مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ:بھگواملزمین کی مقدمہ سے خلاصی کی عرضداشت پر فوری سماعت سے ہائی کورٹ کا انکار، 18نومبر سے شنوائی ہوگی

Source: S.O. News Service | Published on 10th October 2019, 5:45 PM | ملکی خبریں |

ممبئی،10؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ کا سامنا کررہے بھگوا ملزمین کو آج اس وقت مایوسی ہوئی جب ممبئی ہائی کورٹ نے ان کی جانب سے مقدمہ سے ڈسچارج کی عرضداشت پر بم دھماکہ متأثرین کی نمائندگی کرنے والے وکلا کی مخالفت کے بعد سماعت ملتوی کردی۔بم دھماکہ ملزمین جس میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، کرنل پروہیت اور سمیر کلکرنی شامل ہیں کی جانب سے داخل مقدمہ سے خلاصی کی عرضداشت کو ممبئی ہائی کورٹ کی 2/رکنی بنچ کے جسٹس ایس ایس شندے اور جسٹس سوریہ ونشی نے فوری سماعت کرنے سے انکار کردیا اور معاملہ کی سماعت دیوالی کی تعطیلات کے بعد یعنی کے18/نومبر سے شروع کئے جانے کا حکم دیا۔یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ متأثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ انہوں نے بتایا کہ آج جیسے ہی سوا 3/بجے معاملہ ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے پیش ہوا بم دھماکہ متأثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ بی اے دیسائی نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملہ میں نچلی عدالت میں اب تک 127/گواہوں کی گواہیاں مکمل ہوچکی ہیں اور ملزمین کی مقدمہ سے خلاصی کی درخواست کو نچلی عدالت نے مسترد کردیا ہے۔ لہٰذا آج ملزمین ہائی کورٹ میں داخل عرضداشت پر بحث کرنا چاہتے ہیں جس پر فوری سماعت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو سوال انہوں نے عرضداشت میں اٹھایا ہے اسے نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ نے ماضی میں خارج کردیا تھا۔ گلزار اعظمی نے کہاکہ بی اے دیسائی نے عدالت کو مزید بتایا کہ این آئی اے کی اضافی چارج شیٹ میں این آئی اے نے اسے مقدمہ سے کلین چٹ دے دی ہے۔ لیکن نچلی عدالت نے اے ٹی ایس کی چارج شیٹ کی روشنی میں اس کے اور دیگر ملزمین کے خلاف چارج فریم کردیا ہے جسے ملزمین نے چینلج کیاہے۔ لیکن بجائے مقدمہ کا سامنا کرنے کے ملزمین چاہتے ہیں کہ انہیں این آئی اے کی تازہ فرد جرم کا فائدہ ملے اور انہیں مقدمہ سے ڈسچار کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملزم کرنل پروہیت نے ہائی کورٹ میں مقدمہ سے ڈسچار ج کے ساتھ ساتھ یو اے پی اے کے اطلاق کو غیر قانونی قرار دینے کی عرضداشت بھی داخل کی ہے۔ لیکن اس سوال کو ممبئی ہائی کورٹ نے پہلے ہی خارج کردیا ہے لہٰذا امید ہے کہ عدالت ملزم کی عرضداشت کو ایک بار پھر خارج کردے گی اور ملزمین کو مقدمہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایک نظر اس پر بھی

ایودھیا معاملہ: نظر ثانی کی سبھی18درخواستیں خارج افسوس ناک فیصلہ،ایک اختیار اب بھی باقی،فیصلہ آئندہ:مسلم فریق

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اے ایس بوبڈے کی سربراہی والی بنچ نے مختصر سماعت کے بعدبابری مسجد پرآئے فیصلہ کے خلاف داخل نظر ثانی کی 18عرضیوں کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ ان میں میرٹ کی عدم موجودگی ہے۔