ہندوستانی وزیر اعظم میں چین کا نام تک لینے کی ہمت نہیں! راہل گاندھی

Source: S.O. News Service | Published on 6th August 2020, 10:47 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،6؍اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی لداخ میں چینی دراندازی کے تیئں سچ نہیں بول رہے ہیں اور انہیں ملک کے عوام کو اس سے متعلق جھوٹ بولنے کی وجہ بتانی چاہیے۔ وزارت دفاع نے جمعرات کے روز اپنی ویب سائٹ پر ایک دستاویز اپلوڈ کیا تھا جس کے مطابق لداخ کے کئی علاقوں پر چینی فوج کی دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم بعد میں وزارت دفاع نے چین کی دراندازی کا اعتراف کرنے والے دستاویز کو ہٹا لیا۔ اسی کو لے کر راہل گاندھی نے پی ایم مودی کو ہدف تنقید بنایا۔

راہل گاندھی نے نریندر مودی سے کہا کہ وہ ملک کو غلط اطلاع دے رہے ہیں جبکہ خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ وزارت دفاع کی مئی کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ چین نے ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت کی رپورٹ میں ایک تفصیلی وضاحت دی گئی ہے۔ کانگریسی رہنما نے اس رپورٹ میں دی گئی وضاحت کے بارے میں ایک اخبار میں شائع خبر پوسٹ کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ’’وزیراعظم جھوٹ کیوں بول رہے ہیں‘‘۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے لکھا، ’’چین کے سامنے کھڑے ہونے کی بات بھول جایئے ہندوستانی وزیر اعظم میں اس کا نام لینے تک کی ہمت نہیں ہے۔ چین ہماری سرزمین پر ہے اس بات سے انکار کرنے اور ویب سائٹ سے دستاویزات ہٹانے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔‘‘

واضح رہے کہ وزارت دفاع نے اپنی ویب سائٹ پر ’ایل اے سی پر چینی دراندازی‘ کے عنوان سے ڈالے گئے دستاویز میں کہا تھا، ’’پانچ مئی سے چین لگاتار حقیقی کنٹرول لائن (ایل اے سی) پر دراندازی میں اضافہ کر رہا ہے، خاص طور پر وادی گلوان میں۔ چین نے 17 سے 18 مئی کے درمیان لداخ کے کنگرانگ نالا، گوگرا اور پینگونگ تسو جھیل کے شمالی ساحل پر دراندازی کی ہے۔

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ 5 مئی کے بعد سے چین کی یہ اشتعال انگیزی ایل اے سی پر نظر آ رہی ہے۔ 5 اور 6 مئی کو ہی پینگونگ تسو میں ہندوستان اور چینی فوج کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا تھا اور ہندوستان کے 20 فوجی جوانوں کی جان چلی گئی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...

بینکنگ ریگولیشن بل پر پارلیمنٹ کی مہر

 کوآپریٹو بینکوں کی بحالی اور نگرانی کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو زیادہ اختیارات دینے والے بینکنگ ریگولیشنز (ترمیمی) بل 2020 کو منگل کو راجیہ سبھا میں صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