بنگال میں ممتا نے درج کی شاندار جیت، مودی امیت شاہ چاروں خانے چت؛ تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھی بی جے پی کو سخت ہزیمت، اویسی کی پارٹی کا بھی حال بے حال،کن کن مسلم اُمیدواروں کو ملی کامیابی ؟

Source: S.O. News Service | Published on 3rd May 2021, 1:42 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 3؍مئی (ایس او نیوز)  پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات  میں ایک طف مغربی بنگال میں زخمی شیرنی کی پارٹی ٹی ایم سی نے  دوسو سے زیادہ سیٹوں پر جیت درج کرتے ہوئے اکثریت حاصل کر لی ہے، تو وہیں دوسری طرف  تمل ناڈو اور کیرالہ میں بھی  بی جے پی کو سخت ہزیمت کا سامنا کرناپڑا ہے۔

آسام میں این ڈی  اے اکثریت کے قریب ہے جہاں  اسے  75  سیٹیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ حزب مخالف یو پی اے کو50  سیٹیں ملتی نظر آ رہی ہیں ۔ و ہیں پڈ و چیری میں این ڈی اے کو 14  اور  یو پی اے کو 6 سیٹیں ملی ہیں ۔

تمل ناڈو میں اے آئی اے ڈی ایم کے AIADMK کو78  اور ڈی ایم کے DMK  اتحادکو 156 سیٹیں حاصل ہوئی جبکہ   کیرالہ میں ایل ڈی ایف کو 99 ، یو ڈی ایف کو41 سیٹیں ملتی نظر آ رہی ہیں ۔اس کے ساتھ ہی  تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور آسام میں بی جے پی نے اکثریت حاصل کر لی ہے، کیرلا میں ایل ڈی ایف کی سرکار بن رہی ہے تو پڈ و چیری میں 14 سیٹیں این آ ر کانگریس نےحاصل کی ہیں ۔

 مغربی بنگال  میں نندی گرام سیٹ پر پہلے ممتا بنرجی کے جیتنے کی خبر آئی تھی لیکن  بعد میں الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ یہ سیٹ بی جے  پی کے امید وار کے حق میں گئی  ہے۔ اس سیٹ کو لے کر ممتا نے کہا کہ انہوں نے  دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ممتا نے کہا کہ  ہم 212 سے زائد سیٹیں جیت رہے ہیں  اور بی جے پی چناؤ ہار چکی ہے ۔

ممتا نے کہا کہ مرکز کی تمام کوششوں کے باوجودہم نے  فیصلہ کن جیت حاصل کی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ ہم ڈبل سنچری لگا ئیں گے ، اس جیت نے بنگال کے لوگوں کو بچا لیااور اخیر میں ہماری جیت ہوئی ۔ بے مثال فتح کے بعد ریاست کی وز یر اعلیٰ ممتا بنرجی میڈ یا کے  سامنے  آئیں اور سب کا شکر یہ ادا کیا اور کہا کہ بنگال کی جئے ، بنگال کی عوام کی جئے ۔ نتائج کے جواب میں ممتا بنرجی نے کہا کہ میں سب کا شکر یہ ادا کرتی ہوں ، میں سب سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ فتح کا کوئی  جلوس نہ نکالیں ، میں سب سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اپنے گھر واپس چلے جائیں۔

تمل ناڈو اور کیرالہ کے نتائج ظاہر کر ر ہے ہیں کہ بی جے پی   کے لیے جنوب ابھی  کافی  دور ہے ۔ تمل ناڈو میں ای پلانیسوامی اے آئی اے ڈی ایم کےAIADMK  کی جے للیتا کی میراث کو آ گے بڑھا ر ہےہیں  اس الیکشن میں انہوں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں وزیر اعظم نریندرمودی کا چہرہ بھی استعمال کیا  اور بی جے پی نے بھی پوری طاقت کے ساتھ تمل  ناڈو میں انتخابات لڑا۔ اس کے باوجوداAIADMK کی ہار ہوئی ہے ۔

ادھر ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ڈیرک او برائن نے ٹوئٹر پر وزیر اعظم مودی پر نشانہ سادھوتے ہوئے کہا کہ بنگال کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خواتین کی کہیں بھی تو ہین نہیں کرنی چاہئے ۔ اس سے قبل بھی انہوں نے مودی اور امیت شاہ اور بی جے پی صدر جے پی نڈا پر نشانہ سادھتے رہے ہیں ۔ وہیں ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ کا کولی دستی دار نے اتوار کی دو پہر کو ٹوئٹ کر کے  پوچھا کہ دیدی او د یدی بولنے والا دادا  اب کہاں گیا  ؟  دادا گیری نہیں چلے گی یہ  بنگلہ ہے  بنگال نہیں ۔

