مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد ورفت میں اضافہ :افسران کی غفلت سے مین روڈ کا تعمیری کام برسوں سے  تعطل کا شکار

Source: S.O. News Service | Published on 10th January 2021, 8:04 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:10؍جنوری (ایس اؤ نیوز)مرڈیشور ایک سیاحتی مرکز کے طور پر بہت مشہور ہے ،ملک و بیرونی ملک اور ریاستوں کے سیاح جب مرڈیشور کے مین روڈ سے گزرتے ہیں تو خستہ سڑک کی بدولت سر شرم سے جھک جاتاہے۔ مرڈیشورکے عوام اس حالت کے لئ ے  افسران کی لاپرواہی  کو ذمہ دار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ  مشہور سیاحتی مقام کی اہم سڑکیں گڑھوں اورکھڈوں سے بھرے ہوئے ہیں۔

کووڈ-19سے پہلے ہی مین روڈ کی توسیع و ترقی کاکام شروع ہوا تھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہوپایا ہے۔ اور جہاں تہاں کھودے گئے گڑھے جوں کے توں باقی ہیں، عوام سوال کرتے ہیں کہ   سیاح جب  ایک بہتر خیال لے کر مرڈیشور پہنچتے ہیں تو کیا وہ   اس سڑک پر سے گزرنے  کے بعد  ان کایہ حسن ِ ظن برقرار رہے گا ؟

ضلع کی ترقی میں معاون بننے والے مرڈیشور میں بنیادی سہولیات کا مطالبہ کافی قدیم ہے، شہر کا مین روڈ ہر سال موسم باراں میں تالاب میں تبدیل ہوجاتا ہے، ایک جگہ سے دوسری جگہ کا  رابطہ ہی منقطع ہوجاتاہے، انہی وجوہات کی بنا پر سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے سڑک کی توسیع و ترقی کے لئے رقم منظور کروائی تھی اور کام بھی شروع کروایا تھا مگر  کام سست روی کا شکار ہونے سے سیاحتی مقام  بدنام ہورہاہے۔ اترکنڑا سیاحتی ضلع کے طورپر معروف ہے۔ ضلع میں سب سے زیادہ سیاح کاروار، گوکرن ، کمٹہ ، اور مرڈیشور آتے ہیں  جس میں بیرونی ممالک کی بھی معتد بہ تعداد  شامل ہے، یہی وہ حالات ہیں جو سیاحت کی ترقی کے لئے معاون وممد ہوتےہیں۔

مرڈیشور کے لوگ کہتے ہیں کہ سیاحت کے لئے مکمل ماحول عطا کرنے والے مرڈیشور کا مین روڈ ہی خستہ حال ہے تو دیگر راستوں کی کیا دُرگت ہوگی۔  ایک مرتبہ سیاح جب کسی سیاحتی مقام کا نظارہ کرتےہیں تو ان میں دلچسپی پیدا ہونی چاہئے کہ  وہ وہاان بار بار آئیں۔ مگر یہاں بنیادی سہولیات کی کمی سے سیاحوں کے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔

حالیہ برسوں کا جائزہ لیں توپتہ چلتاہے کہ مرڈیشورکی سیاحت کرنےو الے بیرونی سیاحوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہواہے۔ اس کے علاوہ ریاستی ، قومی ، بین الاقوامی سمینار ، پارٹیوں کے اجلاس وغیرہ کا انعقاد بھی مرڈیشور میں  ہوتارہتاہے، عام لوگوں کے ساتھ وزراء بھی یہاں تشریف لاتے رہتےہیں ، ان سب کے سامنے مین روڈ اپنے خستگی کی کہانی سناتے رہتاہے۔ جب سے مین روڈ کا کام شروع ہوا ہے تبھی سے یہ کام بہت سست روی کا شکار ہے ، اس کے لئے کئی وجوہات بیان کئے جاسکتےہیں، لیکن جہاں جہاں سڑک کی توسیع ممکن ہے وہاں بھی کام نہ  ہونےپر عوام  افسران کی غفلت کو ذمہ دار مانتے ہیں۔

پارکنگ لازمی :مرڈیشور کو صرف سیاح نہیں بلکہ ان کے ساتھ سیکڑوں سواریاں بھی آتی ہیں، ہفتہ کے آخری دو دن اور تعطیلات میں ان کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہوجاتی ہے۔ سڑک پہلے سے تنگ ہے، اسی میں پارکنگ کی سہولت دی جائے  تو سواریوں کا آناجانا اور بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ اس  کی اہم وجہ یہی ہےکہ کہیں بھی پارکنگ کا انتظام نہیں ہے تو مسافر اپنی سواریاں راستے کے ایک کنارے اپنی سواریاں پارک کرتے ہیں اور اسی بات کو لے کر کئی مرتبہ نوک جھونک بھی دیکھی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ حالات کو دیکھتے ہوئے پارکنگ کا مناسب  انتظام کریں ۔ عوام پیسہ دے کر پارکنگ کے لئے تیار ہیں،  مقامی انتظامیہ کم سے کم کوئی جگہ  مختص کرے تو کافی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یلاپور میں پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کےخلاف لاری مالکان تنطیموں کا احتجاج

پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لگاتار اضافے کی مخالفت میں لاری مالکان کے مختلف تنظیموں نے جمعہ کو شہر میں بند منایا۔ لاری، آٹو، ٹیاکسی اوردیگر تجارتی سواریوں نے بھی بند میں شامل ہوتےہوئے حمایت کی۔ تنظیموں نے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنر اور ضلع نگراں کار وزیر کو میمورنڈم ...

