مولانا ابوالکلام آزادؒ ۔ مجاہدِآزادی، جدید ہندوستان کے معمار ۔۔۔۔۔۔۔ از: قادر میراں پٹیل، بھٹکل

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 18th November 2021, 8:14 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

11نومبر1888ء میں جس   بطلِ جلیل نے  مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر اپنی آنکھیں کھولی تھیں، دنیا اسےمولانا ابواکلام آزاد کے نام سے جانتی ہے۔ باشندگانِ ہند کو یہ حق پہنچتاہے کہ ان کی  یوم ِ پیدائش ’’یومِ تعلیم ‘‘ کے نام سے معنون ہو، کیونکہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم رہ چکے ہیں۔

مولانا ابوالکلام آزاد  صرف وزیر تعلیم ہی نہیں ، بلکہ مجاہد ِآزادی بھی تھے۔ بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ مجاہدینِ آزادی کی اگلی صف میں بھی سب سے آگے تھے۔ کسی شاعر نے ایک شعر کہاہے؎

گلشن پرست ہوں ، تجھے گل ہی نہیں عزیز                                                                                                                                                                                                                                      کانٹوں سے بھی نبھا کئے جارہاہوں

ایسے لگتاہے کہ شاعر نے اسی شخصیت کو سامنے رکھ کر ان کی زندگی کے اتار چڑھاؤکو پیش کیا ہے، گلشن پرستی میں انہوں نے صرف ’’گل ‘‘ کو ہی سینے سے لگائے نہیں رکھا، بلکہ کانٹوں کو بھی اپنے دامِ محبت میں الجھائے رکھا۔ مولانا ابواکلام آزاد ؒ کی صفات عالیہ کا تذکرہ چھیڑا جائے تو مختصر مضمون کافی نہیں ہوگا۔ جس شخصیت پر عقیدت مندوں نے عقید ت کے پھول نچھاور کئے ہوں  اور معاندین و ناقدین نے عناد و نقد کے تیروں سے اس کا سینہ چھلنی کر دیا ہو، اس کا تذکرہ بقول شاعر؎                                                                           ’سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کےلئے ‘۔

مولانا ابوالکلام آزادؒ ایک بے باک صحافی تھے۔ بے باکی کے بغیر صحافت بے معنی چیز ہے۔ موجودہ دور میں صحافت کے رنگ و روپ ہمارے سامنے ہیں۔ وہ ایک ایسے بے باک صحافی تھے جو حق کی سربلندی کے لئے کسی حد پر رکنے والے نہیں تھے۔ انگریزوں کی مضبوط جمی جمائی حکومت پر اپنے اخبار ’’الہلال ‘‘ کے ذریعے وہ تیر ونشتر داغتے کہ انگریز بلبلہ اٹھتا۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ الہلال اخبار کو بند کردیا گیا ۔ اس کا پریس ضبط کیاگیا ۔

ابوالکلام، ابوالکلام  ہی تھے ۔ ایک شعلہ بیان مقرر، شعلہ صفت انشا پرداز، اپنی تقریر اور تحریر کے ذریعے پورے ملک میں آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں کے کسی قسم کے تعاون ،اپنے حقوق کی بھیک مانگنے  کی پالیسی کے سخت مخالف تھے۔ باشندگان ِ ہند کو انگریزوں سے مکمل عدمِ تعاون اور عدمِ اشتراک کا سبق پڑھایا۔

 1939ء میں وہ دوبارہ کانگریس کے صدر بنائے گئے۔ جنگِ عظیم دوم کے پُرآشوب حالات میں تحریک ِآزادی کی قیادت کی۔ سبھاش چندر بوس کی انقلابیت ، نہرو کی اشتراکیت ،گاندھی کے آئیڈیلزم کے درمیان مولانا آزادکی وہ واحد شخصیت تھی جو اعتدال کی راہوں پر قائم اور اس کی داعی رہی۔ مولانا ایک وفاقی حکومت کے قیام کے خواہاں تھے جس میں دفاع، خارجہ پالیسی اور کمیونکشن کے علاوہ تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔ مولانا آزاد کی رائے کو اس وقت مان لیاجاتا تو تقسیم کے درد ناک سانحہ سے بچا جاسکتاتھا۔ آخر تک متحدہ ہندوستان کے لئے لڑتے رہے مگرزمانے نے زمانے سے آگے سوچنے والے اس قائد کی ایک نہ سنی ، تقسیم کا سانحہ پیش آگیا۔ ہندو مسلم اتحاد کے اس عظیم داعی کا ایک چھوٹا سا اقتباس  یہ ہے : 