پانچ ریاستوں میں جتنے والے مسلم امیدوارایک نظر میں

مغربی بنگال: حمیدالرحمان ( ٹی ایم سی )،عبدالکریم چودھری ( ٹی ایم سی)،محمد  غلام ربانی (ٹی ایم سی )، آزاد منہاج العارفین ( ٹی ایم سی  )،  مشرف حسین (ٹی ایم سی  )،تعرف حسین منڈل ( ٹی ایم سی ) ،تجمل حسین (ٹی ایم سی ) ، عبدالرحیم بخشی ( ٹی ایم سی ) ، یا سمین  شبیہ ( ٹی ایم سی )،محمد عبدالغنی ( ٹی ایم سی )،  منیر الاسلام (ٹی ایم سی  ) ، آخرالزماں (ٹی ایم سی ) ،  علی محمد (ٹی ایم سی  ) ، ادریس علی ( ٹی ایم سی  ) ، سومک حسین (ٹی ایم سی ) ، ہمایوں کبیر ( ٹی ایم سی ) ، ربیع العالم چودھری ( ٹی ایم سی  )،  حسن الزماں شیخ (ٹی ایم سی )، نعمت  شیخ ( ٹی ایم سی) ، شاہینہ ممتاز خان (ٹی ایم سی ) ، رفیق الاسلام (ٹی ایم سی ) ، عبدالرزاق (ٹی ایم سی ) ، نصیر الدین احمد (لعل ) ( ٹی ایم سی ) ، کلول خان (ٹی ایم سی ) ، رکبان الرحمان (ٹی ایم سی ) ،عبدالرحیم قاضی ( ٹی ایم سی ) ، رحیمہ مونڈل (ٹی ایم سی )، اسلام ایس کے نورل حاجی ( ٹی ایم سی ) ، رفیق الاسلام منڈل ( ٹی ایم سی) محمد نسودصدیقی ( آر ایس ایم پی ) ، احمد جاوید خان ( ٹی ایم سی ) ،فر دوسی بیگم ( ٹی ایم سی ) ،عبدالخلیق ملا ( فی ایم سی )، فرہادحکیم ( ٹی ایم سی ) ، گلشن ملک ( ٹی ایم سی )، صدیق اللہ چودھری (ٹی ایم سی ) ، شیخ شاہنواز(ٹی ایم سی)۔

آسام:  صدیق احمد ( کا نگر یس ) ، عبد العزیز (اے آئی یو ڈی ایف ) ، ذاکرحسین لشکر (اے آئی یو ڈی ایف) ، سجام الدین لشکر (اے آئی یو ڈی ایف)، نجم الدین چودھری (اے آئی یو ڈی ایف ) ، کریم الدین بر بوہیا ( اے آئی یو ڈی ایف ) ، مصباح الاسلام لشکر ( کانگریس ) ، خلیل   الدین ( کانگریس )، نومل مؤمن (بی جے پی) ، محمد امین الاسلام(اے آئی یو ڈی ایف )، وزیرعلی چودھری ( کانگریس)، نذرالحق (اے آئی یو ڈی ایف) ،نزانرحمان (اے آئی یو ڈی ایف ) ،عبدالسبحان علی سرکار ( کانگریس )، حافظ بشیر احمد (اے آئی یو ڈی ایف )،  شمس الہدی (اے آئی یو ڈی ایف)،عبدالباطن ( کانگریس)، عبدالکلام رشید ( کانگریس ) ، عبدالرشید ( کانگریس )، آفتاب الدین ملا( کانگریس ) ،عبدالرحیم احمد ( کانگریس ) ، رفیق الاسلام (اے آئی یو ڈی ایف ) ، شیرمن علی احمد ( کانگریس )، ذاکرحسین ( کا نگر یس ) ، اشرف ا الحسین   (اے آئی یو ڈی ایف)،رقیب الدین احمد ( کانگریس )، مجیب الرحمان (اے آئی یو ڈی ایف )، ڈاکٹر آصف  محمد نذر ( کانگریس )، آصف الاسلام (اے آئی یو ڈی ایف ) ، نورالہدی ( کانگریس )، رقیب الحسین  ( کانگریس ) سراج الدین اجمل (اے آئی یو ڈی ایف)۔

 تمل ناڈو:   ایس ایم نصر ( ڈی ایم کے ) ، اذبلان این ( ڈی ایم کے ) ، جے ایم ایچ اسان مولانا ( کانگریس ) ،عبدالصمد ( ڈی ایم کے ) عبدالو باب ( ڈی ایم کے )۔

