دہلی کے موجودہ حالات پر ممتا بنرجی نے ’جہنم‘ کے عنوان سے لکھی نظم

Source: S.O. News Service | Published on 27th February 2020, 11:26 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کولکاتا،27/فروری (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے دہلی میں حالیہ تشدد کے واقعات پر ’جہنم‘ کے عنوان سے ایک نظم اپنے فیس بک پر پوسٹ کی ہے جس میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے تشدد کے واقعات میں اموات پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ہولی سے قبل خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے“۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس نظم کو تین زبانوں ہندی، بنگلہ اور انگریزی میں پوسٹ کیا ہے۔ کل وزیر اعلیٰ بھونیشور روانہ ہونے سے قبل کہا تھا کہ دہلی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوال بھی کیا تھا کہ آخر کون لوگ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی نظم میں لکھا ہے ’’کہاں ہیں ہم، کس طرف جارہے ہیں، جنت میں جانے کے بجائے جہنم کا رخ کیوں کر لیا ہے۔ آخر یہ کون لوگ ہیں، کیوں لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اب کتنے لوگ مریں گے اور اس کا جواب کون دے گا۔‘‘

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی پہلے بھی متعدد مرتبہ اپنی نظموں کے ذریعہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتی رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی نظموں کی کتاب بنگلہ کے علاوہ ہندی اور انگریزی میں شائع ہوچکی ہے۔ بنگال میں تشدد کے واقعات بی جے پی لیڈر ممتا حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے الزام لگاتے ہیں کہ بنگال میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کسی بھی سیاسی جماعت پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے اشاروں میں حکومت کی سخت تنقید کی ہے۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنی نظم کے آخری حصہ میں لکھا ہے کہ اس کا حل کیا ہے اور اس خون خرابے کا جواب کون دے گا۔ اس سے قبل وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول کانگریس کی شکست پر ایک نظم ”فرقہ پرستی قبول نہیں ہے“ کے عنوان سے لکھی تھی۔

تاہم بی جے پی لیڈروں نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے ذریعہ تحریر نظم پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ممتا بنرجی کو اس وقت تکلیف کیوں نہیں ہوئی تھی جب بشیر ہاٹ میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

پنجاب: چندی گڑھ میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ کر ہوئے 56، چار افراد کی موت

 پنجاب اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ چندی گڑھ میں کورونا وائرس کا قہر روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے جہاں اس وبا سے متاثرین کی تعداد 56 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 41 پنجاب اور 15 چندی گڑھ کے ہیں۔ وہیں اس وبا سے اب تک اس علاقے میں چار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

راہل گاندھی نے امیٹھی کے لئے بھیجی امداد، مزدور بحران پر کپل سبل کا حکومت پر حملہ

کورونا وائرس کے بڑھتے اثر کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن جاری ہے۔ 21 دن کے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں سے اپنے گھروں میں ہی رہنے کو کہا گیا ہے، لیکن اس دوران یومیہ مزدوروں کو متعدد پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سونیا گاندھی نے لکھا پی ایم مودی کو خط ’منریگا کے تحت 21 دن کی اجرت پیشگی ادا کریں‘

 کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ 21 دن کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہی علاقوں میں مزدوروں کے سامنے روزی روٹی کا بحران پیدا ہو گیا ہے، لہذا ان کارکنوں کو منریگا کے تحت ملنے والی 21 دن کی اجرت پیشگی ادا کی جائے۔

نظام الدین کے اجتماع میں شریک حضرات جانچ کروالیں: اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم کی اپیل

ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹر اے بی ابراہیم نے اپنے ایک اخباری بیان میں تبلیغی مرکز نظام الدین کے اجتماع میں مارچ کے دوران شرکت کرنے الوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ضلع یا تعلقہ میں محکمہ صحت سے رابطہ کر کے اپنی جانچ کروالیں۔

متحدہ عرب امارات: مدت ختم ہو جانے والے اقاموں میں 3 ماہ کی توسیع کا فیصلہ

متحدہ عرب امارات میں کابینہ نے متعدد نئے فیصلوں کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلے ملک میں مختلف سیکٹروں کو کرونا وائرس کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے حکومتی اقدامات کا حصہ ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں ، غیر ملکی مقیمین اور امارات کا دورہ کرنے والوں کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

تبلیغی جماعت کے ساتھ وائرس لگانے والے کسی وائرس سے زیادہ خطرناک: عمر عبداللہ

 نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے سوشل میڈیا پر تبلیغی وائرس کے ہیش ٹیگ استعمال کرنے والوں کو دنیا کے کسی بھی وائرس سے زیادہ مہلک و خطرناک قرار دیا ہے اور انہیں ذہنی بیمار قرار دیا۔

فرقہ واریت کے جراثیم کورونا سے زیادہ خطرناک؛ نظام الدین کے واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے: مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے ایک بیان میں حضرت نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کے تعلق سے میڈیا میں ہونے والے منفی پروپیگنڈے کے تناظرمیں کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب پور املک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا متحد ہو کر کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے ...