن میں مرد، خواتین اور بچے بھی شامل رہے۔وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن نے اس موقع پر مختصر پیغام میں رسول اکرمؐ کی حدیث بیان کی اور کہا ’’اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو بقیہ پورے جسم میں بھی درد ہوتا ہے۔ دکھ اور افسوس کی اس گھڑی میں ہم سب متحد ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ آگے بھی متحد رہیں گے۔‘‘ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد پہلی نماز جمعہ کے موقع پر دیگر شہروں اور ممالک سے بھی مذہبی اسکالرز کرائسٹ چرچ پہنچے اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات اور نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔دوسری جانب پیش امام جمال فودا نے نماز جمعہ کے خطبے میں وزیراعظم نیوزی لینڈ اور وہاں کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ کے بعد سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس نے جو کردار ادا کیا، ہم اس پر ان کے مشکور ہیں۔انہوں نے کہا ،’’سانحہ کرائسٹ چرچ کے بعد ہماری حفاظت کے لئے جس طرح لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے کھولے اس پر ہم بے حد مشکور ہیں۔ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں تقسیم کردے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کو نقصان پہنچانے کی شیطانی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔‘‘جمال فودانے مزید کہا، ’’وزیر اعظم جیسنڈا کی لیڈر شپ دنیا بھر کے لوگوں کے لئے ایک سبق اور مثال ہے۔ ہم عزم کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ایک دوسرے کی حمایت کرتے رہیں گے۔‘‘ پیش امام جمال فودا نے خطبے میں کہا کہ سانحہ کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کیلئے ایک نئی زندگی ثابت ہوا ہے۔واضح رہے کہ کرائسٹ چرچ میں گزشتہ جمعہ سفید فام آسٹریلیائی دہشت گرد نے مساجد پر حملہ کر کے50مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس سانحے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے بیشتر ابھی تک اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران بائیکر گینگ نے مساجد اور نمازیوں کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق نیوزی لینڈ کے دیگر شہروں میں بھی مساجد کے باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔

بہن نے دہشت گرد بھائی کو سزائے موت کا مستحق قرار دیا:گذشتہ جمعہ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں50 نمازیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کرنے والے آسٹریلوی دہشت گرد کی بہن نے بھی بھائی کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ٹی وی انٹرویو میں28 سالہ دہشت گرد برنٹن ٹارنٹ کی ہمشیرہ کو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کی ویڈیو دکھانے کی کوشش کی گئی تو وہ فوٹیج دیکھنے کی ہمت نہ کرسکیں اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔جب نامہ نگار نے اس سے پوچھا کہ وہ اپنے بھائی کے اس سنگین جرم پر کیا رائے رکھتی ہے تو اس کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹرنٹ ان کے خاندان کا فرد ہے مگر وہ مجرم اور دہشت گردبھی ہے جو کسی ہمدردی اور رحم کا مستحق نہیں۔ اس نے50 معصوم لوگوں کی جان لی ہے اور وہ عبرت ناک سزائے موت کا مستحق ہے۔ دہشت گرد کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ خاندان کا کوئی فرد برنٹن ٹارنٹ کے ساتھ ہمدردی نہیں کرتا اور نہ ہی خاندان کی طرف سے اسے کوئی سپورٹ حاصل ہے۔ اس کے سنگین جرم پرہم سب دکھ اور صدمے سے دوچار ہیں۔کل ہفتے کے روز آسٹریلوی دہشت گرد کو نیوزی لینڈ میں مساجد میں قتل عام کے جرم میں فرد جرم عائد کی جائے گی تاہم آئندہ5اپریل کو اسے عدالت میں پیش کرکے اس پر مزید الزامات میں بھی فرد جرم عاید کی جاسکتی ہے۔دریں اثنا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈآرڈرن نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح کی بندوق گذشتہ جمعہ کو آسٹریلوی دہشت گرد نے نمازیوں کے وحشیانہ قتل عام کے لیے استعمال کی تھی اس طرح کے تمام ہتھیاروں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

ایک نظر اس پر بھی