دہلی تشدد: مسجد پر لہرایا گیا بھگوا جھنڈا، پولیس نے 24 گھنٹے بعد بھی نہیں اتارا!

Source: S.O. News Service | Published on 27th February 2020, 10:59 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،27/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی)  راجدھانی کے شمال مشرقی ضلع میں منگل کے روز شدید تشدد کے دوران اشوک نگر علاقے میں زبردست ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ اس دوران علاقے کی گلی نمبر 5 میں واقع ایک مسجد پر شرپسندوں نے حملہ کیا اور اسے پوری طرح تباہ کر دیا۔ اتنا ہی نہیں کچھ شرپسند عناصر نے مسجد کے مینار پر چڑھ کر وہاں بھگوا پرچم اور ترنگا بھی لہرایا تھا۔

المیہ یہ ہے کہ اس واقعہ کے 24 گھنٹے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن پولیس نے ابھی تک مسجد سے بھگوا جھنڈا نہیں اتروایا ہے جوکہ امن بحالی کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اس سے پولیس کے امن بحالی کے دعوے اور تشدد کے خلاف اس کے طریقہ کار پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے دوسرے دن جب اس کی ایک ٹیم نے علاقے کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ اشوک نگر میں تباہ کی گئی مسجد کے مینار پر بھگوا جھنڈا ہنوز موجود ہے۔ نیز ترنگا بھی وہاں نظر آ رہا ہے۔ واضح رہے کہ جو بھگوا جھنڈا مسجد کے مینار پر لہرایا گیا ہے اس پر ہنومان کی تصویر بنی ہے اور جے شری رام لکھا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ 25 فروری کو دہلی میں تین دن سے جاری تشدد نے خوفناک شکل اختیار کرلی تھی اور جعفرآباد، موج پور، چاند باغ اور ملحقہ علاقوں کی فضا بھی خراب ہو گئی۔ اسی اثنا میں، اشوک نگر علاقہ کی ایک شرمناک ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں کچھ غنڈے علاقے کی ایک مسجد پر چڑھتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں ایک شخص مسجد کے مینار پر چڑھتا ہے اور اوپر بھگوا پرچم لہرا دیتا ہے۔ اسی اثنا میں، ایک اور شخص مسجد کی طرف سے چڑھتا ہے اور ترنگا پرچم لہراتا ہے۔ اس دوران جے شری رام کا نعرہ گونجتا رہتا ہے۔

ذرائع  کے مطابق علاقے میں مسجد کے قریب رہائش پذیر دانش نامی شخص نے بتایا کہ جنونی ہجوم نے مسجد اور اس کے آس پاس کے پانچ چھ مکانات کو تباہ کر دیا اور لوٹ مار کی۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے سڑکوں پر بھیڑ دیکھی لیکن ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ لوگ ہمارے گھروں میں داخل ہوں گے۔ ہم نے پولیس کو بلایا لیکن جب تک پولیس پہنچتی بھیڑ نے مسجد اور گھروں پر حملہ کردیا اور سب کچھ تباہ کر دیا۔

دہلی میں منگل کے روز تشدد کے چوتھے دن ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہو چکی ہے، جبکہ 250 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز مشتعل ہجوم شمال مشرقی دہلی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر کھلے عام گھومتا رہا اور آگ زنی، پتھراؤ اور فائرنگ کی خبریں موصول ہوتی رہیں۔ اس دوران پولیس کا کردار پہلے کی طرح مشتبہ بنا رہا۔

ایک نظر اس پر بھی

راہل گاندھی نے امیٹھی کے لئے بھیجی امداد، مزدور بحران پر کپل سبل کا حکومت پر حملہ

کورونا وائرس کے بڑھتے اثر کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ 21 دن کے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں سے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو کہا گیا ہے، لیکن اس دوران یومیہ مزدوروں کو متعدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سونیا گاندھی نے لکھا پی ایم مودی کو خط ’منریگا کے تحت 21 دن کی اجرت پیشگی ادا کریں‘

 کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ 21 دن کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہی علاقوں میں مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہو گیا ہے، لہذا ان کارکنوں کو منریگا کے تحت ملنے والی 21 دن کی اجرت پیشگی ادا کی جائے۔

کرناٹک سے درجنوں افراد نے مرکز نظام الدین کے اجتماع میں شرکت کی؛ کورونا سے ایک کی موت، باقی کی نشاندہی کر کے کورانٹائن، 13/ افراد میں وائرس نہ ہونے کی تصدیق

دہلی کے مرکز نظام الدین میں 10/ مارچ کو ہوئے اجتماع میں شریک افراد میں سے 24 کے کورونا وائرس کا شکار ہوجانے اور ان میں سے6/افراد کی موت کی خبروں کے بعد اس مرکز کے اجتماع میں شرکت کے بعد اپنے اپنے مقامات پر لوٹنے والے افراد کی نشاندہی کر کے انہیں کورانٹائن کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

کورونا: ملک میں 32؍اموات،227نئے معاملے، جملہ 1251 ؍مریض، دنیا بھر میں مہلک مرض سے 37ہزار 519جانیں تلف، 781656؍متاثر

ملک میں پچھلے 24گھنٹوں میں کورونا وائرس انفیکشن کے 227 نئے معاملے سامنے آنے کے بعد انفیکشن کے کل مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1251ہوگئی اور تین مریضوں کی موت سے اس وائرس کی زد میں آکر مرنے والوں کی تعداد 32ہوگئی ہے -