بی جے پی حکومت میں ہر چیز کی قیمت مقرر ہے قائد اپوزیشن راجیہ سبھا کھرگے کی کرناٹک بی جے پی حکومت پر سخت تنقید

Source: S.O. News Service | Published on 12th May 2022, 5:21 PM | ریاستی خبریں |

    گلبرگہ ،12؍مئی (ایس او نیوز؍ایم اے حکیم شاکر) قائد اپوزیشن راجیہ سبھا ڈاکٹر ملیکارجن کھرگے نے  اپنے ایک  بیان میں کرناٹک کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس حکومت نے کرناٹک میں ہر چیز کی قیمت مقرر کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کرناٹک میں خود بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی نے بیان دیا ہے کہ کرناٹک میں وزیر اعلیٰ   کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے 2500کروڑ روپئے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس رقم کی ادائیگی کے بعد ہی   وزیر اعلیٰ  کا عہدہ مل سکتا ہے۔ کھرگے  نے کہا کہ رشوت کا معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ کرناٹک میں ایک مٹھ کے سوامی نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ مٹھوں اور مندروں کے لئے جاری کی جانے والے سرکاری فنڈس میں سے 30فی صد حصہ حکومت کو ادا کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ تعمیراتی گتہ داران کا الزام ہے کہ انھیں اپنے تکمیل شدہ کاموں پر 40فی صد کمیشن ادا کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔  اس طرح ریاستی حکومت نے ہر چیز کے لئے ایک قیمت مقرر کی ہے،۔ ڈاکٹر کھرگے اتوار کے دن بھالکی ضلع بیدر میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دے رہے تھے۔

 سینئر کانگریسی قائد کھرگے نے کہا کہ سابق میں کانگریسی قائیدین  نے دستوری  ترمیم کرکے دفعہ 371Jکے ذریعہ علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے نوجوانوں کے لئے سرکاری ملازمتوں اور اعلی تعلیمی نصابوں والے کالجوں میں داخلوں کے لئے تحفظات فراہم کئے۔ اس دستوری ترمیم کے سبب ااج اس علاقہ کے نوجوان اعلی تعلیمی نصابوں میں داخلے  حاصل کررہے ہیں اور سرکاری ملازمتوں میں بھی انھیں موقع مل رہا ہے۔

اس معاملہ میں کانگریسی قائیدین نے اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ اور مرکزی متحدہ محاذ کی صدر نشین سونیا گاندھی کو علاقہ حیدر آباد کرناٹک کو خصوصی موقف عطا کرنے اور اس علاقہ کے عوام کو روزگار اور تعلیم کے میدانوں میں تحفظات فراہم کرنے کے لئے راضی کروایا تھا۔ اس انقلابی اقدام کے سبب آج علاقہ حیدر آبد کرناٹک کے نوجوان سرکاری ملازمتیں حاصل کررہے ہیں اور اعلیٰ تعلیمی نصابوں میں داخلے حاصل کررہے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف بی جے پی نے ریاست کرناٹک کے لئے کیا کارنامے انجام دئے ہیں جب کہ وہ ریاست او مرکز دونوں جگہ اقتدار پر ہے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائیمینٹ گیارنٹی اسکیم کے تقریبا 50فی صد فنڈس گھٹا دئے ہیں۔ مسٹر کھرگے نے الزام عائد کیا کہ ملک کے چند صنعت کاروں کے لئے بی جے پی ملک کے غریب عوام کے خلاف کام کررہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

حجاب کیس: ججوں کو دھمکیاں دینے والے شخص کی درخواست ضمانت مسترد

بنگلورو کی ایک سیشن عدالت نے تمل ناڈو کے ترونیل ویلی سے تعلق رکھنے والے رحمت اللہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جو حال ہی میں کلاس رومز میں حجاب پہننے پر فیصلہ سنانے والے کرناٹک ہائی کورٹ کے ججوں کی جان کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے کے الزام میں عدالتی حراست میں ہے۔ سٹی ...

صد فیصد مارکس لینے والے اردو میڈیم طلبہ کا ذکر نہ ہونے پر ایس ایس ایل اسی بورڈ سے بزم اردو وجئے پور نے چاہی وضاحت

بزم اردو وجئے  پور نے ایس ایس ایل کی بورڈ بنگلورو سے وضاحت طلب کی ہے کہ امسال ایس ایس ایل سی اردو میڈیم میں 625 میں سے 625 مارکس حاصل کرنے والے اردو میڈیم طلبہ کو آیا دور رکھا گیا ہے یا پھر اردو میڈیم کے طلبہ قابل نہیں تھے۔

بنگلور: ایس ایس ایل سی نتائج کے بعد پرائیویٹ سمیت سرکاری کالجوں میں بھی رش ۔ پی یوسی میں داخلہ لینے کالج میں طلبہ اوروالدین کی لمبی قطاریں

ایس ایس ایل سی امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد پی یوکالجوں میں داخلہ کارروائی زوروں سے شروع ہوگئی ہے۔والدین اورطلبہ قطاروں میں کھڑے ہوکر فارم لیتے ہوئے عرضیاں پر کررہے ہیں۔ بنگلورو شہرکے معروف کالجوں میں عرضی حاصل کرنے کے لیے کلو میٹرکی مسافت تک کھڑے ہوئے والدین عرضیاں ...

بنگلورو کے ترقیاتی کاموں کی نگرانی کیلئے8ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ:   وزیر اعلیٰ  بسواراج بومئی

  وزیر اعلیٰ  بسواراج بومئی نے کہا کہ بنگلورو میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی اور شدید بارش جیسی کسی بھی ہنگامی صورت حال میں درکار فیصلے لینے کے لیے شہر کے تمام آٹھ زونس میں وزیر کی قیادت میں ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے ارکا ن اسمبلی اور وزراء کے ہمراہ جمعہ کو شہر کے ...

گیان واپی مسجد کےخلاف سازشیں ناکام بنائیں،عبادت گاہوں سے متعلق ایکٹ 1991ء کو نافذ کرنے کا مطالبہ ، ایس ڈی پی آئی کا ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ

سوشیل  ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا نے وارانسی میں گیان واپی مسجد کے ایک حصے کو سیل کرنے کے وارانسی عدالت کے حکم پر سخت اعتراض کرتے ہوئے ‘گیان واپی مسجد کے خلاف سازشیں ناکام بنائیں۔ عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991کو نافذ کرو ‘کے مطالبے کے تحت بنگلور، میسور، چتر ...