منگلورو: قانونی پابندی کے باوجود دستیاب ہیں ویڈیو گیمس. نئی نسل ہو رہی ہے برباد۔ ماہرین کا خیال

Source: S.O. News Service | Published on 6th April 2021, 2:08 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

 منگلورو، 6؍ اپریل (ایس او نیوز) ویڈیو گیم میں ہار جیت کے مسئلہ پر منگلورو میں ایک نوعمر لڑکے کے ہاتھوں دوسرے کم عمر لڑکے عاکف کے قتل کے بعد ویڈیو گیمس اور خاص کر پبجی کا موضوع پھر سے گرما گیا ہے اور کئی ماہرین نے ان ویڈیو گیمس کو نئی نسل کے لئے تباہ کن قرار دیا ہے۔

    پابندی کے باوجود گیمس دستیاب ہیں :    سائبر سیکیوریٹی کے ماہر اور سہیادری کالج کے پروفیسر ڈاکٹر اننت پربھو کا کہنا ہے: " سرکاری طور پر پبجی پر پابندی رہنے کے باوجود ٹیکنیکل تالے توڑنے اور وی پی این سروس کے بغیر ہی گیمس تک رسائی  کے لئے اے پی کے فائلس ڈاون لوڈ کرنے کا کام دھڑلّے سے کیا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ بین الاقوامی سطح پر کاپی رائٹ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، مگر یہ ہورہا ہے۔ آج کل تو براہ راست براوزر پر ہی گیم کھیلنے کی سہولت مل گئی ہے۔ تھرڈ پارٹی ایپ اسٹورس اور ڈارک ویب سائٹس کے ذریعے گیمس انسٹال کیے جارہے ہیں۔"

    پابندی لگانا قطعی حل نہیں ہے:    ڈاکٹر اننت پربھو کہتے ہیں کہ :" گیمس اور ایپس پر پابندی لگانا ہی مسائل کا قطعی حل نہیں ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں پبجی گیم پر پابندی لگنے کے بعد بھی یہ خبر عام ہے کہ اب بھی یہ گیم نوجوان لڑکوں کی دسترس میں ہے۔ اس طرح کے  گیمس میں قتل، بمباری، آتشزنی جیسے جرائم اورپُرتشدد کارروائیوں کو ایک عام اور معمولی بات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے  بچے اس طرح کے انتہائی اقدامات اور جرائم کا ارتکاب کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔  

    آن لائن کلاسس بھی ایک سبب:    انہوں نے کہا:"المیہ یہ ہے کہ جس چیز کو ممنوع قرار دیا جاتا ہے اس کو عیاری سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ پبجی جیسے اور بھی بہت سارے گیمس ہیں جو مختلف ناموں سے دستیاب ہیں۔ والدین اس بات پر پریشان ہیں کہ بچے ویڈیو گیمس نشہ کے عادی ہوجاتے ہیں۔ اور جب ان سے یہ چیز چھڑائی جاتی ہے تو نشہ چھوٹنے سے ہونے والی بری علامات اور نتائج  کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایک بڑی مشکل یہ بھی سامنے آئی ہے کہ آن لائن کلاسس کی وجہ سے بچوں کو موبائل فون سے دور رکھنا بھی ممکن نہیں ہورہا ہے۔"

    جیت کا سرور بن جاتا ہے نشہ :    نفسیاتی کیفیات اور اثرات کے تعلق سے ڈاکٹر اننت پربھو نے بتایا کہ پُرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے بہت سارے طلبہ سُست اور کاہل ہوگئے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا مقصد پانےکے لئے پُرمشقت کام کرنا نہیں چاہتے۔ اس طرح پبجی جیسے گیمس میں وہ مشغول ہوجاتے ہیں۔ ایسے گیمس کی وجہ سے ان کے جسم میں ڈوپامائن [ اعصاب کو سکون کا پیغام پہنچانے والا ایک مادہ] کی مقدار ہراس مرحلہ پر تیزی سے بڑھتی جاتی ہے جب وہ جیت درج کرتے ہیں اور انہیں ریوارڈ دیا جاتا ہے۔ اس سے ان کے اندر جوش اور خوشی کا سرور چڑھنے لگتا ہے اور پھر یہ  نشہ میں بدل جاتا ہے اور وہ اس کے عادی بن جاتےہیں۔

    سنگین جرائم  بن جاتے ہیں معمولی:    پروفیسر اننت نے یہ بھی بتایا کہ: "دوسری طرف ایسے گیمس کھیلنے کے دوران جوش پیدا کرنے والے ایڈرینلین ہارمون کی مقدار خون میں بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو غصہ اور اشتعال کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کے اندر قوت برداشت میں تیزی سے کمی آجاتی ہے۔ ان کا لاشعور اس طرح کی سرگرمیوں کو معمول کے طور پر قبول کرنے لگتا ہے۔  اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سارے طلبہ قلت تغذیہ کا شکار ہوتے ہیں، پڑھائی لکھائی میں دلچسپی نہیں لیتے اور گھروں  سے بھاگنے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ذرا سی بات پر مشتعل ہوکر وہ کسی بھی قسم کا تشدد اورانتہائی اقدام کرنے گریز نہیں کرتے ۔

