منی لانڈرنگ قانون پرعدالتی فیصلے سے تشویش، 17اپوزیشن پارٹیوں کامشترکہ خط ، کہا کہ سپریم کورٹ کو فیصلہ سنانے کے بجائے وسیع تر بینچ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے تھا

Source: S.O. News Service | Published on 4th August 2022, 11:04 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 4؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ کی جانب سے منی لانڈرنگ ایکٹ  پر فیصلہ سناتے ہوئے اس کی تمام ترامیم کو برقرار رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پاس لامحدود اختیارات آگئے ہیں۔ اس کی وجہ سے حکومت کو بھی اپنے مخالفین پر شکنجہ کسنے میں آسانی ہو گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر ایک طرف جہاں قانونی برادری میں بھی تشویش پائی جارہی ہے وہیں  اس فیصلے پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھی کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ 

  سپریم کورٹ کے فیصلے کے تعلق سے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حزب اختلاف کی ۱۷؍ جماعتوں نے کہا کہ جن ترامیم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں سے کچھ کو فائنانس  ایکٹ کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس کا جائزہ ہی نہیں لیا۔ نیز فیصلہ سناتے وقت جن دلائل کو پیش کیا گیا وہ وہی دلائل ہیں جو انتظامیہ کی جانب سے ان سخت اور یکطرفہ ترامیم کی حمایت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ اسے کیا سمجھا جائے ؟ ہمیں اس فیصلے پر اعتراض ہے ۔ہم سپریم کورٹ کی طرف سے حال ہی میں منی لانڈرنگ کی روک تھام قانون میں کی گئی ترامیم کو مکمل طور پر برقرار رکھنے کے فیصلے کے طویل مدتی مضمرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

  اپوزیشن پارٹیوں کے مطابق  دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اس بات کا جائزہ  لئے بغیر فیصلہ سنا دیا کہ آیا ان میں سے کچھ ترامیم کو  فائنانس ایکٹ کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے یا نہیں!‘‘بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کل کو سپریم کورٹ  فائنانس ایکٹ کے ذریعے کی گئی ترامیم کو ناقص قرار دے دیتا ہے تو یہ پوری مشق فضول اور عدالتی وقت کا ضیاع ثابت ہوگی۔

 حزب اختلاف نے  اپنے مشترکہ خط میں کہا  کہ ہم سپریم کورٹ کا بہت احترام کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ تاہم، ہم اس بات کی نشاندہی بھی کرنے پر مجبور ہیں کہ فائنانس  ایکٹ کے ذریعے کی گئی ترامیم کی آئینی حیثیت پر غور کرنے والی بڑی بنچ کے فیصلے کا انتظار کیا جانا چاہئے تھا۔ ان دور رس ترامیم نے اس حکومت کے ہاتھ مضبوط  کئے ہیں جو منی لانڈرنگ اور تحقیقاتی ایجنسیوں سے متعلق انہی ترمیم شدہ قوانین کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو بدنیتی سے نشانہ بنا کر بدترین قسم کے سیاسی انتقام لینے میں  مصروف ہے۔ اسے روکنے کے بجائے اس کے ہاتھ میں ایک اور ہتھیار دے دیا گیا ہے۔

 بیان میں کہا گیا کہ ہم اس بات پر بھی بہت مایوس ہیں کہ ایکٹ میں چیک اینڈ بیلنس کی کمی پر آزادانہ فیصلہ دینے کے  لئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا گیا تھا لیکن اس نے انہی دلائل کو دوبارہ پیش کر دیا  جو عملی طور پر سخت ترامیم کی حمایت میں ایگزیکٹو کی طرف سے د ئیے جاتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ خطرناک فیصلہ قلیل مدتی ہوگا اور آئینی دفعات جلد ہی غالب ہوں گی۔قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ہفتے اپنے فیصلے میں ترمیم شدہ قانون کے تحت ای ڈی کو د ئیے گئے جامع اختیارات کو برقرار رکھا تھا۔

  اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر فیصلے پر نظرثانی کے لئے سپریم کورٹ جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس مشترکہ خط پر دستخط کرنے والی پارٹیوں میں کانگریس ، این سی پی ، ٹی ایم سی ، عام آدمی پارٹی ، سماج وادی پارٹی ، شیو سینا ، سی پی آئی ، سی پی ایم ، آر جے ڈی ، آر ایل ڈی اور دیگر شامل ہیں۔  

ایک نظر اس پر بھی

پی ایم مودی کی میٹنگ سے نتیش اور چندرشیکھر راؤ رہے غائب

وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز نیتی آیوگ کی ساتویں گورننگ کونسل کی میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ میٹنگ اتوار کو دہلی میں راشٹرپتی بھون کے کلچرل سنٹر میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی، لیکن دو بڑے لیڈران یعنی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور ...

پارتھا چٹرجی کے 50 بینک کھاتوں کا انکشاف

 انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے جو کروڑہا روپئے مالیتی اساتذہ بھرتی اسکام کی تحقیقات کررہا ہے، اس نے پارتھا چٹرجی اور ان کی معاون ارپیتا مکرجی کے کم از کم 50 بینک کھاتوں کا پتہ چلایا ہے، جو وہ انفرادی طور پر یا مشترکہ طور پر چلاتے تھے۔

فضائیہ کے سربراہ نے بنگلورو میں دیسی طیارے کی پرواز بھری

 فضائیہ کے سربراہ (سی اے ایس) ایئر چیف مارشل وی آر چودھری، بنگلورو کے دو روزہ دورے پر تھے۔ انھوں نے تین مقامی پلیٹ فارمز، ہلکا لڑاکا طیارہ (ایل سی اے) تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر (ایل سی ایچ) اور ہندوستان ٹربو ٹرینر -40 (ایچ ٹی ٹی-40) کی پروازیں بھریں، جنھیں آتم نربھر کے تئیں اپنی ...