’’آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں سے اترے، اور قطب مینار پر کھڑے ہوکر یہ اعلان کردے کہ سوراج 24گھنٹے کے اندر مل سکتاہے بشرطیکہ ہندوستان ، ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہوجائے تو میں سوراج سے دستبردار ہوجاؤنگا مگر اس سے دستبردار نہ ہونگا ۔ کیونکہ سوراج کے ملنے میں تاخیر ہوتی تو ہندوستان کا نقصان ہوگا، لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو عالم انسانیت کا نقصان ہے‘‘۔ ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں یہ عقیدہ پوری تاریخ ِ آزادی میں کسی کے ہاں نہیں ملتا۔

اردو کا ان کا اپنا رسالہ ’’الہلال‘‘جس نےپورے ہندوستان میں ،یعنی اس وقت کا غیر منقسم ہندوستان ، ایک طوفان برپا کردیا ۔  اس کی اشاعت گیارہ ہزار کے قریب ہوگئی تھی ، اس وقت رسالوں کی اشاعت پانچ سویا چھ سو سے آگے نہیں جاتی تھی۔ پنڈت نہرو نے اپنی آپ بیتی ’’ڈسکوری آف انڈیا‘‘میں اس رسالے کی بڑی تعریف کی ہے۔ لکھاہے کہ اس رسالے کی بڑے بوڑھوں نے تیوری چڑھائی مگر نوجوانوں کے دلوں میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا۔

جب اخبار الہلال کا انگریزوں کی حکومت نے گلا گھونٹ دیا تو 1915ء میں مولانا نے ’البلاغ‘شروع کیا مگر وہ ایک سال سے زیادہ چل نہیں سکا۔ برٹس گورنمنٹ نے مولانا کو رانچی جیل میں نظر بند کیا۔ جہاں سے وہ 1920ء میں رہاہوئے۔ جیل کے انہی ایام میں انہوں نے قرآن کریم کی مشہور عالم تفسیر ’’ترجمان القرآن ‘‘کے 23پارے مکمل کئے۔ ماہرین قرآنیات نے اس تفسیر کے بارے میں لکھا ہے کہ مولانا آزاد نے قرآن کی عربی مبین کو اردوئے مبین کے قالب میں ڈھالا ہے ۔ مولانا آزاد کا یہ غیر فانی کارنامہ ہے ۔ ایک اردو دانشور اور صاحب طرز ادیب نے مولانا آزاد کا سراپا اور شخصیت کا خاکہ کچھ اس طرح کھینچا ہے ۔

’’سروقد،کتابی چہرہ، ذہانت کی روشنی سے منور آنکھیں، چہرے پر علم کا جلال ، حاضر دماغ ، حاضرجواب ، فطانت کا مجسمہ ، مثالی حافظے کے مالک ، ادبیات، دینیات ، فلسفہ اور منطق کے ماہر، تصوف ، حکمت اور شاعری میں کامل ، عربی مادری زبان ، فارسی روزمرہ کے استعمال کی چیز اور اردو گھر کی لونڈی، علاوہ ازیں کئی زبانوں میں دخل، حسن پرست، موسیقی کے عاشق ، سفید چنبیلی چائے کے دلداہ ، خوش ذوق، خوش پوش، دل کش، وجہیہ ایسا کہ ’’دیکھنے والا ‘‘ دیکھتا ہی رہے، وسیع القلب ، روادار، آزادیٔ رائے کے قائل ، ایمان دار اور زبردست اخلاقی قوت کے مالک‘‘، یہ تھے مولانا آزاد جس کے سرپر قوم نے ’’امام الہند‘‘کی دستار باندھی، دوسری طرف ’’شو بوائے ‘‘کا خطاب بھی ملا ، ان کو ملت نے بہ نظر تشکیک دیکھا، برادران ِ وطن نے اپنانے میں تامل کیا۔

زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا                                                                                                                                                                                                                                                                                               اور کافر یہ سمجھتا ہےکہ مسلمان ہوں میں

ان کی گردن میں شک کے پھولوں کے ہارڈالے گئے، عدم ِ اعتماد کی سند سے سرفراز کیا۔ لیکن اس مردِ مومن نے اخلاقِ نبویﷺکا مظاہرہ کرتے ہوئے یہی کہا کہ’’ خدا انہیں معاف کرے ، کیونکہ وہ جانتے نہیں کہ کیا کررہےہیں‘‘۔

