’ہزاروں مہاجر مزدوروں کا پیدل سفر کرنا ’کورونا‘ سے بھی بڑا سانحہ‘: اجے ماکن

Source: S.O. News Service | Published on 28th March 2020, 11:15 PM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،28؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں پریشان حال غریب، مزدور، خواتین اور بچوں کا لاک ڈاؤں کے دوران شہروں سے اپنے گھروں کو لوٹنے کے لئے سینکڑوں کلو میٹر کا سفر پیدل طے کرنا آج کے دور کا ایک عظیم انسانی سانحہ ہے۔ اجے ماکن نے کہا کہ حکومت کی ناکامی، پولیس کی بریریت اور انتظامیہ کی بے حسی کے درمیان اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا پیدل نقل مکانی کرنا غالباً کورونا سے بھی زیادہ المناک ہے۔

واضح رہے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کی اترپردیش کی انچارج اور جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی 21 دن کے لاک ڈاؤن کے دوران کھانے پینے کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پیدل اپنے اپنے گھر وں کوجانے پرمجبور لوگوں کے حالت زار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انہیں ٹرانسپورٹ مہیا کرا کر کر مطلوبہ مقام تک پہنچانے یا پھر لاک ڈاؤن کی مدت تک انہیں ضروری سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

میڈیا کو جاری کئے اپنے بیان میں اجے ماکن نے کہا، ’’سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مزدور آخر شہروں سے گاؤں کی طرف پیدل سفر کرنے پر مجبور کیوں ہو رہے ہیں؟ دراصل ان کا ذریعہ معاش ختم ہو چکا ہے کیوں کہ مالکان نے انہیں نوکری سے نکال دیا ہے۔ دوسرا رہنے کے لئے انہیں جو جگہ دی گئی تھی وہ بھی ان سے چھین لی گئی ہے یا پھر مالک مکان ان سے کرایہ مانگ رہا ہے اور تیسرا ان کے پاس اب کھانے کے لئے بھی کچھ نہیں ہے کیوں کہ ان کے پیسے ختم ہو چکے ہیں۔ چوتھا سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ ان کا بھروسہ حکومتوں سے بھروسہ اور امید ختم ہو چکی ہے۔‘‘

اجے ماکن نے لاک ڈاؤن کو حکومت کی طرف سے بغیر غور و فکر کئے کی گئی ’تالا بندی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے 4 گھنٹے کے نوٹس پر فرمان جاری کر دیا جس کی وجہ سے یہ افرا تفری پھیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کانگریس کارکنان سے اپیل کی ہے کہ ان کی ہر ممکن مدد کی جائے، نیز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے بھی ان غریب مزدوروں کی مدد کے لئے وزیر اعظم کو خط ارسال کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب بیرون ملک سے ہندوستانیوں کی وطن واپسی کے لئے جہاز بھیجے جا سکتے ہیں تو پھر ان غریب لوگوں کے لئے حکومت انتظام کیوں نہیں کر سکتی؟

انہوں نے حکومت سے تین مطالبات کئے:

سب سے پہلے تو حکومت فوری طور پر ان مہاجر مزدوروں کے کھاتے میں ماہانہ 7500 روپے جمع کروائے، اسی سے زیادہ تر مزدور نقل مکانی کرنا شاید بند کریں گے۔

ریاستی حکومتوں کو ان غریبوں کے لئے مناسب مقدار میں راشن ، ادویات اور کھانا مہیا کرنا چاہئے۔

تمام غریب مہاجروں کو جو سڑکوں پر قیام کرنے پر مجبور ہیں یا دوسری ریاستوں میں اپنے گھروں سے دور درماندہ ہو گئے ہیں انہیں سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھتے ہوئے واپس لانے کا انتظام کیا جانا چاہئے۔

قبل ازیں، سونیا گاندھی نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ پیدل سینکڑوں کلومیٹر دور واقع اپنے گھروں کو جا رہے لوگوں کے مسئلے پر ان کی توجہ دلائی اور کہا کہ حکومت کو ان لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔

راہل گاندھی نے ہفتہ کو لوگوں سے ان مزدوروں کی مدد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا”آج ہمارے سینکڑوں بھائی بہنوں کو بھوکے پیاسے اپنے کنبوں سمیت اپنے گاؤں کی جانب پیدل جانا پڑ رہا ہے۔ اس مشکل راستہ پر آپ میں سے جو بھی انہیں کھانا پانی اور پناہ دے سکے، مہربانی کر کے یہ کریں ۔ کانگرس کارکنوں اوررہنماؤں سے مدد کی خاص اپیل کرتا ہوں، جے ہند“۔

