مینگلورمیں ایڈمٹ، مشتبہ کورونا مریض کی صحتیابی کے بعدبھٹکل آمد؛ آج مزیدنمونے جانچ کے لئے شموگہ روانہ؛ جنوری کو بھٹکل آنے والوں کے بھی لئے گئے نمونے

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 6th April 2020, 8:44 PM | ساحلی خبریں |

بھٹکل 6/اپریل (ایس او نیوز)  کورونا  کو لے کر بھٹکل کے عوام میں ایک طرف راحت کی خبریں آرہی ہیں کہ پوزیٹو رپورٹ کے تمام مریض بالکل صحت مند ہیں اوراگلے دو ایک دن میں ایک ایک کرکے مزید مشتبہ مریض  اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے امکانات نظر آرہے ہیں وہیں بھٹکل کے لوگوں کے تھوک کے نمونے حاصل کرکے جانچ کے لئے شموگہ روانہ کرنے کا سلسلہ بھی ہنوز جاری ہے۔ 

تین ماہ قبل انڈونیشیا سے واپس لوٹنے والوں کے بھی نمونے لئے گئے:   ماہ جنوری میں  یعنی تین ماہ قبل انڈٖونیشیا سے بھٹکل پہنچنے والے  آٹھ لوگوں کے نمونے آج جانچ کے لئے شموگہ  روانہ کئے گئے ہیں اور تمام آٹھ لوگوں کو 14 دنوں تک ہوم کورنٹائن میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ منکی (ہوناور تعلقہ)  کے دو لوگ بشمول  جملہ دس لوگ ماہ جنوری میں  انڈونیشیا سے واپس بھٹکل لوٹے تھے، بھٹکل کے آٹھ لوگوں کے تھوک کے نمونے آج جانچ کے لئےشموگہ لیباریٹری روانہ کئے گئے ہیں ، توقع ہے کہ بدھ شام تک رپورٹ موصول ہوگی۔

دبئی سے لوٹنے والے تین لوگوں  کے بھی لئے گئے نمونے:  16 اور 22 مارچ کو دبئی سے لوٹنے والے  شوہر اور بیوی سمیت  تین لوگوں کے تھوک کے نمونے آج  جانچ کے لئے شموگہ روانہ کئے گئے ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بھٹکل مین روڈ کے رہنےوالے 31سالہ شوہر اور 20 سالہ ان کی اہلیہ 16/مارچ کو بھٹکل لوٹے تھے جبکہ  اہلیہ کے 56 سالہ والد  22مارچ کو بھٹکل آئے تھے۔بتایا گیا ہے کہ 20 سالہ خاتون کو  کھانسی  کی شکایت تھی، چونکہ تینوں بیرون ملک سے لوٹے ہیں اس لئے تینوں کے تھوک کے نمونے آج جانچ کے لئے شموگہ روانہ کئے گئے ہیں اور تینوں کو ہوم کورنٹائن میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مینگلورمیں ایڈمٹ مشتبہ کورونا مریض صحتیاب ہوکر پہنچا بھٹکل:  مینگلور کے وینلاک اسپتال میں  قریب 18 دن گذارنے کے بعد  بھٹکل کے شرالی کا ایک نوجوان  آج پیر کو صحتیاب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہوکر بھٹکل پہنچا، مگر بھٹکل پہنچتے ہی اسے پھر کورنٹائن میں رکھا گیا ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اس نوجوان کو 20/اپریل تک  بھٹکل سرکاری اسپتال میں کورنٹائن  میں رکھنے کے احکامات  موصول ہوئے تھے جس کےبعد قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی مداخلت کے بعد تنظیم  کے ہی تعاون سے اسے  ایک پرائیویٹ ہوٹل میں کورنٹائن میں رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 19 مارچ کو مینگلورائرپورٹ  اُترنے کےبعد اسے سیدھا وینلاک اسپتال لے جایا گیا تھا اور اس کے تھوک کے نمونے  جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے جس کے بعد اس کی رپورٹ کورونا پوزیٹیو آنے پر اسے وینلاک اسپتال کے خصوصی کورونا وارڈ میں منتقل کرکے اس کا علاج کیا جارہا تھا۔ چودہ دنوں تک کورنٹائن میں رکھے جانے کے بعد 2 اور 3 اپریل کو پھر اس کے تھوک کے نمونے لے گئے اور راحت کی خبر موصول ہوئی کہ دونوں مرتبہ اس کی رپورٹ نیگیٹو آئی۔ اسے آج پیر کو اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا اور اسپتال کی ایمبولنس سے ہی بھٹکل لایا گیا مگر بھٹکل میں اسے مزید 14 چودہ دنوں تک کورنٹائن میں رکھے جانے کے  احکامات کے بعد اب اس نوجوان کو تنظیم کی طرف سے ایک ہوٹل میں منتقل کیا گیا ہے۔

مینگلور سے کورنٹائن ہوکر مزید 5 لوگ پہنچے بھٹکل: دبئی سے 22 مارچ کو مینگلور ائرپورٹ  پر اُترنے والے مزید پانچ لوگوں کو بھی مینگلور وینلاک اسپتال میں داخل کرکے اُنہیں وہیں پر کورنٹائن پر رکھا گیا تھا، بتایا گیا ہے کہ ان کی رپورٹ نیگیٹیو آئی تھی مگر بیرون ملک سے آنے کی وجہ سے ان کا بھی مینگلور میں کورنٹائن کیا گیا تھا۔ شرالی کے نوجوان کے ساتھ یہ پانچوں لوگ جس میں ایک خاتون بھی شامل ہے،    آج اُسی ایمبولنس پر سوار ہوکر بھٹکل پہنچے۔ بھٹکل تعلقہ اسپتال میں حاضری کے بعد ان پانچوں کو ہوم کورنٹائن کی ہدایت دیتے ہوئے انہیں اپنے اپنے گھر جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ پانچ لوگوں میں دو کا تعلق صدیق اسٹریٹ، دو کا مدینہ کالونی اور ایک کا منکی سے ہے۔