قوم پرست مسلمانوں میں وہ سب سے آگے تھے۔ اپنا سیاسی مسلک سوچ سمجھ کر اختیار کیا تھا۔ سیاست کی پرخاروادی میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس وقت کثیر تعداد کو ان کا اختیار کیا ہوا موقف صحیح نہیں لگا۔ مولانا اپنی ذاتی صلاحیت کے زینہ سے بلند ترین مسند پرپہنچے ۔ گاندھی جی نے اپنے اعتماد اور اعتبار کا تاج ان کے سرپر رکھا۔ پنڈت نہرو نےان کے مشوروں کو مقدم جانا۔ ان کی رفاقت پر فخرکیا۔ کانگریس کی قیادت کا بار ان کے کندھوں پر اس وقت تھا جب کہ آزادی ٔ ہند کی تاریخ کا سب سے پیچیدہ زمانہ تھا۔ جب کہ آزادی ٔ ہند کے ساتھ ساتھ تقسیم ہند کے فلک شگاف نعرے بلند ہورہے تھے، اس وقت کے حالات کا جائزہ جذبات کی عینک سے نہیں بلکہ دور اندیشی کی دوربین سے لیا۔ انہوں نے گلیوں کوچوں میں گونجتے نعروں پر دھیان نہیں دیا بلکہ نوشتۂ دیوار کو پڑھا ۔ قوم کو اس راستے کی طرف رہنمائی کی جو ایک صحیح راستہ تھا مگر وہ  اس وقت نامنظور اور نامقبول رہا۔ مگر تاریخ نے جب ورق پلٹا ، سیاست کی گردش نے ثابت کردیا کہ صحیح راستہ اور مسئلہ کا صحیح حل وہی تھا جو ابواکلام بہ بانگِ دہل کہہ رہے تھے۔ جب طوفان سر سے گزر چکا ، ناخدا جب کشتی کو چھوڑکر محفوظ جزیرے میں چلے گئے ، پھر پریشاں حال قوم نے اسی درخت کے سائے میں پناہ لی جسے وہ اکھاڑ کر پھینکنا چاہتے تھے۔ پھر بھی انہوں نے قوم کو گلے لگالیا۔ ان کے زخم پر مرہم رکھا۔ انہیں دلاسہ دیا اور ایک نئی زندگی کی شروعات کےلئے ان کے حوصلوں کو بلند کیا۔ میں اس وقت مولانا کی تقریر کا چھوٹا سا اقتباس آپ کے گوشِ گذار کروں  گا جو انہوں نے آگرہ کے کانگریس اجلاس میں کہاتھا۔

’’ہندوستان کے لئے، ہندوستان کی آزادی کےلئے ، صداقت اور حق پرستی کے بہترین فرائض ادا کرنےکے لئے ، ہندوستان کے ہندؤوں اور مسلمانوں کا اتفاق ضروری ہے، ہندوستان کی سات کروڑ مسلمان ، 22کروڑ ہندو بھائیوں کےساتھ مل کر ایسے ہوجائیں دونوں مل کر ہندوستان کی ایک قوم اور ایک نیشن ہوجائیں‘‘۔موجودہ حالات کے تناظر میں ذرا سوچئے، اگر ہمارے قائدین اس طرح کی عالی ظرفی کا مظاہرہ کریں تو ہندوستان جنت نشان بن جائے گا۔ ’’جگت گرو‘‘ کے منصب پر بھی فائز ہوسکتاہے۔

آزادیٔ ہند کی خوشی کے ساتھ تقسیم کا درد مولانا آزاد کے لئے ناقابلِ برداشت تھا۔ کانگریس کی حکومت تشکیل پاچکی تھی ، کانگریس کے مرکزی رہنما ہونےکے باعث ، مرکزی کابینہ میں شامل کئےگئے ، آزاد ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم بنادئیے گئے۔ ایک سیاسی پارٹی کا نیتا ایک بار اپنی تقریر میں کہہ دیا کہ ہندوستان کا سب سے پہلا وزیر تعلیم ایک ایسے شخص کو بنا دیاگیا تھا جو انگریزی نہیں جانتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس نے اتنا بڑا کمنٹ پاس کیاتھا وہ شخص مولانا آزاد کے پیروں کے دھول کے برابر بھی نہیں ہے۔