پرینکا گاندھی نے کہا ”یوپی-بہار کی طرف پیدل ہی اپنے گھروں کو روانہ ہو رہے مزدوروں کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ بیرون ملک میں پھنسنے پر لوگوں کو گھر لایا جاتا ہے۔ ان مزدوروں کو بھی گھر جانے کی خواہش ہے۔ یوپی کانگریس’موٹروے ٹاسک فورس‘ بنا کر ان کی مدد کر رہی ہے، مگر حکومت کے تعاون کے بغیر ان کی مدد ممکن نہیں ہے“۔

وہیں، کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا”ہزاروں غریب خاندان سمیت یوپی ، بہار پیدل جانے پر مجبورہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کورونا وائرس سے نہیں تو بھوک سے مر جائیں گے۔ کیا اتنے بڑے انسانی المیہ کا کوئی جواب نہیں۔ کیا بسیں نہیں دے سکتے جو انہیں گھر چھوڑ سکے“۔

ایک نظر اس پر بھی

حاملہ ہاتھی کی موت تکلیف دہ، لیکن مینکا گاندھی کا بیان ناقابل قبول: رمیش چنیتھلا

کیرالا میں اپوزیشن رہنما رمیش چنیتھلا نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ مینکا گاندھی پر کیرالا کے سائیلینٹ ویلی جنگل میں ایک حاملہ جنگلی  ہاتھی کی دردناک موت کے معاملے میں ایک مخصوص طبقے کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے اور مَلّاپورم ضلع کو جرائم کے گڑھ کے طور پر پیش کرنے کا الزام عائد ...

مودی حکومت تبلیغی جماعت معاملہ میں نہیں چاہتی سی بی آئی انکوائری، حلف نامہ داخل

مرکزی حکومت نے دارالحکومت دہلی کے نظام الدین تبلیغی مرکز میں جماعتیوں کے اجتماع کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے ذریعہ جانچ کی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ دریں اثنا، عدالت نے معاملے کی سماعت جمعہ کے روز دو ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔

مینگلور: آئندہ صرف کورونا سے متاثر افراد کے گھروں کو ’سیل ڈاؤن‘ کیا جائے گا۔ علاقے کو’کٹینمنٹ زون‘ نہیں بنایا جائے گا؛ میڈیکل ایجوکیشن منسٹر کا بیان

سرکاری سطح پرکووِڈ 19کی وباء پر قابو پانے کے لئے ابتدا میں جوسخت اقدامات کیے جارہے تھے، اب بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ان میں نرمی لانے کا کام مسلسل ہورہا ہے۔

اُڈپی میں کورونا وائرس کے معاملات کو لے کر ریاستی وزیر اور محکمہ صحت کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق؛ کہیں رپورٹ کو چھپایا تو نہیں جارہا ہے ؟

اُڈپی ضلع میں کورونا وائرس کے معاملات کی تعداد کو لے کر ریاستی وزیر برائے محصولات آر اشوک اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری اطلاع میں فرق کی وجہ سے اُڈپی ضلع کے عوام تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں۔

کرناٹک میں کورونا کے 24 گھنٹوں میں 267 نئے معاملات ، داونگیرے میں مریض کی موت سے مرنے والوں کی تعداد 53

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران منگل کی شام 5 بجے تک ریاست میں 267 نئے کو رونا مریض پائے جانے سے ریاست میں کووڈ۔19 سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2494 تک پہنچ گئی اور داونگیرے میں مزید ایک مریض کے ریاست میں فوت ہونے سے ریاست میں اس وبائ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 53 ہوگئی۔

یکم جولائی سے کرناٹک میں اسکول کھل جائیں گے۔کلاسس شروع کرنے کے لئے مرحلہ وار تاریخوں کا اعلان

کرناٹک حکومت نے ریاست بھر میں یکم جولائی سے مرحلہ وار پرائمری اور سکینڈری اسکول کھول دینے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں - وزیر برائے بنیادی و ثانوی تعلیم سریش کمار کی صدارت میں محکمہ تعلیمات عامہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی میٹنگ کے بعد کمشنر برائے تعلیمات عامہ کی جانب سے اسکولس ...