جموں و کشمیر: جی سی مرمو کا استعفی منظور، منوج سنہا نئے لیفٹیننٹ گورنر

Source: S.O. News Service | Published on 6th August 2020, 11:46 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،6؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)  جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) جی سی مرمو کے استعفی دینے کے بعد صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر منوج سنہا کو جموں وکشمیر کا نیا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرمو کو دہلی میں دیگر ذمہ داری اور عہدہ دیئے جانے کا امکان ہے۔

راشٹرپتی بھون کے جاری کردہ ریلیز کے مطابق کووند نے گریش چندر مرمو کا استعفیٰ منظور کرلیا ہے اور سنہا کو زیر مرکزی ریاست کا نیا لیفٹیننٹ گورنر مقرر کیا ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز مرمو نے جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

مرمو نے ایسے وقت میں استعفی دیا ہے جبکہ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کو ایک سال مکمل ہوا ہے۔ مرمو سے قبل جب جموں و کشمیر ایک مستقل ریاست تھی تو ستیہ پال ملک یہاں کے گورنر تھے، تاہم جب جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے یو ٹی کا درجہ دیا تھا تو مرمو کو یہاں کا ایل جی بنایا گیا۔

سال 1985 بیچ کے آئی اے ایس افسر مرمو کے استعفی کے اسباب پر سرکاری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ نریندر مودی جس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تب مرمو نے ان کے پرنسپل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دی تھیں۔ ایل جی مقرر کئے جانے کے بعد مرمو وزرات خزانہ میں سکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔

یکم جولائی 1959 کو اتر پردیش کے وارانسی میں پیدا ہوئے سنہا نے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) سے بی ٹیک اور ایم ٹیک کی ڈگری حاصل کی ہے۔انہوں نے طالب علمی کے زمانے سے ہی سیاست میں قدم رکھ دیا تھا۔ وہ بی ایچ یو کی طلبہ یونین کےصدر بھی رہے۔ منوج سنہا پہلی بار مرتبہ 1996 میں گیارہویں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد 1999 میں وہ 13 ویں لوک سبھا انتخابات جیت کر دوسری مرتبہ رکن اسمبلی بنے۔

سال 1999 سے 2000 کے درمیان وہ اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کی جنرل کونسل کے ممبر رہے اس کے علاوہ سرکاری یقین دہانی کمیٹی اور انرجی کمیٹی کے ممبر بھی رہے۔وہ 2014 میں سولہویں لوک سبھا کے لئے اترپردیش کے غازی پور حلقہ سے تیسری بار منتخب ہوئے ۔ تاہم وہ 2019 میں 17 ویں لوک سبھا انتخابات ہار گئے۔

سنہا وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت میں ٹیلی مواصلات اور وزیر مملکت برائے ریلوے کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ سنہا کی شبیہ ’وکاس پرش‘ کی مانی جاتی ہے اور ان کا شمار قابل اور محنتی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کے 8ممبران پارلیمنٹ کی معطلی مرکزی حکومت کا اختلاف رائے سے عدم راوداری کا نمونہ۔ ایس ڈی پی آئی

 سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں زرعی بل منطور کئے جانے کی مخالفت کرنے پر اپوزیشن کے 8اراکین پارلیمنٹ کو ایک ہفتہ کیلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت سے معطل کرنے کے اقدام کو جمہوریت مخالف قرار دیتے ...

بینکنگ ریگولیشن بل پر پارلیمنٹ کی مہر

 کوآپریٹو بینکوں کی بحالی اور نگرانی کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو زیادہ اختیارات دینے والے بینکنگ ریگولیشنز (ترمیمی) بل 2020 کو منگل کو راجیہ سبھا میں صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