بحیثیتِ ہندوستان کے اولین وزیر تعلیم ان کی تعمیری خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے آزاد ہندوستان کے شاندار مستقبل کےلئے سائنس، ٹکنالوجی اور میڈیکل سائنس کی تعلیم کے لئے بہترین ادارے قائم کرنے میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ تعلیم کے میدان میں آج ہم جتنی ترقیاں دیکھ رہے ہیں ان کی بنیادیں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے ہی رکھی تھیں۔ آج کے دور میں تعلیم کا جو ماحول ہورہاہے، سائنس اور ٹکنالوجی کو نصاب سے خارج کرنے کی صدائیں آرہی ہیں۔ اس پر گفتگو لاحاصل ہے۔

مولانا کو انگریزی سے نابلد سمجھنے والے سن لیں کانگریس کی سبجکٹ کمیٹی کی کوئی اہم تجویز ایسی نہیں ہے جس پر مولانا کی فکر و نظر ، مشورہ اور اصلاح کی چھاپ نہ پڑی ہو۔ لطف یہ ہےکہ ساری تجاویز انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔ ’’کنیٹ مشن ‘‘ کی گفتگو میں مولانا شاطران ِ مغرب کو جس طرح مات دی ہے اس سے ہر تعلیم یافتہ شخص واقف ہے ۔ بحیثیتِ وزیر تعلیم پارلیمنٹ میں ان کی یادگار تقریریں ، کلچرل ریلیشن میں بین الاقوامی اجلاس میں ان کی تقریر، بیرونی ملک کے مفکرین اور ماہرین تعلیم سے ان کے عالمانہ خطاب، ان کا انگریزی اور فرنچ زبان کا وسیع مطالعہ اور ہر فن سے متعلق اپ ٹو ڈیٹ معلومات ، بڑے بڑے تعلیم یافتہ حضرات اس سے واقف ہیں۔ جواہر لال نہرو تک اس کے قائل تھے۔ جس فن پر گفتگو کرتے ایسا معلوم ہوتاہے کہ بس وہ اس فن میں امام ہیں۔ ہر موضوع پر حیرت انگیز معلومات کا بیش بہا خزانہ، دماغ ہر وقت حاضر، ان اوصاف اور کمالات کی کوئی دوسری عہد ساز شخصیت آپ پیش نہیں کرسکتے۔ کمال یہ ہے کہ مشرقی علوم کا باضابطہ عالم،  طبقہ علماء سے تعلق رکھنےو الا مگر انگریزی اور فرنچ زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔ یہ صحیح معنوں میں جنیس تھے۔

حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ ، مولانا آزاد کی سیرت کے امتیازی پہلو پر تعمیر ِ حیات لکھنو میں ایک مضمون لکھاتھا جو 10تا25جنوری 1978ء کے شمارے میں شائع ہواتھا۔ مولانا نے لکھا ہے کہ ’’خدانے ان کو ذہین پیدا کیا، جب وہ پیدا ہوئے تو ذہین پیدا ہوئے ، وہ جینیس تھے ، اگر ہمارے ملک کے دوچار ایسے آدمیوں کی فہرست تیار کی جائے جن پر جینیسکا لفظ صحیح طورپر صادق آتاہے۔ میں پورے اعتماد اور وثوق کے ساتھ کہہ سکتاہوں کہ مولانا آزاد کی جگہ اس میں محفوظ رہے گی‘‘۔ یہ خدا کی دین تھی ، انہیں صفات کے ساتھ وہ پیدا کئے گئے تھے۔ مگر ہمارے لئے ان کی زندگی میں یاد رکھنے اور سبق لینے کی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک اعلیٰ کیرکٹر کے انسان تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد متعین کیا کہ خدا کی مرضی کے مطابق ان کو کام کرنا ہے۔ اپنے مذہب کی ہدایت کے مطابق کام کرنا ہے ۔ جن  سچائیوں پر ان کا یقین جم گیا تھا ان کو انہوں نے پیش کیا۔ اس سے انہیں کوئی مطلب نہیں کہ لوگ خوش ہوتے ہیں یا ناخوش۔ غر ض ، مذہبی عقاید میں سیاسی خیالات میں، سیاسی عقاید میں ، انہوں نےجس چیز کو صحیح سمجھا ہمیشہ ببانگ دہل کہا اس کی بالکل پرواہ نہیں کی کہ اس کا نتیجہ اور رد عمل کیا ہوگا۔

