مولانا بدر الدین اجمل نے تمام اپوزیشن لیڈروں کو خط لکھا، شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کی اپیل

Source: S.O. News Service | Published on 8th December 2019, 12:12 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،8/دسمبر (ایس او نیوز/یو این آئی)  آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو خط لکھ کر متنازعہ شہریت ترمیمی بل کی پارلیمنٹ میں مخالفت کرنے کی اپیل کی ہے۔یہ اطلاع آج یہاں انہوں نے جاری ریلیزمیں دی گئی ہے۔

انہوں نے اس سلسلہ میں بہت سی پارٹیوں کے لیڈروں سے فون پر بھی بات کی ہے اور بہت سے لیڈروں سے ابھی بھی بات کرنے کا سلسلہ جاری ہے تاکہ ان سب کو اس بل کی مخالفت پر آمادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کی طرف سے 9، دسمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے دھرنا میں بھی شریک ہونے کی تمام سے درخواست کی ہے۔مولانانے اپنے خط میں لکھا ہے کہ مجوزہ شہریت ترمیمی بل مذہب کی بنیاد پر غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی وکالت کرتا ہے جبکہ ہمارے ملک کا قانون مذہبی تعصب اور تفریق کی بالکل بھی اجازت نہیں دیتاہے اسلئے اس بات کا ڈر ہے کہ اس بل سے مذہبی منافرت کو ہوا ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ بل پاس ہو گیا تو اس ملک کی سلامتی و سیکورٹی کے لئے انتہائی خطرناک ہوگا کیونکہ جب بغیر کسی ڈوکومنٹ کے بھی ان لوگوں کو شہریت دی جائے گی تو عین ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ملک مخالف عناصر کا ایجنٹ بن کر یہاں آئے اور ملک مخالف کام کو انجام دے اور یہ کہ وہ کسی اعلی عہدہ پر فائز ہو جائے اور ملک کے راز کو دشمن تک پہونچا دے جس کی قیمت اس ملک کو چکانی پڑے۔

مولانا اجمل نے کہاکہ تیسری بات یہ کہی کہ ہم لوگ ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ غیر قانونی طریقہ سے آیا ہوا کوئی بھی غیر ملکی ہو اسے باہر بھیجا جانا چاہئے خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو مگر یہ بل ان میں بھی مذہب کی بنیاد پر تفریق کر رہا ہے کہ اگر غیر قانونی طریقہ سے آیا ہوا کوئی غیر ملکی اگر مسلمان ہے تو وہ درانداز ہے اور اگر وہ غیر مسلم ہے تواس کا استقبال کیا جائے گا یہ ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

مولانا اجمل نے کہاکہ چوتھی بات یہ کہ سرکار ہمیشہ رونا روتی ہے کہ ملک کی آبادی بہت زیادہ ہو رہی ہے اور وسائل کی کمی ہے تو پھر دوسرے ممالک سے لوگوں کو لاکر کیوں بوجھ ڈالا جارہا ہے؟کیا اس وسائل کی کمی اور روزگار کی کمی میں اضافہ نہیں ہوگا؟مولانا نے کہا کہ ان سب باتوں کے پیش نظر ہم تمام پارٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بل کو پارلیمنٹ میں پاس ہونے سے روکے ورنہ اس کا نتیجہ بہت خطرناک ہوگا۔

مولانا اجمل نے جن لوگوں کو خط لکھا ہے ان میں گانگریس صدرسونیا گاندھی، گانگریس لیڈر راہل گاندھی، غلام نبی آزاد،ادھیر رنجن چودھری اور احمد پٹیل، بی ایس پی کی صدر مایا وتی،پارٹی لیڈرستیش چندر مشرا اور کنور دانش علی، ایس پی رہنماملائم سنگھ، اکھلیش یادو اور پروفیسر گوپال یادو، عام آمی پاٹی کے سنجے سنگھ اور مان سنگھ، این سی پی کے صدر شرد پوار اور سپریا سولے، آ ر جے ڈی کے پروفیسر منوج جھا، جے ڈی یو کے صدر اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار،پارٹی لیڈر راجیو رنجن اورآر سی پی سنگھ، ڈی ایم کے لیڈر شریمتی کنی موجھی اور ٹی آر بالو،تیلگو دیشم پارٹی کے رام موہن نائیڈو اور ٹی ایس لکشمی، ٹی ایم سی کی صدر اور مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی، پروفیسر سوگوت رائے،سندیپ بند اپادھیائے اور ڈاریک اوبرین،ٹی آر ایس کے صدر کے چندر شیکھر راؤ، نما ناگیشھور راؤ اور کے کیشو راؤ، بی جے ڈی کے صدر نوین پٹنائک، بی مہتاب،پیناکی مشرا اور پرسنا اچاریہ، سی پی ایم کے پی آر نٹراجن، وائی ایس آر کانگریس کے صدر اور آندھرا پردیش کے صدر جگن موہن ریڈی،پارٹی لیڈر میدھن ریڈی، شیو سینا صدر اور مہارشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے، سنجے راوت اور ونایک بی راوت وغیرہ شامل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

باپ کی املاک پر بیٹی کا بیٹے کی طرح یکساں حق: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے منگل کو ایک دور رس نتائج والے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ ہندو غیر منقسم خاندان کی آبائی املاک میں بیٹی کو بیٹے کی طرح ہی حقوق حاصل ہوں گے، یہاں تک کہ اگر ہندو جانشینی (ترمیمی) ایکٹ 2005 کے نفاذ سے قبل ہی اس کے والد کی موت کیوں نہ ہوگئی ہو۔

راجستھان میں سیاسی صلح، بی جے پی کے منھ پر زور کا طمانچہ: کانگریس

کانگریس نے راجستھان یونٹ میں کئی دنوں سے جاری تنازعہ کے سلجھنے پر ریاست کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے پارٹی اعلیٰ کمان کے ’سب کو ساتھ لے کر چلنے‘ کی پالیسی کا نتیجہ بتایا کہ اور کہا کہ یہی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کرارا جواب ہے۔

یو جی سی امتحانات معاملے میں سماعت جمعہ تک ملتوی

سپریم کورٹ نے پیر کے روز حکومت سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی ہدایت کو متاثر کر سکتا ہے؟ ۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے معاملے کی سماعت 14 اگست تک ملتوی کردی ۔