محبوبہ مفتی کی نظربندی میں مزید تین ماہ کی توسیع، سب جیل میں رہیں گی

Source: S.O. News Service | Published on 1st August 2020, 10:56 AM | ملکی خبریں |

سری نگر،یکم اگست(ایس او نیوز؍ایجنسی) جموں و کشمیر حکومت نے پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، جو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند ہیں، کی نظربندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے۔ محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری شالین کابرا کی طرف سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق محبوبہ مفتی دختر مرحوم مفتی محمد سعید ساکنہ بجبہاڑہ حال نوگام سری نگر کی نظربندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور انہیں سب جیل فیئر ویو گپکار روڈ میں ہی بند رکھا جائے گا۔

قبل ازیں حکومت نے محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ ساٹھ سالہ محبوبہ مفتی، جنہیں پانچ اگست 2019 کو حراست میں لیکر چشمہ شاہی کے گیسٹ ہائوس میں نظربند کیا گیا تھا، کو گذشتہ برس نومبر کے وسط میں مولانا آزاد روڑ پر واقع سرکاری کوارٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کے لئے سرما کے پیش نظر گرمی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔

بتادیں کہ محبوبہ مفتی سال 2016 میں پہلی مسلم خاتون وزیر اعلیٰ کے بطور تختہ پر براجمان ہوئی تھیں لیکن یہ عہدہ ان کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہوا تھا کیونکہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے روز اول سے ہی نہ صرف ہر گزرتے دن کے ساتھ محبوبہ مفتی کی سیاسی ساکھ تنزل پذیر ہوئی تھی بلکہ پارٹی میں اندورنی خلفشار آہستہ آہستہ آتش فشاں کی صورت اختیار کرتا گیا تھا جو بعد میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے پاش پاش ہونے کے ساتھ ہی پھٹ گیا تھا۔

محبوبہ مفتی سال 1996 میں ریاست کے سیاسی افق پر جلوہ افروز ہوئی تھیں اور اسی سال جموں وکشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ انتخاب بجبہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں گذشتہ برس منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات میں اپنے پشتنی پارلیمانی حلقے سے پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس کے چند ماہ بعد جب مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 منسوخ کیں اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا تو علاقائی جماعتوں اور کانگریس کے درجنوں سیاسی لیڈران کو بند کیا گیا۔ رواں برس 6 فروری کو محبوبہ مفتی کے علاوہ عمر عبداللہ، نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور پی ڈی پی لیڈر سرتاج مدنی پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا تھا۔

پی ایس اے، جس کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ نے جنگل اسمگلروں کے لئے بنایا تھا، کو انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ایک 'غیرقانونی قانون' قرار دیا ہے۔ اس قانون کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم تین ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیا جاتا ہے۔ جن پر اس ایکٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

ابھی اعظم خان اور اہل خانہ کو جیل میں ہی رہنا ہوگا، ضمانت کی عرضی خارج

سماجوادی پارٹی کے قدآور رہنما اور رامپور سے رکن پارلیمان اعظم خان ان کی بیوی تزئین فاطمہ اور بیٹے عبداللہ اعظم کی ضمانت کی عرضی پر آج اپنا فیصلہ سناتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے ان کی عرضی خارج کردی۔