مولانا آزاد کی دینی اور عملی زندگی کے بارے میں بہت سی انگلیاں اٹھیں ، مولانا علی میاں ؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان میں جب ان کا طوطی بولتا تھا سب کی آنکھوں کا نور بنے ہوئے تھے۔ ’الہلال ‘ کا جادو سرپر چڑھ کر بول رہاتھا۔ ہر طرف ان پر عقیدت کے پھول نچھاور کئے جارہے تھے عوام اور خواص آنکھیں بچھا رہے تھےاس وقت لکھنو میں گنگا پرشاد میمورئیل ہال میں ان کی تقریر تھی سیاسی موضوع پر انہوں نے تقریر کی ۔ مغرب کی نماز کا وقت ہوگیا ، مولانا علی میاں ؒ رقم طراز ہیں کہ ہال کے پیچھے ایک کشادہ جگہ تھی ، نماز کے پابند حضرات وہاں جمع ہوئے، مغرب کی نماز مولانا آزاد کی امامت میں ادا کی گئی ۔ مولانا علی میاں ؒ فرماتے ہیں کہ ان کو مولانا آزاد کی امامت میں نمازِ مغرب اداکرنےکی سعادت ملی۔ اس سے ان کے مذہبی عقیدے اور عملی زندگی کی بہترین تصویر سامنے آتی ہے ورنہ برٹش قلمرو جس کی حکومت میں سورج غروب نہیں ہوا کرتاتھا اس کے خلاف اسٹیج پر للکار کر ۔ یہ شیر اب خدا کےسامنے سجدہ ریز تھا۔ بڑا دلآویز منظر تھا۔

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں امام العصر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے ان کی عصری مجالس میں ایک شخص نے سوال کیا کہ جب 1941ء میں جماعت اسلامی کا قیام عمل میں آیا تو مولانا آزاد ؒ مرحوم کن خطوط پر کام کررہے تھے؟

مولانا مودودی ؒ نے ارشاد فرمایا ’’وہ انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ تھے اور برسوں سے اس کے پروگرام کے مطابق کام کررہے تھے ۔ کانگریس میں وہ ایک نمایاں مقام رکھتے تھے‘‘۔ اس شخص نے پھر پوچھا۔ کیا مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم نے بھی جماعت اسلامی کی اسی طرح مخالفت کی جس نوع کی مخالفت کا آج کل مظاہرہ ہورہاہے۔

مولانا مودودی نے دھیمے اور ٹہرے ہوئے لہجہ میں فرمایا : ’’مولانا آزاد ایک شریف النفس اور وسیع الظرف انسان تھے۔ وہ ان حضرات میں سے تھے جو گالیاں سنتے تو ہیں لیکن کبھی کوئی ان کی زبان سے کسی کےلئے گالی نہیں سنا‘‘۔

امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت انسانی پیکر میں علم و بصیرت کا ایک عدیم المثال  مخزن و معدن تھی جو اسلامیات ، سیاسیات ، ادب، فلسفہ ، حکمت، سماجیات اور رموز حیات و کائنات کے گوہر گرانمایہ سے لبریز تھی ۔

علم و حکمت کا یہ آفتابِ عالم تاب22فروری 1958ء کو ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔ جامع مسجد دہلی احاطے میں اردو بازار کی طرف مرحوم کی قبر ہے۔ اللہ مولانا آزاد مرحوم کی خدمات کو قبول فرمائے اور سئیات سے در گذر فرمائے۔ آمین ثم آمین                                                                                                                                                                                                                 *****

ایک نظر اس پر بھی

یوگی حکومت سماجوادی پارٹی سے خوف زدہ ہے؛ اکھلیش یادو کا بیان

سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور ا لزام عائد کیا کہ وہ سماجوادی پارٹی سے بری طرح خوف زدہ ہے، اسلئے  وہ ایس پی کے لیڈروں کو فرضی مقدمات میں پھنسا رہی ہے۔

اُترپردیش میں اسمبلی الیکشن سےعین قبل بی جے پی لیڈر کیوں پارٹی چھوڑ رہے ہیں؟ کیا بی جے پی نے ہندو مسلم کشیدگی پیدا کرکے انتخابی جیت حاصل کی تھی ؟

گزشتہ کچھ دنوں میں، اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کے تین وز یر، سوامی پرساد موریہ، دارا سنگھ چوہان اور دھرم سنگھ سینی نے استعفیٰ دے دیا ہے اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے ساتھ ہی بی جے پی کے کئی ایم ایل ایز بھی اسی راستے پر چل پڑے ہیں ۔امکان ہے ...

