منگلورو میں ایک بدنام زمانہ دھوکے باز کشمیری اور اس کا ساتھی گرفتار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th August 2019, 10:00 PM | ساحلی خبریں |

منگلورو 24/اگست (ایس او نیوز) منگلورو سٹی پولیس کمشنرنے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ برکے پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک بدنام زمانہ کشمیری دھوکے باز اور اس کے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا ہے جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھی کشمیری دھوکے باز کا ساتھی ہوسکتا ہے۔

پولیس کمشنر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 17اگست کو دو افراد برکے پولیس اسٹیشن کے حدود میں مشکوک انداز میں کار میں سفر کرتے ہوئے پائے گئے۔ کار پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ پولیس نے کار روک کر جب تفتیش کی تو پتہ چلا کہ باسط شاہ (30سال) نامی شخص ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کے طور پر کار میں سفر کررہا تھا اور کار کو چلانے والے کا نام بلجیندر سنگھ تھا۔ شک کی بنیاد پر انہیں تحویل میں لے کر پوچھ تاچھ کرنے پر یہ راز کھلا کہ باسط شاہ ڈبلیو ایچ او کا ڈائریکٹر نہیں تھا بلکہ ایک بدنام زمانہ دھوکے باز تھا، جو ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر کے بھیس میں لوگوں کو دھوکا اور فریب دے رہا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں باسط شاہ نے خود کو ممبئی کا رہنے والا بتایا تھا، لیکن پولیس کی تحقیق سے یہ ثابت ہو اکہ وہ کشمیری ہے اور اس کا اصلی نام شوکت احمد لون ہے اور وہ ایک عرصے سے ملک بھر میں مختلف شہروں میں گھوم پھر کر لوگوں کو دھوکا دیا کرتا ہے۔شوکت اپنا شادی کروانے والا ویب سائٹ چلاتا ہے، اور اس کے ذریعے گوا، ممبئی، چھتیس گڑھ، پنجاب، جھارکھنڈ اور بیلگام جیسے مقامات پر خواتین کا استحصال کرچکا ہے۔باسط عرف شوکت اس مرتبہ منگلورو میں شادی کروانے کے بہانے ایک لڑکی سے ملنے کے لئے پہنچا تھا۔ وہ ایک پُر تعیش زندگی گزارتا تھا، ہمیشہ کار میں سفر کرتا تھا۔ اور مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرتاتھا اس کے علاوہ اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایم بی بی ایس کی ڈگری کے ساتھ ڈاکٹری کا امتحان بھی پاس کیا ہے۔ بلجیندر سنگھ نے بتایا ہے کہ وہ گزشتہ دو سال سے20ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر باسط کے پاس بحیثیت ڈرائیورملازمت کررہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال کچھ اہم معلومات ظاہر کرنا نہیں چاہتی البتہ اس دھوکے باز کا شکار ہونے والے افراداور خاص کر کے خواتین پولیس سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔دونوں ملزمین کو پولیس نے عدالت میں پیش کرنے کے بعد مزید تفتیش کے لئے اپنی کسٹڈی میں لے لیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل تعلقہ بیلکے ہائی اسکول میں ایندھن کے صحیح استعمال پر آئیل کمپنی بیلگام کے ریجنل مینجر کا خطاب

جہاں بھی ایندھن کا استعمال کریں ہم ضرورت کے تحت کریں آج کل ایندھن کازیادہ تر غلط استعمال ہورہاہے جس کے نتیجے  میں آئندہ حالات  بگڑ سکتےہی۔ آئی اؤ سی ایل  بیلگام کے چیف ریجنل مینجر وی رمیش بابو نے ان خیالات کا اظہار کیا۔

کاروار: ای۔جائیداد کے متعلق الجھن اور پیچیدگی پیدا نہ کریں : وڈیوکانفرنس کے ذریعے ڈی سی کی ضلع و تعلقہ جات افسران کو ہدایت

اترکنڑا ضلع کے شہری علاقوں میں 95فی صد ای ۔ جائیداد کا سافٹ وئیر تیار ہے۔ مقامی افسران کسی بھی پیچیدگی کو جگہ نہ دیتے ہوئے سرگرم ہونے کی ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے ہدایات جاری کی ہیں۔

ضلع پنچایت سی ای او کے حکم پر بھٹکل تحصیلدار نے ہٹائیں مرڈیشور میں غیرقانونی دکانیں

ترکنڑا ضلع پنچایت چیف ایکزی کوٹیو آفسر(سی ای او)  محمد روشن کے حکم پر عمل درآمد کرتے ہوئے بھٹکل تحصیلدارکی قیادت میں ریوینیو ڈپارٹمنٹ کے افسران نے جمعرات کو دکانداروں کی مخالفت کے باوجود مرڈیشور کے سڑک کنارے بنی ہوئی غیر قانونی دکانوں کو ہٹانے کی کارروائی انجام دی۔

بھٹکل کاراسٹریٹ پر رات کے اندھیرے میں کچرا پھینکنے والوں کا بالاخر پتہ چل گیا، سی سی ٹی وی میں قید ہوگیا منظر

یہاں کار اسٹریٹ جیسی مصروف سڑک پر رات کے اندھیرے میں کچرے کا ڈھیر لگانے والوں سے عوام اور دکاندار بہت ہی زیادہ پریشان تھے اور کچرہ پھینکنے والوں کا پتہ لگانے کی کوششوں میں مصروف تھے، مگر بدھ کی شام کو بالاخر ایک رکشہ سے کچرہ پھینکنے کا منظر قریب میں واقع سی سی  ٹی وی کیمرے میں ...

بھٹکل نوائط کالونی کے عوام کی ہیسکام سے شکایت؛ 15 دنوں کی زائد میٹر ریڈنگ کے ساتھ تھمایاجارہا ہے بِل

بھٹکل ہیسکام کی جانب سے ہر ماہ 4, 5 اور 6  تاریخ کو گھروں میں دیا جانے والا بِل 18, 19 اور 20 تاریخوں کو دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں  12 سے 15 دنوں کی میٹر  Reading زائد ہوجاتی ہے اور ریڈنگ مطلوبہ یونٹ سے زائد ہونے کی صورت میں ہیسکام کی طرف سے پینالٹی بھی ڈالی  جاتی ہے، اس طرح کی شکایتیں ...

اترکنڑا ضلع میں موسلادھار بارش اور سیلاب سے سڑکیں خستہ : مسافر، عوام اورڈرائیور پریشان

اترکنڑا ضلع میں موسلادھار بارش اور سیلاب و طغیانی کی وجہ سے سب سے زیادہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ عام زندگی معمول پر لوٹ کر ایک ماہ ہونےکو ہے لیکن راستوں کی حالت اب بھی خستہ حال ہے جس سے مسافروں کو کافی پریشانی ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