کمٹہ میں پہاڑی کھسک گئی؛ سات مکانوں پرچٹان گرنے سے تین بچے جاں بحق؛ سات سے زائد زخمی؛ عوام نے لیا ڈپٹی کمشنر کو آڑے ہاتھ؛ آئی آر بی کمپنی پر الزام

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th June 2017, 3:49 PM | ساحلی خبریں |

کمٹہ 11/جون (ایس او نیوز)  تعلقہ کے دیوگی نیشنل ہائی وے 66 پر پہاڑی چٹان کھسک کر سات  مکانوں پر گرنے سے تین بچے جاں بحق ہوگئے، جبکہ سات سے زائد افراد زخمی ہوگئے، واردت آج اتوار دوپہر کو پیش آئی۔

ساحلی کرناٹکا  میں گذشتہ تین دنوں سے زوردار بارش ہورہی ہے، سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات کو مسلسل اور موسلادھار بارش ہونے کے نتیجے میں آج دوپہر قریب بارہ بجے پہاڑ ی چٹان کھسک گئی اور اطراف کے مکانوں پر جاگری۔ چٹان کھسکنے سے دو مکان مکمل طور پر منہدم ہوگئے۔ جن میں تین بچوں کی موت واقع ہوئی، جبکہ پانچ  دیگر مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حادثے میں مرنے والوںکی شناخت  ایک سالہ بچی دھنوش منجوناتھ امبیگا ، سات سالہ یتین نارائن امبیگا اور آٹھ سالہ بھاویا نارائن امبیگا کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ حادثے میں سات سے زائد افراد زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں کمٹہ سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پہاڑی چٹان کھسکنے سے دیوگی نیشنل ہائی وے بھی بند ہوگیا ، جس کے نتیجے میں سڑک کے دونوں طرف سواریوں کی قطار لگ گئی۔ خیال رہے کہ یہاں نیشنل ہائی وے  کو فور لائن میں تبدیل کرنے کا کام جاری ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی کاروار سے ڈپٹی کمشنر ایس نکول، بھٹکل سب ڈیویژن کے ڈی وائی ایس پی  شیوکمار اوربھٹکل اسسٹنٹ کمشنر ایم این منجوناتھ  جائے واردات پر پہنچ گئے اور راحت رسانی کا کام شروع کردیا۔ ہائی وے کو صاف کرنے کے لئے مشینوں کا استعمال کیا گیا اور مکانوں کے ساتھ ہائی وے پر گرے ہوئے ملبے کو تیزی کے ساتھ ہٹایا گیا۔ یہاں فائربریگیڈکی بھی خدمات لی گئی۔

ڈی سی کا گھیرائو:  واقعے کی اطلاع ملتے ہی ضلع اُترکنڑا کے  ڈپٹی کمشنر ایس نکھول کاروار سے کمٹہ پہنچے اور بھٹکل ڈی وائی ایس پی سمیت دیگر اہلکاروں کے ساتھ متاثرہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں سے  گفتگو کی۔ اس موقع پر عوام نے نیشنل ہائی وے کا کام کرنے والی IRB Devlopers پر الزام عائد کیا کہ آج کا حادثہ اُن کی لاپرواہی سے ہوا ہے۔عوام نے ڈی سی کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے سوال کیا کہ  عوامی جگہوں پر آئی آر بی کمپنی کو پہاڑکے پتھر توڑنے کے لئے پٹاخوں کے ذریعے دھماکے کرنے کی اجازت کیسے دی گئی ؟ آپ جیسے حکام خاموش کیوں رہے ؟ عوام نے سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے ڈی سی سے کہا کہ اسی وقت مرنے والے بچوں کے لواحقین کو معائوضہ کا اعلان کیا جائے ورنہ عوام اسی وقت احتجاج پر بیٹھ جائیں گے۔ عوام کا کہنا تھا کہ مقامی پنچایت نے آئی آر بی کمپنی کو پہلے ہی اس طرح کے حادثات پیش آنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا، اس کے بائوجود آئی آر بی کمپنی نے کسی طرح کا کوئی  قدم نہیں اُٹھایا ۔ عوام کے مطابق سڑک کی تعمیر کے لئے جو دھماکے کئے گئے تھے، اُسی کے اثرات سے آج چٹان جو پہلے ہی دھماکوں سے ٹکرے ٹکرے ہوگئیں تھی،  کھسک گئیں اور مکانوں پر جاگری ۔

چار لاکھ معائوضہ کا اعلان:  ڈپٹی کمشنر نے فوری طور پر مرنے والے بچوں کے لواحقین کو چار لاکھ روپئے معائوضہ دینے کا اعلان کیا، اُسی کے ساتھ ساتھ ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نےواقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو ضروری امداد فراہم کی جائے گی۔

 

ایک نظر اس پر بھی

اڈپی ڈکیتی معاملہ پولیس نے 24گھنٹے کے اندر کیا حل۔ دو ملزمین گرفتار۔مسروقہ نقدی اور چاندی بر آمد

اڈپی ضلع کے اولاکاڈو علاقے میں 12ستمبر کو ڈکیتی کی جو واردات پیش آئی تھی اور چوروں نے 22لاکھ روپے نقد اور آدھا کلو چاندی پر جو ہاتھ صاف کیا تھا اس معاملے کو پولیس نے 24گھنٹے کے اندر حل کرتے ہوئے دو ملزمین کو مہاراشٹرا اور مڈگاؤں ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کرلیاہے۔ 

بھٹکل تعلقہ فاریسٹ زمین حق کے لئے اتی کرم دارہوراٹ گارر ویدیکے کی جانب سے 17ستمبر کو میٹنگ

بھٹکل تعلقہ کے تحصیل اور فاریسٹ اتی کرم داروں کے علاقے میں شیموگہ جنگلات زون میں شامل کئے جانے کے پس منظر میں 17ستمبر 2019بروز منگل کی صبح 10بجے شہر کے ستکار ہوٹل کے صحن میں تعلقہ فاریسٹ اتی کرم داروں کی میٹنگ انعقاد کئے جانے کی بھٹکل تعلقہ فاریسٹ ہوراٹ گارر ویدیکے کے تعلقہ صدر ...

سرسی کے پی یو کالج میں منایا گیا’موبائل ہیمرنگ ڈے‘۔ چوری چھپے کلاس روم میں لائے گئے موبائل فون پر چلایا گیا ہتھوڑا!

پری یونیورسٹی بورڈ کی طرف سے کالجوں میں زیر تعلیم طلبہ کے لئے کالج احاطے میں موبائل لانے اوراس کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن ریاست بھر میں تقریباً ہر پی یو سی کالج میں طلبہ اساتذہ کی نظریں بچاکر موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

کاروار:مساجد اور گھروں میں جاکر امداد مانگنے والے کشمیری نوجوانوں کو پولیس نے لیاحراست میں۔ گہری تفتیش کے بعد ہوئی رہائی

کاروار کی لاڈج میں کشمیری نوجوان کے قیام اور ان کے ذریعے با ر بار کشمیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیے جانے کی اطلاع سرکاری خفیہ ایجنسی کی طرف سے ملنے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کے دن آدھی رات کو مذکورہ تین کشمیری نوجوانوں کو اپنی حراست میں لیا۔ پھر گہری چھان بین اور ...