یلاپور کی نندولی دیہات کی طالبہ کا اغواء کاری معاملہ : ماں کے خوف سےخود لڑکی نے  گھڑی تھی جھوٹی کہانی  

یلاپور تعلقہ نندولی دیہات میں دسویں میں زیر تعلیم طالبہ کے اغواءکاری معاملے کی  سچائی کا پتہ چلتے ہی جانچ میں جٹی پولس ٹیم حیرت میں پڑگئی ہے۔ لڑکی نے جھوٹی کہانی گھڑتے ہوئے خود اغواء ہونےکا ناٹک رچے جانے کی بات لڑکی نے پولس کے سامنے بیان کی ہے۔

بھٹکل رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ ہوا اختتام پزیر

بھٹکل چن پٹن ہنومان مندر کا رتھ اتسوا امن و شانتی کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔ سالانہ جاترا کی مناسبت رتھ اتسوا اپریل کے مہینے میں منعقد ہوتا ہے۔ لیکن کووڈ وباء اور لاک ڈاون کے پیش نظر گزشتہ سال یہ تہوار منایا نہیں گیا تھا۔ اس لئے امسال کے طے شدہ تہوار سے قبل 26 فروری کو گزشتہ سال کا ...

’ وشوگرو‘ کسے کہاگیا ؟ : عوامی تحریکات کو غلط رخ دینے والے ’آندولن جیوی‘ کون ہیں ؟ معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کی خصوصی رپورٹ

کرناٹک کی بات کریں تویہاں  بی جےپی کی کوئی بنیاد ہی نہیں تھی ۔ ہبلی عیدگاہ میدان اور چک منگلورو کے بابابڈھن گری جیسے تنازعوں کے سہارے بی جے پی  یہاں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوئی ہے، گائے ذبیحہ کا معاملہ چھیڑ کر  اور  فرقہ وارانہ نفرت بو کر بی جے پی نے  ساحلی پٹی پراپنی  جڑیں ...

مسلمانوں پر ملک کی آبادی بڑھانے کا الزام غلط۔سابق چیف الیکشن کمشنر نے اپنی نئی کتاب میں اعداد وشمار پیش کئے ، 70سال میں مسلمانوں کی آبادی صرف4فیصد بڑھی

ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر اور چار کتابوں کے مصنف ایس وائی قریشی نے اپنی تازہ تصنیف’آبادی کا تصور۔ ہندوستان میں اسلام،فیملی پلاننگ اورسیاست‘ منظر عام پر پیش کی ہے۔

ریزرویشن معاملہ: حکومت کا تعصب ایک طرف لیکن مسلمان اپنے حقوق کی حصولیابی اورسرکاری اسکیمات سے فائدہ اٹھانے میں بھی ناکام۔۔۔۔ روزنامہ سالارکا تجزیہ

کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کی مانگ کو لے کر ماحول جس طرح دن بہ دن گرمی اختیار کرتا جا رہا ہے اسی درمیان یہ بات بھی سامنے آئی کہ تمام طبقات کیلئے حکومت کی طرف سے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ریزرویشن دینے کا وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کی طرف سے اعلان کیا گیا-

انکولہ کے ڈونگری دیہات کے طلبا جان ہتھیلی پرلے کرتعلیم حاصل کرنے پر مجبور؛ ایک ماہ کے اندر بریج تعمیر کرکے دینے کا ایم ایل اے نے کیا وعدہ

انکولہ تعلقہ کے  ڈونگری  دیہات کے طلبا کےلئے تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ یہاں کے طلبہ کو  ہر روز خطرناک حالت میں جان ہتھیلی پر لےکر ندی پارکرتےہوئے  اسکول پہنچنا ہوتاہے۔

 کیا بھٹکل جالی ساحل سیر و تفریح کے لئے ہوگیا ہے غیر محفوظ؟ شہریوں کے لئے کیا ہے اس کا متبادل ؟!

بھٹکل تعلقہ میں  مرڈیشور ساحل اور مرڈیشور کا  مندر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ سیاحتی مرکز ہے۔ اس کے بعد بھٹکل شہر سے قریب جالی بیچ ان دنوں سیر و تفریح کرنے والوں کے لئے بہت زیادہ دلکش بنتا جارہا ہے۔