عام انتخابات جمہوریت اور آمریت میں راست مقابلہ: ملیکارجن کھرگے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th April 2019, 10:53 AM | ریاستی خبریں |

کلبرگی،14؍ اپریل (ایس او نیوز) موجودہ لوک سبھا انتخابات ، عام نوعیت کے انتخابات نہیں ہیں بلکہ یہ جمہوریت اور آنے والی آمریت کے درمیان جنگ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اگر ہندوستانی عوام نے جمہوریت اور دستور کو بچانے کے لئے کانگریس کو ووٹ دیا تو انھیں آمریت کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔ سکیولر جمہوریت اور ہندوستان کے دستور کو بچالیا گیا تو بی جے پی کے ناپاک آمرانہ عزائم ناکام ہوجائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار سینئر کانگریس رہنما ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے کیا۔ وہ گذشتہ رات چاند بی بی ، بی ایڈکالج میں منعقدہ اقلیتی کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو دنیا کا سب سے ناکام اور دروغ گو وزیر اعظم قرار دیا اور کہاکہ اپنی حکومت کی ایک کامیابی مود ی نہیں گنا سکتے ۔ ایک وعدہ انھوں نے ایسا نہیں کیا ان کی پوری پانچ سالہ معیاد اپنے گھوٹالوں کی پردہ پوشی کرنے اور کانگریس کو بلاوجہ برا بھلا کہنے میں گذر گئی ۔ انھوں نے کبھی پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کا سامنا نہیں کیا۔ ملیکارجن کھرگے نے کہاکہ مودی کانگریس کی 55سالہ ترقیاتی جدوجہد کو کم نظری سے دیکھتے ہی اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ملک نے جو کچھ ترقی کی ہے وہ ان کے پانچ سالہ دورِ حکومت کا صلہ ہے، اس سے بڑا جھوٹ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ مودی ہندوستانی فوج کواپنی ذاتی فوج سمجھتے ہیں ، اسکے حملے کو اپناحملہ قرار دیتے ہیں، یہ ہندوستانی فوج کی توہین ہے ۔ عام انتخابات نے ان جھوٹوں کو سبق سکھانے کا بہتر موقع دیا ہے ، انھیں اقتدار سے بے دخل کرکے ملک دستور اور جمہوریت کے بچایئے ۔ محترم کنیز فاطمہ رکن اسمبلی کلبرگی شمال نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے کو ووٹ دے کر راہل گاندھی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سید ناصر حسین ایم پی راجیہ سبھا نے بتایا کہ ملیکارجن کھرگے مسلمانوں ، دلتوں اور سبھی لوگوں کے بہی خواہ ہیں ۔انھوں نے مجھے راجیہ سبھا کا رکن نامزد کروایا۔ اس طرح محمد رحیم خان کو ریاستی کابینہ میں شامل کروایا۔ جناب وائی سعید صدر کرناٹک اقلیتی ڈپارٹمنٹ نے کہاکہ لوک سبھا الیکشن میں مسلمانوں کو صرف ایک نشست دی گئی ہے لیکن کانگریس ہائی کمان نے وعدہ کیا ہے کہ مرکز میں حکومت بنانے کی صورت میں دو مسلمانوں کو ایم ایل سی بنایا جائے گا ، اور ایک مسلمان کو راجیہ سبھا میں نامزد کیا جائے گا۔ ظفر خان مبصر اے آئی سی سی نے بھی خطاب کیا ، اشفاق احمد چلبل کنونیئر نے استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض افضال محمود نے انجام دئیے۔ کنونشن میں عالم خان ، اسد علی انصاری ، عبدالرحمن منا ، نجم الاسلام احمر ، عادل سلیمان سیٹھ ، محمد احمد سابق مئیر ، سید نیر خورشید ، عارف خان ، خسرو چلبل ، واحد علی فاتحہ خوانی ، رفیق احمد ابو ، حبیب روسہ اور دیگر کارپوریٹرس شریک تھے ۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں مجبور پی ایم چاہتی ہے کانگریس، کرناٹک میں ریلیوں میں پھرپاکستان کے حوالے سے مودی کاخطاب

معلق لوک سبھاکے تجزیئے کے درمیان اب بی جے پی نے واضح اکثریت مانگنی شروع کردی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو دعوی کیا کہ کانگریس ملک میں ایک مجبور وزیر اعظم بنوانا چاہتی ہے۔انہوں نے لوگوں سے مرکز میں قومی سلامتی پر زور دینے والی مضبوط حکومت بنوانے کی اپیل بھی کی۔شمالی ...

لوک سبھا انتخابات کا دوسرا مرحلہ ؛کشمیر سے کنیا کماری تک ہورہی ہے پولنگ؛ شام تک 61 فیصد پولنگ؛ جموں و کشمیر میں سب سے کم ووٹنگ

  لوک سبھا انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ملک کی 12 ریاستوں کی 95 لوک سبھا سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جس کے لئے 1.78 لاکھ پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اس میں 1629 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے دوران اتر پردیش کی 8، مغربی ...