ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

Source: S.O. News Service | Published on 13th November 2019, 8:34 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

نئی دہلی،13/نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردار ایسے بھی سامنے آئے  ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا، جنہوں نےایودھیا معاملے میں اپنے مذہب سےاوپراٹھ کرکردارادا کیا، جن کے مذہب پران کے عہدے اورکام کی وفاداری بھاری تھی۔ جب کسی نظام پرعام آدمی کا بھروسہ ٹوٹنے لگتا ہے تب ایسے ہی لوگ اندھیرے میں اعتماد کی روشنی دکھاتے ہیں۔ آئیےملتے ہیں ایودھیا معاملے کے ایسےکرداروں سے۔

کے کے محمد: آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق علاقائی ڈائریکٹرکےکے محمد نے ایودھیا میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ واضح طورپرمسجد کے نیچےایک مندرکی موجودگی کے نشانات (باقیات) ملے ہیں۔ ان کی رپورٹ ہندو فریق کےلئے سب سے بڑا ہتھیارتھا۔ 77-1976 کی کھدائی میں وہ شامل تھے۔ وہ کیرلا کے کالی کٹ کے رہنے والےہیں۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے، جو کھدائی 2003 میں ہوئی اس میں بھی تین مسلمان شامل تھے۔

پی این شکلا: 6 دسمبر 1992 بابری مسجد شہادت کے بعد شام سوا پانچ بجے تھانہ رام جنم بھومی، اجودھیا میں نامعلوم کارسیوکوں کے خلاف بابری مسجد منہدم کرنے کی سازش، مارپیٹ اوردیگرمعاملوں میں کیس درج کیا گیا تھا۔ ہندو - مسلم جھگڑے میں ہندوؤں کے خلاف ایف آئی آر ایک ہندو نے درج کی۔ وہ تھےتھانہ انچارج کے طورپرکام کررہے پی این شکلا۔ وہ کیس نمبر197 تھا۔

گنگا پرساد تیواری: بابری مسجد انہدام معاملے میں اجودھیا کے رام جنم بھومی تھانے میں 198 نمبرکیس درج ہوا۔ اس میں اشوک سنگھل، گری راج کشور، لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہرجوشی، وشنوہری ڈالمیا، ونےکٹیار، اوما بھارتی اورسادھوی رتھنبھرا سمیت 8 لوگوں کے نام تھے۔ الزام تھا کہ رام کتھا کنج سبھا منچ سے مسلم طبقےکے خلاف مذہبی منافرت بھڑکانے والی تقریرکے ذریعہ بابری مسجد منہدم کرائی گئی۔ ان بڑے ہندو لیڈروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے والا افسرہندوتھا۔ وہ تھانہ رام جنم بھومی کے پولیس افسرگنگا پرساد تیواری تھے۔

افضل امان اللہ:  رام مندرتحریک کو سیاسی رنگ دینے والے سب سے بڑے چہروں میں سے لال کرشن اڈوانی ایک رہے ہیں۔ انہوں نے25 ستمبر1990 کوسومناتھ سے رتھ یاترا شروع کی۔ 19 اکتوبرکووہ دھنباد پہنچے، تب دھنباد کےڈی ایم افضل امان اللہ تھے۔ بہارکےاس وقت کے وزیراعلیٰ لالوپرساد یادونےافضل امان اللہ کوحکم دیا کہ وہ اڈوانی کوگرفتارکریں۔ امان اللہ نےایسا کرنے سےانکارکردیا۔ تاکہ ماحول نہ بگڑے۔ وہ سید شہاب الدین کے داماد ہیں۔ تب شہاب الدین بابری مسجد ایکشن کمیٹی کےکنوینرتھے۔ اس لئےاگراڈوانی کوایک مسلم افسر، وہ بھی سید شہاب الدین کا رشتہ دارگرفتارکرواتا تو جھگڑا بڑھ جاتا۔

آرکے سنگھ: 23 اکتوبر1990 کوایل کےاڈوانی سمستی پورپہنچ چکے تھے، تب وہاں کے ڈی ایم آرکے سنگھ تھے۔ لالویادونےانہیں اڈوانی کوگرفتارکرنےکا حکم دیا۔ اس پرآرکے سنگھ نے ہندوتوا کی شناخت بن چکے رام رتھ یاتری اڈوانی کوگرفتارکروالیا۔ اس گرفتاری کے ساتھ ہی رتھ یاترا ختم ہوگئی۔ حالانکہ پورے ملک میں اس کا سخت ردعمل سامنےآیا۔ آرکے سنگھ بعد میں مرکزی داخلہ کے سکریٹری بنے۔ اتفاق کی بات یہ ہےکہ انہیں بی جے پی سے ٹکٹ ملا اوروہ الیکشن جیت گئے۔ اب وہ مودی حکومت میں وزیرہیں۔