    مالی خسارہ بھی ہوتا ہے:    مالی اعتبار سے برے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر اننت پربھو نے بتایا کہ بہت کم نوجوان ایسے ہیں جو گیم کے مفت ورژن پر کھیلتے ہیں۔ اکثر نوجوان گیم کے پریمیئم ورژن کا انتخاب کرتے ہیں جس کے لئے انہیں ایپ کی خریداری کے اعتبار سے رقمیں ادا کرنی ہوتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ بہت سے والدین یہ شکایت کر رہے ہیں کہ ان کے کریڈٹ اور ڈیبیٹ کارڈز کا غلط استعمال ہورہا ہے۔

    دماغ اس نشے کا عادی ہوجاتا ہے:    نفسیاتی بہبود سے متعلق ادارہ 'انیرویدھا فاونڈیشن' کی ڈائریکٹر کے ٹی شویتا کہتی ہیں:" گیم کھیلنے سے بچوں کا برتاو اس نشہ کا عادی ہوجاتا ہے۔ انہیں دماغی طور پر ایسا ہی سرور ملتا ہے جیسے جوے بازی میں جیت سے ہوتا ہے یا نشہ آور چیزوں سے ہوتا ہے۔ پھر بار بار اس طرح لطف اندوز ہونے کے بعد دماغ میں ایسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ اس سے باز رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ اور ان کے برتاو میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جس سے جسمانی، جذباتی، پیشہ ورانہ اور سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔"

    والدین بھی ہیں ذمہ دار :    سماجی نفسیات (سوشیل سائکولوجی) کے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر لکشمیش بھٹ کا کہنا ہے کہ آج کل کے بچے جس صورت حال سے گزر رہے ہیں اس کے لئے والدین بھی براہ راست ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ روتے یا ضد کرتے ہوئے بچے کو چپ کروانے یا پھر ناراض بچوں کو منانے کے لئے والدین ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھما دیتے ہیں۔ پھر دھیرے دھیرے بچہ موبائل فون پر انحصار کرنے لگتا ہے، اور آگے چل کر زندگی کے حقائق سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ وہ حقیقی زندگی سے دور ورچوول    [مجازی یا غیر حقیقی] دنیا میں سرگرداں رہتا ہے۔

    والدین کیا کرسکتے ہیں!:    ڈاکٹر اننت پربھو کہتے ہیں کہ والدین کو موبائل فون پر والدین کے کنٹرول والا آپشن آن رکھنا چاہیے۔ اپنے بچوں کے استعمال میں جو فون ہوتے ہیں ان کا معائنہ وقتاً فوقتاً کرنا چاہیے۔ اگر اپنے بچوں کے رویہ میں کسی قسم کی تبدیلی محسوس ہو تو پہلی فرصت میں نفسیاتی ماہرین [کاونسیلرز] سے رابطہ قائم کرنا چاہیے اور ان بچوں کے اساتذہ کے علم میں بھی یہ باتیں لانی چاہیے۔ اس طرح والدین اور اساتذہ کو مشترکہ طریقہ سے ایسی صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
                
     (ٹائمز آف انڈیا اور ڈائجی ورلڈ سے اِنپُٹ کے ساتھ ڈاکٹر محمد حنیف شباب کی خاص رپورٹ)

ایک نظر اس پر بھی

گوکرن کے مُدگا سمندر میں بوٹ اُلٹ گئی؛ دو گھنٹوں کے آپریشن کے بعد تمام چھ ماہی گیر وں کو بچالیا گیا

   انکولہ کے  بیلیکیرے سمندر میں  ماہی گیری کرکے واپس لوٹنے کے دوران  اونچی اُٹھتی  سمندری لہروں کی زد میں آکر  بوٹ کے اُلٹ جانے سے  بوٹ پر سوارتمام   چھ ماہی گیروں کے جان کے لالے پڑ گئے تھے، مگر  دو گھنٹوں کی سخت مشقت کے بعد  دوسری بوٹ پر سوار کرکے تمام چھ ماہی گیروں کو  ...