اتر پردیش میں ہندوتوا سیاست خطرے میں؛ وزیروں کا استعفیٰ محض استعفیٰ نہیں بلکہ ہندوتوا اور منووادی سیاست کے خلاف پسماندہ ذاتوں کی بغاوت ہے ۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

گو چناؤ پانچ ریاستوں میں ہو رہے ہیں لیکن اتر پردیش خبروں میں چھایا ہوا ہے۔ ہونا بھی چاہیے۔ ملک کا سب سے اہم سیاسی صوبہ جہاں سے 80 ممبران پارلیمنٹ چن کر آتے ہیں، وہ تو خبروں کا مرکز بنے گا ہی۔ مگر اس بار اتر پردیش چناؤ کچھ زیادہ ہی دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے۔

کاویری تنازعہ کو ختم کرنے والا میکے داٹو کا ڈیم : تعمیر کے لئے کونسی رکاوٹیں ہیں؟ کیا ہے یہ پورا معاملہ؛ ایم ایل لکشمی کانت کی تفصیلی رپورٹ

کانگریس کی جانب سےجاری ’میکے داٹو‘ نامی پیدل یاترا سیاسی الزام تراشیوں اور کاویری ندی کے پانی کو لے کر  بالخصوص کر ناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان جاری تنازعہ پر کنڑا اخبار ’’کنڑ اپربھا‘ میں ایم ایل لکشمی کانت کے آرٹیکل کا ترجمہ یہاں ساحل آن لائن کے قارئین کے لئے پیش ...

بس صبر کا دامن پکڑے رہیے۔۔۔۔ از: ظفر آغا

پھر وہی چھچھوری حرکت، ہندوتوا گروپ کی جانب سے اب بُلی بائی ایپ کے ذریعہ مسلم ماں بیٹیوں کی نیلامی۔ جی ہاں، اس نیلامی میں نوجوان صحافی بھی ہے تو پچاس برس سے زیادہ عمر کی ماں بھی ہے اور تیس پینتیس برس کی سیاسی اور سماجی کارکن بھی ہے۔

کیسا ہوگا سن 2022!۔۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

آپ کو نئے سال کی مبارکباد! حالانکہ مجھے یہ نہیں پتہ کہ سن 2022 آپ کے لیے خوشیاں لائے گا یا سن 2021 کی طرح نئی مصیبتیں بکھیرے گا۔ آثار کچھ پچھلے برس جیسے ہی نظر آ رہے ہیں۔ سن 2021 کی جنوری میں کووڈ کی دوسری لہر شروع ہو چکی تھی۔

اب مہاراشٹر کی ٹھانے پولیس نے متنازعہ بیان معاملے میں سَنت کالی چرن کو کیا گرفتار

مہاتما گاندھی کے خلاف قابل اعتراض بیان دینے والے سَنت کالی چرن مہاراج کی ایک بار پھر گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ اس بار مہاراشٹر کے ٹھانے شہر کی پولیس نے ہندو مذہبی پیشوا کالی چرن مہاراج کو مہاتما گاندھی کے خلاف متنازعہ بیان دینے کے معاملے میں چھتیس گڑھ سے گرفتار کیا ہے۔

مظفرنگر میں دیہاتیوں نے بی جے پی کے امیدوار کو کھدیڑا کہا- ’اس بار ایم ایل اے بن کر دکھا دو!‘

  اتر پردیش میں 10 فروری کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے قبل مغربی یوپی میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور مختلف جماعتوں کے امیدوار اپنی اپنی تشہیر میں مصروف ہیں۔ بی جے پی لیڈران بھی اپنی پارٹی کے حق میں ووٹ مانگ رہے ہیں لیکن کہیں کہیں ان کے خلاف احتجاج بھی ہو رہا ہے۔

اتراکھنڈ میں انتخاب کے پیش نظر 50 بارڈر چیک پوسٹ پر رہے گا سخت پہرہ، خصوصی منصوبہ تیار

اتراکھنڈ اسمبلی انتخاب قریب ہے۔ ایسے میں انتخاب کو غیر جانبدار اور پرامن طریقے سے کرانا بھی پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ س ضمن میں اتراکھنڈ پولیس نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہماچل پردیش اور اتر پردیش پولیس کے افسران کے ساتھ میٹنگ کی جس میں انتخاب کے دوران ووٹنگ عمل متاثر ...