مرکزی کابینہ کی میٹنگ: تین طلاق بل کو پھرایک بارپارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2019, 12:30 PM | ملکی خبریں |

 نئی دہلی 13/جون (ایس او نیوز/ ایجنسی) وزیر اعظم مودی کی صدارت میں بدھ کو مرکزی کابینہ کی میٹنگ ہوئی ۔ اس میٹنگ میں کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڑیکر نے پریس کانفرنس کرکے کابینہ میٹنگ میں ہوئے فیصلوں کی جانکاری دی ۔ پرکاش جاوڑیکر نے بتایا کہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں طلاق ثلاثہ بل کو ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

خیال رہے کہ 16 ویں لوک سبھا تحلیل ہونے کے ساتھ ہی یہ بل غیر موثر ہوگیا تھا ۔ کیونکہ یہ پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس نہیں ہوسکا تھا ۔ بل راجیہ سبھا میں زیر التوا تھا ۔ مرکزی وزیر پرکاش جاوڑیکر نے بتایا کہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا اور اپوزیشن پارٹیوں نے اس پر جو اعتراضات کئے تھے ، ان پر بھی نوٹس لیا جائے گا ۔ یہ بل 17 جون سے شروع ہورہے 17 ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن میں پیش کیا جاسکتا ہے۔

مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں لئے گئے دوسرے فیصلہ کے تحت جموں و کشمیر میں بین الاقوامی سرحد پر رہنے الے گاوں کو بھی ریزرویشن ملے گا ۔ اس سے پہلے یہ ریزرویشن صرف ایل او سی کے نزدیک رہنے والے گاوں کو ملتا تھا ۔ 435 گاوں اور ساڑھے تین لاکھ لوگوں کو اس ریزرویشن کا فائدہ ہوگا ۔

مرکزی کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں 200 پوائنٹ روسٹر جاری رہے گا اور یونیورسٹی کو ہی ریزرویشن نافذ کرنے کی اکائی مانا جائے گا ۔ اس کیلئے بل لایا جائے گا ۔ جنرل کاسٹ کوٹے کیلئے 50+10 فیصد ریزرویشن کو جلد سے جلد نافذ کیا جائے گا ۔

اس کے علاوہ کابینہ کی میٹنگ میں جموں و کشمیر میں صدر راج کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ جموں و کشمیر میں دو جولائی کو صدر راج کی مدت ختم ہورہی ہے ۔ نئی مدت تین جولائی سے شروع ہوگی ۔

ایک نظر اس پر بھی

پارلیمانی اجلاس کا آغاز تین طلاق بل منظورکرانا حکومت کیلئے بڑا چیلنج

پارلیمنٹ کے پیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں نئی حکومت کے سامنے جہاں تین طلاق بل سمیت دس اہم آرڈیننس کو منظور کرانے کا بڑا چیلنج ہوگا، وہیں اپوزیشن پارٹیاں حکومت کو کسانوں، بے روزگاری، سکیولرزم، الیکٹرانک ووٹنگ مشین جیسے بہت سے دیگر مسائل پر گھیرنے کی کوشش کریں گی-