ڈانڈیلی:کورونا کی تیسری لہر کو روکنے کے لئے سرحدی علاقوں پر سخت چوکسی : افسران جائے وقوع پر پہنچ کر کر رہے ہیں  جانچ

کورونا کی تیسری لہر کے خطرے کو دیکھتےہوئے تعلقہ کے برچھی چک پوسٹ ،ہالمڈی سمیت ڈانڈیلی کے سرحدی علاقوں پر تعلقہ انتظامیہ اور شہری انتظامیہ کی طرف سے کڑے اقدامات کئے گئے ہیں۔

بھٹکل تنظیم وفد کا کمٹہ اور اطراف کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ؛ متاثرین میں را شن کٹس تقسیم

   قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم  بھٹکل کا ایک وفد محی الدین الطاف کھروری کی قیادت میں  بدھ کو  کمٹہ اور آس پاس کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لینے پہنچا، جس کے دوران گوکرن کے  اگراگونا اور چنداور کے سنتے گولی پہنچ کرگھروں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا ...

کاروار : شمالی کینرا کے کووڈ معاملوں میں آیا دوبارہ اچھال ۔ ضلع انتظامیہ نے کیا پھر سے نئی پابندیوں کا اعلان 

ضلع شمالی کینرا میں کووڈ پوزیٹیو معاملوں میں پھر سے اچھال آنے کے بعد ضلع انتظامیہ نے اس پر قابو پانے کے اقدامات شروع کیے ہیں اور نئی پابندیوں اور نئے ضابطوں  کا اعلان کیا ہے ۔

بھٹکل میں کووڈ کی تیسری لہر کی دہشت اور ویکسین کی قلت ۔ ویکسین سینٹرس کا چکر لگا کر عوام لوٹ رہے ہیں خالی ہاتھ

کووڈ کی دوسری لہر کچھ تھم تو گئی ہے مگر عوام کے اندر تیسری لہر کا خوف اور ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے دہشت کا ماحول بنتا جارہا ہے۔ جبکہ حکومت کی  طرف سے  18سال سے زائد عمر کے تمام افراد کا ویکسینیشن کرنے کا بھروسہ دلایا گیا تھا ۔      لیکن فرسٹ ڈوز کی بات تو دور، فی الحال پہلا ڈوز لے ...

بھٹکل : بڑے جانوروں کی قربانی پر سرکاری پابندی کے پس منظر میں بکروں کا کاروبار زوروں پر

بقر عید کی آمد کے ساتھ بھٹکل میں بڑے پیمانے پر بڑے جانوروں کی قربانی ہمیشہ ایک معمول رہا ہے ۔ مگر امسال ریاستی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے بڑے جانور لانے اور فروخت کرنے میں جو رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اس پس منظر میں بکرے کی منڈی بہت زیادہ اچھال پر آگئی ہے۔

کوویڈ کا پیغام انسانیت کے نام۔۔۔۔ (از:۔مدثراحمد، ایڈیٹر آج کا انقلاب، شموگہ)

کوروناوائرس کی وجہ سے جہاںوباء دنیابھرمیں تیزی سے پھیلتی گئی اور چندہی مہینوں میں کروڑوں لوگ اس وباء سے متاثرہوئے،لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے،وہیں اس وباء نےپوری انسانیت کو کئی پیغامات دئیے ہیں جو قابل فکر اور قابل عمل باتیں ہیں۔

بنگلورو: ’میڈیکل ٹیررزم ‘ کا ٹائٹل دینے والی بی جے پی اب خاموش کیوں ہے ؟:کانگریس کا سوال

بیڈ بلاکنگ دھندے کو ’’میڈیکل ٹیررزم ‘‘ کا نیا ٹائٹل دینے والی بی جےپی اب خاموش  کیوں ہے، اس سلسلے میں کوئی زبان  کیوں نہیں کھول رہا ہے، یہ سوال   ریاستی کانگریس نے بی جے پی سے کرتے ہوئے  جواب مانگا ہے۔

فائیوجی کا ریڈئیشن نقصان دہ نہیں ، بلکہ ٹیکنالوجی کا بےجا استعمال نقصان دہ: فائیوجی کے ماہر انجنئیر محمد سلیم نے فراہم کیں معلومات

فائیو جی ٹکنالوجی ان دنوں عوام کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ کورونا وبا کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے لوگوں نے اس کے تار 5جی ٹکنالوجی سے جوڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔یہ سارا معاملہ کیا ہے اسے سمجھنے کے لیے نائب امیر جماعت اسلامی ہند پروفیسر محمد سلیم انجینئر سے  مشرف علی کی بات چیت کا ...

کرونا ویکسین اور افواہوں کا بازار ؛ افسوسناک بات یہ ہے کہ بے بنیاد افواہیں مسلم حلقوں میں زیادہ اڑائی جا رہی ہیں ۔ ۔۔۔ آز: سہیل انجم

مئی کا مہینہ ہندوستان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ اس مہینے میں کرونا کی دوسری لہر نے ایسی تباہی مچائی کہ ہر شخص آہ و بکا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اپریل اور مئی کے مہینے میں کرونا سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ نہ تو شمشانوں میں چتا جلانے کی جگہ تھی اور نہ ہی قبرستانوں ...