کیرالہ : اے کے ایم اشرف (انڈین یونین مسلم لیگ)  ، اڈوکیٹ اے این شمشیر (سی پی آئی ایم)، ایڈوکیٹ ٹی صدیقی ( کانگریس ) ، احمد دیورا کو ول ( آئی این ایل ) ، ایڈوکیٹ پی ٹی اے رحیم ( آزاد )، ڈاکٹر ایم کے منیر (انڈین یونین مسلم لیگ )، ٹی وی ابراہیم (انڈین یونین مسلم لیگ)، پی کے بشیر (انڈین یونین مسلم لیگ ) ، ایڈ وکیٹ یو اے لطیف (انڈین یونین مسلم لیگ) ،نجیب کنتھا پورم ( انڈین مسلم لیگ )، پی عبیداللہ ( انڈین مسلم لیگ )، عبدالحمید ماسٹر (انڈین مسلم لیگ) کے پی اے مجید (انڈین مسلم لیگ ) ، وی عبدالرحمان ( این ایس سی) ،  محی الدین (انڈین یونین مسلم لیگ ) ، پروفیسر عابدین (انڈین مسلم لیگ ) ،  ڈاکٹر جلیل ( آزاد )،  محمد محسن (سی پی آئی)،  شفیع( کانگر یس )، اے سی معین الدین (سی پی آئی ایم) ، این کے اکبر (سی پی آئی ایم )،انورسادات ( کانگر یس ) ،ای نو شاد( سی پی آئی ایم )۔

پڈو چیری:  اے ایم ایچ ناظم ( ڈی ایم کے )

 

اسدالدین اویسی کا بنگال میں ہوا برا حال

مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے بی جے پی کو اس کی اوقات بتا دی ہے اور حکومت سازی کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھا دیا ہے، لیکن اس درمیان اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی حالت بھی انتہائی خستہ نظر آ رہی ہے۔ اویسی کی جس پارٹی نے بہار میں اپنی کارکردگی سے سبھی کو حیران کر دیا تھا، بنگال میں ایسا کوئی بھی جادو دکھائی نہیں دیا۔ پارٹی لیڈران کسی بھی سیٹ پر مقابلے میں نظر نہیں آئے جو اسدالدین اویسی کے لیے کسی جھٹکا سے کم نہیں ہے۔

بہار الیکشن میں پانچ اسمبلی سیٹوں پر جیت حاصل کر ساتویں آسمان پر پہنچے حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ اویسی کی پارٹی نے مغربی بنگال میں دوگنے جوش کے ساتھ قدم رکھا تھا، لیکن انتخابی تشہیر کے دوران کیے گئے لبھاؤنے وعدوں اور منصوبہ بندی کا کوئی اثر برآمد نتائج میں دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ مغربی بنگال کے جو رجحانات سامنے آ رہے ہیں، ان میں اے آئی ایم آئی ایم کا کوئی بھی لیڈر مقابلے میں نہیں ہے۔ سبھی لیڈران تیسرے یا چوتھے نمبر پر نظر آ رہے ہیں۔

بنگال کی اتاہر اسمبلی سیٹ پر مجلس نے مفکرالاسلام کو اپنے امیدوار کے طور پر اتارا تھا، لیکن اس سیٹ پر اویسی کی پارٹی کی جیت کسی بھی طرح ممکن نظر نہیں آ رہی۔ اس سیٹ پر سخت مقابلہ ترنمول کانگریس کے مشرف حسین اور بی جے پی کے امت کمار کنڈو کے درمیان ہے۔ اسی طرح جلنگی اسمبلی سیٹ سے ترنمول کانگریس امیدوار عبدالرزاق سبقت بنائے ہوئے ہیں اور مجلس امیدوار زماں کی شکست صاف نظر آ رہی ہے۔ اب تک کی ووٹ شماری میں ساگرڈگھی اسمبلی سیٹ پر بھی ترنمول امیدوار سبرتا ساہا سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ اویسی کی پارٹی کے لیڈر نور محبوب عالم کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ بھرت پور سیٹ پر بھی مجلس امیدوار سجاد حسین کی جیتنے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ اس سیٹ پر ترنمول امیدوار ہمایوں کبیر سبقت بنائے ہوئے ہیں۔

