شام کے کیمپوں میں 25 برطانوی خواتین اور 34 بچے موجود ہیں: رپورٹ

Source: S.O. News Service | Published on 2nd May 2021, 4:56 PM | عالمی خبریں |

دمشق، 2/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) ابھی تک ہزاروں غیر ملکی خواتین اور بچے شام کے شمال مشرقی کیمپوں بالخصوص الہول کیمپ میں بُھولے پڑے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے ممالک نے مذکورہ افراد کی جانب سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے اور ان کی واپسی کو سرکاری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ یہ لوگ داعش تنظیم کے ساتھ وابستہ ہو گئے تھے۔

داعش تنظیم کے غیر ملکی ارکان کی بیویوں میں متعدد خواتین کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ ان خواتین کو انسانی تجارت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ریبریف نے کل جمعے کے روز بتائی۔ تنظیم کے مطابق شام کے شمال مشرق میں واقع کیمپوں میں زیر حراست برطانوی خواتین اور بچوں میں تقریبا ایک تہائی انسانی تجارت کا شکار ہیں۔ تنظیم نے ان افراد سے دست بردار ہونے پر لندن حکومت کی مذمت کی۔

مذکورہ تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ میں ہے۔ تنظیم کی ایک تحقیق کے مطابق کیمپ میں بعض ایسی خواتین ہیں جن کی عمر شام منتقل ہونے کے وقت محض 12 سال تھی۔ یہ داعش تنظیم کے ہاتھوں مختلف نوعیت کے استحصال کا نشانہ بنیں جس میں جنسی استحصال بھی شامل ہے۔

تنظیم کے اندازے کے مطابق علاقے میں اب بھی برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 25 بالغ خواتین اور 34 بچے موجود ہیں۔ ان میں کم از کم 63% انسانی تجارت کا شکار ہوئے۔ اس حوالے سے بچوں کو شام لے جایا گیا یا جانے پر مجبور کیا گیا۔

تنظیم کی جانب سے جاری 70 صفحات کی تفصیلی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ برطانوی حکومت نے منظم طور پر ان افراد سے دست برداری اختیار کی۔ اس دوران ان افراد کو برطانوی شہریت سے محروم کیا گیا ، ان خاندانوں کی واپسی کو مسترد کر دیا گیا اور برطانوی قونصل خانے کی طرف سے مدد فراہم نہیں کی گئی۔

مذکورہ رپورٹ میں شمیمہ بیگم نامی لڑکی کے کیس پر خصوصی روشنی ڈالی گئی۔ یہ لڑکی 15 برس کی عمر میں شام آ گئی تھی تا کہ وہاں ایک مسلح داعشی سے شادی کر سکے۔ اس وقت شمیمہ کی عمر 19 برس ہے۔ وہ ایک کیمپ میں زیر حراست ہے۔ شمیمہ کو برطانوی شہریت سے محروم کر دیا گیا جب کہ برطانوی عدلیہ نے اس کی وطن واپسی کو بھی مسترد کر دیا۔

ان معاملات سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ خاتون سیوبان ملالی نے تنظیم کی رپورٹ کے پیش لفظ میں اپنا تبصرہ تحریر کیا ہے۔ ملالی کے مطابق برطانیہ نے اپنی پاسداریوں کا احترام نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ "شمال مشرقی شام میں واقع کیمپوں میں بچوں سمیت برطانوی شہریوں کے تحفط کے حوالے سے خلا پائے جاتے ہیں۔ ان افراد میں سے زیادہ تر انسانی تجارت کا شکار یا ممکنہ شکار ہیں"۔

دوسری جانب برطانوی حکومت نے ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ داعش کے ارکان یا حامیوں کو مختص کردہ عدالتی حکام کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہماری اولین ترجیح برطانیہ کے امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ لاچار اور یتیم بچوں نے مدد طلب کی تو ہم ان کی واپسی کو آسان بنانے کی کوشش کریں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

افغانستان کے کابل کی مسجد میں دھماکہ، امام سمیت 12 نمازی جاں بحق

افغانستان کے دارالحکومت کابل کی مسجد میں دھماکے کے نتیجے میں امام سمیت 12 نمازی جاں بحق ہوگئے، دھماکہ   جمعہ  کی نماز کی ادائیگی کے دوران کیا گیا۔افغان پولیس  ترجمان کے مطابق کابل کے ضلع شکر درہ میں مسجد کے اندر دھماکہ کیا گیا جس میں مسجد کے امام مفتی نعمان  سمیت ۱۲ نمازی جاں ...

فلسطین میں اسرائیلی فضائی حملے جاری؛ شہید ہونے والوں کی تعداد 119 کو پہنچ گئی؛ بمباری کے باوجود قبلہ اول میں فرزندان توحید نے ادا کی عید الفطر کی نماز

اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر جاری فضائی حملوں میں گذشتہ چار روز میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر113 ہوگئی ہے جن  میں 31 بچے بھی شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایک طرف بمباری جاری تھی اور دوسری طرف غزہ پر بمباری کے دوران  قبلہ اول میں ایک لاکھ سے زائد فرزاندن توحید  عید ...