بابری مسجد معاملہ: فیصلہ صادر ہونے سے پہلے یو پی کو خصوصی ہدایات جاری، سخت حفاظتی اقدامات کے دوران ایودھیا کو قلعہ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ

Source: S.O. News Service | Published on 7th November 2019, 12:40 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 7/نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) مرکزی وزارت داخلہ نے ایودھیا اراضی تنازعہ پر سپریم کورٹ کے آنے والے فیصلے کو دیکھتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو خصوصی ہدایت اور الرٹ جاری کیا ہے۔ ہدایات کے مطابق قانون و انتظام بنائے رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے احتیاطی طور پر ایودھیا کو کسی قلعہ کی طرح بدل دیا جائے گا۔

مرکزی وزارت داخلہ نے دہشت گردانہ خطرات کے بارے میں خفیہ خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلّہ کے حکم پر گزشتہ ہفتہ جاری ایک سرکلر کے ذریعہ اتر پردیش حکومت کو پھر سے محتاط رہنے کے لیے کہا ہے۔ اس میں ریاستی حکومت کو پولس فورس کی زیادہ تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔ وہیں سوشل سائٹس پر کوئی افواہ نہ پھیلے، اس لیے ان پر بھی نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔

ایک اعلیٰ سطحی ذرائع نے بتایا کہ ایودھیا میں ایک عوامی نظامِ خطاب (پبلک ایڈریس سسٹم) چلانے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔ ایسا اندیشہ ہے کہ سماج دشمن عناصر لوگوں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر سکتے ہیں۔ اس لیے سرکلر میں اتر پردیش حکومت کو ریاست میں انتہائی حساس علاقوں پر نظر رکھنے اور اہم مقامات پر پولس فورس تعینات کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ اتر پردیش کے چیف سکریٹری راجندر کمار تیواری، پولس ڈائریکٹر جنرل او پی سنگھ اور دیگر محکموں کو آخر وقت میں ہونے والی بے ضابطگیوں سے بچنے کے لیے خاص ہدایات بھیجے گئے ہیں۔ خفیہ اطلاعات میں پتہ چلا ہے کہ لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین جیسے گروپوں سے جڑے تقریباً نصف درجن دہشت گرد اپنے پاکستانی آقاؤں کے اشارے پر ریاست میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے نیپال کی سرحد سے ہو کر اتر پردیش میں داخل ہو چکے ہیں۔ خفیہ اطلاعات میں متنبہ کیا گیا ہے کہ دہشت گرد ایودھیا اور آس پاس کے شہروں میں چھپے ہو سکتے ہیں اور ایودھیا میں ہندو مردوں کی شکل میں داخل ہو سکتے ہیں۔

غور طلب ہے کہ ایودھیا سیکورٹی کو لے کر ہمیشہ ہائی الرٹ پر رہتا ہے۔ خاص طور سے متنازعہ مقام کے آس پاس کافی سیکورٹی رہتی ہے۔ ریاست کے پولس محکمے نے بھروسہ دلایا ہے کہ جس دن سپریم کورٹ ایودھیا معاملے پر اپنا فیصلہ سنائے گا، اس دن قانونی نظام بنائے رکھنے کے لیے شہر میں 50 ہزار سے زیادہ پولس اہلکار تعینات رہیں گے۔ اتر پردیش کے ایک پولس افسر نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ بھیڑ پر نظر رکھنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور ڈرون سمیت انسداد دہشت گردی دستہ، خصوصی پولس اور نیم فوجی دستہ کے جوانوں کو بھی تعینات کیا جائے گا۔

افسر کے مطابق آر اے ایف کمپنیوں کے علاوہ پی اے سی کی تقریباً 50 کمپنیاں تیار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پی اے سی اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی تقریباً 10 کمپنیاں مستقل طور پر متنازعہ جگہ پر سال بھر کے دوران سیکورٹی کے لیے تعینات رہیں گی۔ افسر نے کہا کہ ایک درجن سے زیادہ پولس سپرنٹنڈنٹ، 30 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور دیگر ذیلی رینک کے افسران کو ایودھیا کی سیکورٹی میں لگایا جائے گا جنھیں کل آٹھ علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی-شاہ کی قیادت کی وجہ سے ایودھیا پر ایسا فیصلہ آیا، یوگا گرو بابا رام دیو نے نوے فیصد مسلمانوں کے آباء واجداد کو ہندو بتایا

 9 نومبر کو ایودھیا معاملے میں فیصلہ آنے کے بعدجہاں پہلے ہرطرف’’ امن اورکسی کی جیت نہیں ‘‘کے دعوے اوربیانات دیے جارہے تھے،اب حسب ِ توقع اشتعال انگیزبیانات آنے شروع ہوگئے ہیں۔جس سے سوال آتاہے کہ کیااپنے لیڈروں کوزبان قابورکھنے کی نصیحت بھی جملہ تونہیں تھی؟

لکھنؤ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ، بابری مسجد معاملہ کے فریق اقبال انصاری ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے

 آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عاملہ کی میٹنگ اتوار 17؍ نومبر کو دارالعلوم ندوۃ العلماء میں منعقد ہوگی، اس میٹنگ میں ملک بھر سے بورڈ کے ایکٹیو اراکین شامل ہونے کےلیے وہاں پہنچ چکے ہیں صبح ساڑھے گیارہ بجے سے میٹنگ شروع ہوگی۔

کشمیر: خراب موسمی حالات، جوتوں کی قیمتیں آسمان پر

 وادی کشمیر میں وقت سے پہلے ہی موسم کی بے رخی نے جہاں اہلیان وادی کو درپیش مصائب ومسائل کو دو بھر کردیا وہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ جوتے فروشوں نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔

کشمیر میں غیر یقینی صورتحال کا 104 واں دن، ہنوز غیر اعلانیہ ہڑتالوں کا سلسلہ جاری

وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز لگاتار 104 ویں دن بھی غیر یقینی صورتحال کے بیچ معمولات زندگی پٹری پر آتے ہوئے نظر آئے تاہم بازار صبح اور شام کے وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور سڑکوں پر اکا دکا سومو اور منی گاڑیاں چلتی رہیں لیکن نجی ٹرانسپورٹ کی بھر پور نقل وحمل سے کئی مقامات پر ٹریفک جام ...