ملاتی پور اسمبلی سیٹ سے کھڑے ہوئے مولانا مطیع الرحمن بھی اویسی کی پارٹی کے لیے کچھ نہیں کر پائے ہیں۔ یہاں بی جے پی اور ترنمول کانگریس امیدوار کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ رتوا اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار ابھشیک سنگھانیا نے سبقت بنائی ہوئی ہے اور اس سیٹ پر کھڑے مجلس امیدوار سعیدالرحمن کا پتّہ صاف نظر آ رہا ہے۔ تازہ رجحانات میں آسنسول شمالی اسمبلی سیٹ پر بھی ترنمول کانگریس کے گھٹک مولوئے آگے چل رہے ہیں۔ بی جے پی کے کرشنیندو مکھرجی کو اب تک 22 ہزار سے زیادہ ووٹ ملے ہیں جب کہ گھٹک مولوئے کو 33 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل ہو چکے ہیں۔ ایسے میں اس سیٹ پر اویسی کی پارٹی کے لیڈر دانش کا کہیں نام و نشان ہی نظر نہیں آ رہا ہے۔ گویا کہ مغربی بنگال میں کوئی ایسی سیٹ نظر نہیں آ رہی جہاں اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم کسی بھی طرح اپنی موجودگی درج کر رہی ہو۔

پرشانت کشور کی پیش گوئی صد فیصد درست

کلکتہ: بی جے پی کے 100 سے زائد سیٹیں جیتنے پر انتخابی حکمت عملی کے پیشے کو چھوڑ نے کا اعلان کرنے والے پرشانت کشور کی پیش گوئی صد فیصد درست ثابت ہوئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے آج ترنمول کانگریس کی شاندار جیت کے بعد پرشانت کشور نے کہا کہ وہ ریٹائرڈ ہونا چاہتے ہیں۔ اپنی کمپنی ’آئی پیک‘ کو اپنے ساتھیوں کے حوالے کرکے کچھ اور کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ ترنمول کانگریس تین تہائی سیٹوں پر جیت حاصل کرلی ہے۔ جب کہ بی جے پی 72 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے۔ شاندار جیت کے بعد پرشانت کشور نے کہا کہ میں اپنی دیدی کی مدد کرکے میں خوش ہوں، لیکن میں اب یہ کام چھوڑنا چاہتا ہوں، کافی عرصہ ہوگیا ہے۔ میں اپنے ساتھیوں کو آئی پی اے سی کی ذمہ داری سونپ کر زندگی میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں۔

تاہم پرشانت کشور نے یہ نہیں کہا ہے کہ و ہ اب کیا کریں گے۔ کیا براہ راست سیاست میں آئیں گے، اس سے قبل وہ جنتادل یو میں شامل ہوئے تھے مگر نتیش کمار سے اختلافات کے بعد انہیں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ پرشانت کشور نے کہا کہ میں کوئی پنڈت نہیں ہوں بلکہ مقامی حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہم نے یہ دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر غیر جانبدار ی سے الیکشن کمیشن کام کرتی تو بی جے پی کی مزید سیٹیں کم ہوتیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ الیکشن کمیشن کے خلاف متحد ہوں اور انتخابی اصلاحات کے لئے مجبور کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات جیت حاصل کرنے کے بعد بول رہا ہوں، انتخابی اصلاحات کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ جمہوریت کا سوال ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی پولیس کا شری نیواس بی وی سے پوچھ گچھ کرنا سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ایس ڈی پی آئی

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے قومی جنرل سکریٹری کے ایچ عبدالمجید نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں دہلی میں کوویڈ وبائی مرض سے متعلق امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے انڈین یوتھ کانگریس کے صدر شری نیواس بی وی سے دہلی پولیس کی جانب سے پوچھ گچھ کا سخت نوٹس  ...

کورونا کا خاتمہ جولائی تک نہیں ہوگا: ایکسپرٹ

جس طرح کورونا کے نئے معاملوں کی تعداد میں کمی درج ہو رہی ہے اس سے یہ امید بنی ہے کہ ہندوستان میں کورونا کی دوسری لہر کا خاتمہ جلد ہو جائے گا لیکن وبائی بیماریوں کے ماہر شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ بھلے ہی ابھی کچھ ریاستوں میں کورونا کے کیس کم ہوتے نظر آ رہے ہوں لیکن دوسری لہر کا ...

سادگی کے ساتھ عید منائیں اور چھوٹی جماعت کے ساتھ عید کی نماز ادا کریں ، سرکردہ مسلم رہنماوں کی مسلمانوں سے اپیل

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی ۔ جمعیت علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی سمیت دیگر سرکردہ علماء اور مسلم قائدین مسلمانوں نے اپیل کی ہے کہ وہ کرونا کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر احتیاط کریں اور مختصر جماعت ...

لاک ڈاؤن پر ہو سختی سے عمل: اشوک گہلوت

راجستھان میں عالمی وبا کورونا کی دوسری لہر کی چین توڑنے کے لئے آج صبح 5بجے سے لے کر 24 مئی تک سخت لاک ڈاؤن نافذ ہوگیا ہے۔ اس مدت کے دوران، ہنگامی اور ضروری خدمات، میڈیکل، دودھ اور دیگر ضروری خدمات کے لئے رعایت رہے گی۔