منگلورو پچناڈی میں بلدیہ کے کچرے کاڈھیر کھسک کر رہائشی علاقے میں گھس گیا۔ مقامی باشندوں کے لئے حالات ناقابل برداشت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th August 2019, 9:32 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو 14/اگست (ایس او نیوز) پچناڈی علاقے میں جہاں منگلورو بلدیہ کا کچرا ٹھکانے کا مرکز بنایا گیا ہے، وہ کبھی ہرے بھرے درختوں سے بھراہوا صاف ستھرا علاقہ ہوا کرتا تھا۔ مگر جب سے یہاں پہاڑی علاقے پر بلدیہ کچرے کی نکاسی اور ذخیرے کامرکز بنایا گیا ہے، اطراف میں اورخاص کرکے مندارا میں بسنے والے باشندے انتہائی ناقابل برداشت بدبو کے ساتھ جینے پر مجبور ہوگئے تھے۔

امسال مسلسل اور موسلادھار بارش نے یہاں کے عوام پر غضب ڈھا دیا ہے۔ کیونکہ گزشتہ ہفتے ہزاروں ٹن کچرے کا ڈھیر اچانک کھسک گیا اور تقریباً20ایکڑ زمین کے علاقے میں بسنے والے لوگوں کے گھروں، باغات اور کھیتوں میں گھس گیا۔عوام کا کہنا ہے کہ اس میں 20سال پرانا کچرا بھی شامل ہے۔کچرے کا ڈھیر بہتے ہوئے 2کیلو میٹر تک کے احاطے میں پھیل گیا ہے۔ اب ہر کسی کے گھر آنگن میں ناقابل براشت گندگی کا ڈھیر لگ گیا ہے اور عوام اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔اور سمجھا جارہا ہے کہ مزید کچھ بارش جاری رہی تو صورت حال بہت بھیانک ہوسکتی ہے۔

ڈپٹی کمشنر سسی کانت سینتھل، اراکین اسمبلی بھرت شیٹی، اوماکانت کوٹیان، ویدا ویا س کامت اور رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے موقع پر پہنچ کرجب عوام کو درپیش بدترین حالات کا جائزہ لیاتو وہ حیران رہ گئے۔حالت یہ ہے کہ تقریباً 5,000سپاری کے درخت اور 1,000ناریل کے درخت کچرے کے ڈھیر میں ڈوب گئے ہیں۔ اور ابھی کچرے کابہاؤ رکا نہیں ہے جس سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مزید زراعتی زمین اس کی زد میں آ جائے گی۔

ضلع انتظامیہ نے مندارا کے متاثرین کے لئے ہنگامی طور پر بیتھوری میں رہائش کا انتظام کیا ہے کیونکہ پورے مندارا علاقے میں بدبو کی وجہ سے سانس لینا ممکن نہیں رہا ہے۔ہر طرف گٹر کا گندا پانی تیز ی سے بہہ رہا ہے۔ کنویں گندے پانی سے بھر گئے ہیں۔محکمہ صحت کے افسران اس علاقے کا دورہ کررہے ہیں۔ پانی کی آلودگی جانچ بھی مسلسل کی جارہی ہے۔اپنے گھروں کو کچرے کے سیلاب میں ڈوبتا دیکھ کروہاں رہنے والوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ہے۔مندارا علاقے کے متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں اور فصلوں کی بربادی کا معاوضہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے ادا کیا جانا چاہیے۔

مندارا کے متاثرین میں سے راجیش بھٹ کا کہنا ہے کہ”اس علاقے میں واقع 120سال پرانا مکان کچرے کے سیلاب میں غرق ہوگیا ہے۔ 10 ایکڑ زراعتی زمین کو اس کچرے نے نگل لیا ہے۔یہ اس لئے ہواہے کیونکہ منگلورو میونسپل کارپوریشن نے کچرے کی نکاسی اور ذخیرہ اندوزی بڑے ہی غیر سائنٹفک طریقے سے کی ہے۔ یہ صرف منگلورو کا کچرا نہیں ہے بلکہ یہاں پر الال، بنٹوال، منجیشور اور دیگر علاقوں سے کچرا لاکر جمع کیا جاتا ہے۔ہم نے اس سے بہت پہلے افسران او ر حکام کو اس تعلق سے چوکنا کردیا تھا، مگر ان لوگوں نے ہماری باتوں پر سنجیدگی سے دھیان نہیں دیا۔“مبینہ طور پر اس موقع پر ناراض عوام میں سے کچھ لوگوں نے میونسپل کارپوریشن کے ہیلتھ آفیسر پر تھوک دیا۔

رکن پارلیمان نلین کمار نے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے کچرے کے ڈھیر کو کھسکتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں۔ یہ انسان کے اپنے ہاتھوں سے مول لی ہوئی تباہی ہے۔اس مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے لئے ڈپٹی کمشنرکی طرف سے ایک ٹیم روانہ کی جائے گی جو پچناڈی کچرا نکاسی مرکز پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