انجمن کورنٹائن سینٹر میں موجود لوگوں کو رپورٹ آنے کا انتظار؛ گلف سے لوٹنے والے قریب 20 لوگ جنہیں  انجمن کورنٹائن سینٹر میں الگ تھلگ کمروں میں رکھا گیا ہے، اُن کے سیمپل سنیچر کو جانچ کے لئے  روانہ کئے  جاچکے ہیں،  توقع کی جارہی تھی کہ آج پیر کی شام تک رپورٹ موصول ہوگی اور ان لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دی جائے گی مگر شام کے 8:30 بجنے کے باوجود شموگہ سے رپورٹ موصول نہیں ہوئی تھی

ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کورنٹائن میں بیٹھے بعض لوگوں نے بتایا کہ ان کے سیمپل پہلے بھی روانہ کئے گئے تھے اور رپورٹ نیگیٹو آئی تھی، اب پھر ایک بار ان کے سیمپل  جانچ کے لئے روانہ کئے گئے ہیں اور اگر فوری رپورٹ آتی ہے تو ہم اپنے گھر جانے کی راہ تک رہے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے گھروں میں دس دنوں تک کورنٹائن میں رہنے کے بعد اب   گذشتہ چھ دنوں سے انجمن سینٹر میں کورنٹائن میں ہیں یعنی آج پورے سولہ دن ہورہے ہیں اور ہمیں گھر جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ سہولیات کے تعلق سے پوچھے جانے پر یہاں کے لوگوں نے بتایا کہ تنظیم کی طرف سے انہیں  کھانے پینے کی  بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہے اور ذمہ داران وقتاً فوقتاً حاضری دیتے رہتے  ہیں ان لوگوں نے بتایا کہ ہمیں کسی بھی قسم کی تکلیف نہ ہو، اس بات کا مکمل خیال رکھا جارہا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بیرون ریاست سے بھٹکل آنے والوں کو سرکاری طور پر مقرر کردہ مراکز میں کیا جائے گا کوارنٹین۔ اسسٹنٹ کمشنر بھرت کا بیان

بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر بھرت ایس نے بتایاہے کہ جو بھی افراد بیرون ریاست سے بھٹکل آئیں گے انہیں نئے پروٹو کول کے مطابق سرکار کی طر ف سے مقرر کردہ مراکز میں ہی کوارنٹین کیا جائے گا۔

کرناٹک میں کورونا کے اب تک کے سب سے زیادہ معاملات؛ ایک ہی دن سامنے آئے 515 معاملات؛ صرف اُڈپی میں ہی 204 کورونا پوزیٹو

ملک بھر میں لاک ڈاون میں  ڈھیل دی جارہی ہے اور پورے ملک میں لاک ڈاون کے بعد اب  اگلے چند دنوں میں  حالات نارمل ہونے کے امکانات  نظر آرہے ہیں مگر دن گذرنے کے ساتھ ہی کرناٹک میں کورونا کے معاملات میں کمی آنے کے بجائے  اُس میں مزید اضافہ ہی دیکھا جارہا ہے۔

بھٹکل میں ایک خاتون کی رپورٹ آئی کورونا پوزیٹو؛ یلاپور کے چھ اور کاروار سے ایک کی رپورٹ بھی کورونا پوزیٹو

کافی دنوں کے وقفے کے بعد آج بھٹکل میں ایک اور کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آئی ہے، جبکہ ضلع اُترکنڑا کے یلاپور سے چھ اور کاروار سے ایک کورونا کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ یاد رہے کہ بھٹکل سے کورونا کا آخری معاملہ 17 مئی کو سامنے  آیا تھا اور وہ شخص  یکم جون کو  ڈسچارج ہوگیا ...

کیرالہ سے داخل ہوتے ہوئے ساحلی کرناٹکا میں مانسون نے دی دستک۔ کرناٹکا میں پوری طرح مانسون شروع ہونے میں ہوسکتی ہے تاخیر

حسب معمول جون کے آغاز میں ہی مانسون نے کیرالہ میں داخلہ لیااور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے دودن پہلے ساحلی کرناٹکا میں دستک دی۔ جس کے ساتھ ہی مینگلور، اُڈپی، بھٹکل، کمٹہ اور کاروار وغیرہ علاقوں میں  موسلادھار بارش، طوفانی ہواؤں اور بادلوں کی گھن گھرج کے ساتھ مانسون نے اپنی آمد کا ...

اُڈپی میں کوویڈ کے بڑھتے معاملات پر بھٹکل کے عوام میں تشویش؛ پڑوسی علاقہ سے بھٹکل داخل ہونے والوں پر سخت نگرانی رکھنے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ

بھٹکل کورونا فری ہونے کے بعد اب پڑوسی ضلع اُڈپی میں روزانہ پچاس اور سو کورونا معاملات کے ساتھ  پوری ریاست میں اُڈپی میں سب سے  زیادہ کورونا کے معاملات سامنے آنے پر بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوام اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ اُڈپی سے کوئی بھی شخص آسانی کے ساتھ ...