ریزرویشن بحران سے نپٹنے میں ایڈی یورپا حکومت ناکام: ایچ وشواناتھ

Source: S.O. News Service | Published on 25th February 2021, 11:54 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،25؍فروری(ایس او نیوز)کرناٹک میں مختلف طبقات کی طرف سے ریزرویشن کے معاملہ پر تحریکیں شدت اختیار کررہی ہیں۔ ریزرویشن کی مانگ کرتے ہوئے مختلف طبقات کے افراد سڑکوں پر اتررہے ہیں اور احتجاجات شروع ہو چکے ہیں، لیکن ریاستی حکومت اس صورتحال سے نپٹنے میں پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ یہ تبصرہ بی جے پی کے ہی رکن کونسل ایچ وشواناتھ نے کیا۔

ودھا ن سودھا میں چہارشنبہ کے روز اخباری نمائندوں سے انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کا مطالبہ کرنا عوام کا جمہوری حق ہے۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر اس سلسلہ میں آگے بڑھے۔ موجودہ ریزرویشن نظام کو کس طرح لاگو کیا گیا ہے اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی لانے کے لئے حکومت کی کیا مجبوریاں ہیں ان کے بارے میں حکومت کو تمام متعلقہ افراد کے سامنے حقائق رکھنے چاہئیں۔صرف ان تمام کی طرف سے دی جانے والی اپیلوں کو لے کر رکھ لینے سے عوام میں غلط تاثر قائم ہو گا۔ ریزرویشن کے مطالبات کو کس طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے اور دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے مانگوں کو کس طرح پورا کیا جائے گا، اس بارے میں بھی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا ہو گا۔ اگر تمام طبقات کو ریزرویشن دینے یا بڑھانے کا وعدہ کیا جاتا ہے تو اس کا انتظام کیسے ہو گا،اس کا بھی کوئی منصوبہ حکومت کے پاس ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پنچم سالی لنگایت طبقے کے مذہبی رہنما اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ ان کے طبقہ کے لئے 2Aزمرے کے تحت ریزرویشن کا اعلان فوری طور پر کیا جائے۔ جبکہ کروبا فرقہ مانگ کر رہا ہے کہ اسے درج فہرست قبائل میں شامل کیا جائے۔ ایس ٹی طبقات کو فی الحال 3فیصد ریزرویشن حاصل ہے۔ اس میں کروبا فرقہ کے شامل ہو جانے کے بعد ان کے ریزرویشن میں کتنا اضافہ کیا جائے گا اس کے بارے میں بھی حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں۔

وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا اور ان کے خاندان پر رکن اسمبلی بسونا گوڑا پاٹل یتنال کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے وشواناتھ نے کہا کہ یتنال کے تمام الزامات آئین کے دائرے میں ہیں۔انہوں نے کرپشن کے الزامات آئین کے دائرے میں رہ کر ہی عائد کئے ہیں،اس لئے ان کا جواب دینا چاہئے نہ کہ ان پر اعتراض کرنا۔ انہوں نے کہا کہ یتنال نے پارٹی یا حکومت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا، حکومت کی پالیسیوں اور طریقہ کار کے بارے میں وہ بیان دے رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اور ان کے خاندان کی طرف سے جاری کرپشن کو انہوں نے اجاگر کیا ہے۔ اس سوال پر کہ اس معاملہ میں اپوزیشن کیوں خاموش ہے، وشواناتھ نے کہا کہ سدارامیا اورکمارسوامی آپس میں اتحاد کرنے میں مصروف ہیں، اس لئے ان تمام امورپر توجہ دینے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

گوکرن کے مہابلیشور مندر کے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ : مندرکی نگرانی کے لئے کمیٹی تشکیل دینے کا حکم

اترکنڑاضلع کے ہندؤوں کے مشہورو تاریخی مذہبی مقام گوکرن کی مہابلیشور مندر کے تعلق سے سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ  ریاستی حکومت  مندر کے انتظامی امور کو رام چندر پور مٹھ سے واپس لے۔ یاد رہے کہ  پچھلی بی جے پی کی حکومت نے گوکرن کے مہابلیشور مندر کی انتظامیہ اور نگرانی رام چندر ...

لاک ڈاؤن کی بجائے دفعہ 144 نافذ کی جائے : سی ایم ابراہیم| کورونا سے شہید ہونے والے مسلمانوں کی تدفین کیلئے علاحدہ جگہ دی جائے : ضمیر احمد خان 

کورونا سے شہید ہونے والے مسلم طبقے کے افراد کی تدفین کے لئے علاحدہ جگہ دی جائے ۔رکن اسمبلی ضمیر احمد خان نے  ودھان سودھا میں ہوئی بنگلورو کے اراکین اسمبلی،اراکین پارلیمان کی میٹنگ میں یہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ایک رکن اسمبلی کے لئے 25 کووڈ بیڈ اسپتالوں میں ریزرو کئے ...

کرناٹک میں لاک ڈاؤن ضروری نہیں، نائٹ کرفیو کے اوقات میں تبدیلی نہیں، دفعہ 144 نافذ کریں؛ ریاستی حکومت کو اپوزیشن کے مشورے 

بنگلورو میں کووڈ۔ 19 معاملات تیزی سے بڑھنے کے سبب  وزیر اعلیٰ  یڈیورپا، بنگلورو کے وزراء، اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس منعقد کی گئی۔  جس میں حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ لاک ڈاؤن نافذ نہ  کر یں ،اسپتالوں میں کووڈ بستروں کی قلت دور  کریں۔مہلوکین کی ...

کرناٹک میں کورونا کی دہشت کا ایک اور ریکارڈ ، تقریباً 20 ؍ ہزار متاثر ، بنگلورو میں لاک ڈاؤن یا سخت امتناعی احکامات ؟

اتوارکے روز کرناٹک میں کورونا نے اپنا خوفناک ترین رخ پیش کیا اور اب تک متاثرین کی تعداد کا ایک نیا ریکارڈ سامنے آیا ریاست بھر میں 7 6 0 9 1 تازه معاملات سامنے آئے ۔ 81 لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے۔

بھٹکل: ریاست میں کورونا کے بڑھتے معاملات سےپریشان طلبہ نے پیر سے شروع ہونے والے امتحانات منسوخ کرنے ٹوئیٹر پر چلائی مہم

کورونا کی دوسری لہر میں  بڑھتے کیسس کے دوران ایک طرف  میٹرک اور سکینڈ پی یوسی کے امتحانات ملتوی اور منسوخ کئے جارہےہیں تو وہیں دوسری طرف ویشویشوریا ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے تحت آنے والی کالجس میں کل  پیر سے فرسٹ سیمسٹر کے امتحانات شروع ہورہےہیں۔