کچھ ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دینے کا ہو رہا مطالبہ، مرکز کے رخ سے سپریم کورٹ ناراض

Source: S.O. News Service | Published on 11th May 2022, 12:03 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی، 11؍مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہندوستان میں کچھ ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں ہندوؤں کی آبادی اقلیت میں ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان ریاستوں میں ہندوؤں کو اقلیتی درجہ دینے کا مطالبہ لگاتار ہو رہا ہے۔ ریاستی سطح پر ہندوؤں سمیت دیگر اقلیتوں کی شناخت کے ایشو پر مرکزی حکومت سے سپریم کورٹ نے جواب بھی مانگا تھا، لیکن مرکز کے رخ نے عدالت کو ناراض کر دیا ہے۔ دراصل حکومت نے اس ایشو پر عدالت میں دو بار الگ الگ جواب دیا ہے، جس پر عدالت عظمیٰ نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ریاستی حکومتوں کے ساتھ اس ایشو پر تین مہینے کے اندر مشورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی حکومت نے پیر کے روز سماعت کے دوران کہا تھا کہ اقلیتوں کو نوٹیفائیڈ کرنے کا حق مرکزی حکومت کے پاس ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی فیصلہ ریاستوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد لیا جائے گا۔ حالانکہ مرکزی حکومت نے مارچ میں کہا تھا کہ یہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کے اوپر ہے کہ وہاں کم تعداد ہونے پر ہندوؤں اور دیگر طبقات کو اقلیت کا درجہ دیں یا نہیں۔

اس معاملے پر جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بنچ نے کہا کہ اس طرح کے معاملوں میں ایک حلف نامہ داخل کیا جانا چاہیے کہ مرکز اور ریاست دونوں کے پاس اختیارات ہیں۔ بنچ نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مرکز کے پاس اختیار ہے، ہمارے جیسے ملک میں جس میں اتنا تنوع ہے، ہم سمجھتے ہیں لیکن مزید محتاط رہنا چاہیے تھا۔ ان حلف ناموں کو داخل کرنے سے پہلے سب کچھ پبلک ڈومین میں ہوتا ہے، جس کے اپنے نتائج ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ کو کچھ بھی کہنے سے پہلے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔

بنچ نے سماعت سے تین دن پہلے اسٹیٹس رپورٹ مانگتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت پہلے حلف نامے میں اپنا رخ واضح کر چکی ہے، لیکن تازہ حلف نامے سے پتہ چلتا ہے کہ اقلیتوں کی شناخت کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے پاس اختیار موجود ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ریاستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کے لیے تین مہینے کا وقت مانگا ہے۔ انھوں نے بنچ کو جانکاری دی کہ اس کو لے کر ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں متعلقہ محکموں کے تین وزراء سکریٹریوں کے ساتھ موجود تھے اور اس ایشو پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

حجاب کیس: ججوں کو دھمکیاں دینے والے شخص کی درخواست ضمانت مسترد

بنگلورو کی ایک سیشن عدالت نے تمل ناڈو کے ترونیل ویلی سے تعلق رکھنے والے رحمت اللہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جو حال ہی میں کلاس رومز میں حجاب پہننے پر فیصلہ سنانے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کی جان کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے کے الزام میں عدالتی حراست میں ہے۔ سٹی ...

اب کارڈ کے بغیر بھی اے ٹی ایم سے رقم نکالنا ہوا ممکن

آر بی آئی نے نیا اصول نافذ کر دیا ہے۔ اگر آپ کے پاس بینک کارڈ نہیں ہے اور آپ اے ٹی ایم سے رقم نکالنا چاہتے ہیں، تب بھی نکال سکتے ہیں۔ آر بی آئی نے تمام بینکوں سے کہا ہے کہ وہ کارڈ استعمال کیے بغیر رقم نکالنے کی سہولت فراہم کریں۔ تاہم،ایس بی آئی سمیت کچھ منتخب بینک پہلے ہی یہ سہولت ...

بھٹکل تعلقہ میں بارش سے پیش آنے والے حادثات کے موقع پر فوری کارروائی کے لئے نوڈل افسران نامزد

سال 2022کےمانسون  بارش کے دوران بھٹکل تعلقہ میں پیش آنے والے سماوی حادثات کے موقع پر فوری توجہ دیتے ہوئے امداد پہنچانے اور تعلقہ کی مکمل نگرانی کی سخت ضرورت  رہتی ہے۔تعلقہ میں موسلادھار یا تیز بارش کی وجہ سے عوام کو ہونے والی مشکلات و پریشانی ، جانی ، مالی ،جانوراور فصل کے ...

اب کارڈ کے بغیر بھی اے ٹی ایم سے رقم نکالنا ہوا ممکن

آر بی آئی نے نیا اصول نافذ کر دیا ہے۔ اگر آپ کے پاس بینک کارڈ نہیں ہے اور آپ اے ٹی ایم سے رقم نکالنا چاہتے ہیں، تب بھی نکال سکتے ہیں۔ آر بی آئی نے تمام بینکوں سے کہا ہے کہ وہ کارڈ استعمال کیے بغیر رقم نکالنے کی سہولت فراہم کریں۔ تاہم،ایس بی آئی سمیت کچھ منتخب بینک پہلے ہی یہ سہولت ...

کانگریس ’شیور‘ کے بعد مرکزی حکومت کو دباؤ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو گھٹانے کا فیصلہ کرنا پڑا: اشوک گہلوت

راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے کہا ہے کہ کانگریس کی طرف سے مہنگائی کے خلاف احتجاج اور اور ادے پور میں اس کے نوسنکلپ شیور کےعوامی بیداری مہم کے دباؤ میں مرکزی حکومت کو پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی کو کم کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

مدھیہ پردیش: مسلم ہونے کے شبہ میں جین بزرگ کا پیٹ پیٹ کر قتل

مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع میں بزرگ کا پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ضلع کے سب سے بزرگ سرپنچ پستا بائی چتّر کے بڑے بیٹے بھنور لال جین کو مسلمان ہونے کے شبہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