ایڈوکیٹ راجیودھون:  ایودھیا معاملے میں مسلم فریق کی طرف سے جس  نے سپریم کورٹ میں وکالت کی وہ ہندوہیں۔ سینئرایڈوکیٹ راجیودھون اس معاملے میں سنی وقف بورڈ کی دلیل رکھ رہے تھے۔ راجیودھون مسلسل اپنی دلیلوں اورہندو فریقوں کے موقف پرحملہ کرکے سرخیوں میں رہے ہیں۔ اسی 16 اکتوبرکوانہوں نے ہندوسبھا کے وکیل کی طرف سے پیش کئےگئےایک نقشے کوعدالت میں پھاڑدیا تھا۔ 72 سال کے راجیودھون حقوق انسانی کارکن ہیں۔ انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔

جسٹس ایس عبدالنظیر:  ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ نے متنازعہ زمین رام للا وراجمان کو دے دی ہے۔ اس تاریخی فیصلے کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی پانچ ججوں کی جس بینچ نےاتفاق رائے سے فیصلہ سنایا، اس میں واحد مسلم جج جسٹس ایس عبدالنظیربھی شامل ہیں۔ جسٹس عبدالنظیرنے فروری 1983 میں کرناٹک ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ 2003 میں انہیں کرناٹک ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج بنایا گیا۔ 2004 میں انہیں مستقل جج نامزد کیا گیا۔ فروری 2017 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج بنایا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

منگلورو:سی اے اے کی حمایت میں اجلاس عام وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی شرکت۔ نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ بھٹکل سے منگلورو سفر کرنے والے نوٹ کریں

منگلورو میں شہریت ترمیمی قانون سی اے اے اور این آر سی کی حمایت میں اجلاس عام کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ شرکت کررہے ہیں۔

آئین کے بنیادی اقدار کے مطابق بھائی چارہ، یکجہتی قائم رکھیں: اشوک گہلوت

راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے یومِ جمہوریہ 2020 کے موقع پر ریاست کے باشندوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مبارک موقع پر ہم میں ہرشخص آئین کے بنیادی اقدار کے مطابق آپسی بھائی چارے اور یکجہتی کے ساتھ ملک کے اتحاد اور سالمیت کو قائم رکھیں۔

دہلی کے راج پتھ پر دھوم دھام سے71 واں جشن یوم جمہوریہ منایا گیا دنیانے فوج کی طاقت، ہندوستان کی شان و شوکت اور ثقافتی ورثے کا کیا مشاہدہ

صدر رام ناتھ کووندنے اتوار کو 71 ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر راج پتھ پرسلامی لی۔لیفٹیننٹ جنرل مستری، جنرل آفیسرکمانڈنگ، ہیڈکوارٹر دہلی ایریا کی طرف سے اس سال یوم جمہوریہ کی پریڈ کی قیادت کی گئی۔ اس دوران راج پتھ پر سخت سیکورٹی کے درمیان ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی، مہمان خصوصی ...

شاہین باغ وہ انقلاب ہے جو اب تھمنے والا نہیں ... آز:ظفر آغا

شاہین باغ اب محض ایک پتہ نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس کا سلسلہ 1857 سے ملتا ہے۔ جی ہاں، 1857 میں جس طرح انگریزوں کے مظالم اور ناانصافی کے خلاف بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ایک بغاوت پھوٹ پڑی تھی، ویسے ہی نریندر مودی کے خلاف شاہین باغ سے ایک بغاوت کا نقارہ بج اٹھا ہے اور ...

کنڑا روزنامہ کا بی جے پی پر پھر وار؛ لکھا،کرناٹک سے بی جےپی کے 25ایم پی منتخب ہونے کے باوجود مرکز نے کیا کرناٹک کو نظر انداز

بی جےپی اور اس کے لیڈران سمیت پالیسی کی زبردست حمایت کرنےو الے کنڑا روزنامہ ’وجئے وانی ‘ نے دوسرے دن بھی اپنے فرنٹ پیج پر بی جےپی کی مرکزی حکومت پر کڑی تنقید کرتےہوئے اپنی ہی پارٹی کے زیر اقتدار ریاست کرناٹکا کو نظر انداز کئے جانےکے متعلق رپورٹ شائع کی ہے ، جس کا ترجمہ قارئین ...