میک اِن انڈیا میک ان فرانس بن گیا، اور مودی جی کہیں گے ’سب چنگا سی!‘: کانگریس

Source: S.O. News Service | Published on 24th September 2020, 9:01 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،24؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے رافیل جیٹ بنانے والی فرانسیسی کمپنی دسالٹ ایوی ایشن کے حوالہ سے جاری ہونے والی سی اے جی (کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل) کی رپورٹ کے حوالہ سے مودی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔ جمعرات کو پارٹی کے قومی ترجمان رندیپ سرجے والا نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اس معاملے میں ، 'میک ان فرانس' نے 'میک ان انڈیا' کی جگہ لے لی۔

انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ’’دفاع کے سب سے بڑے معاہدے کی کرونولوجی منظر عام پر آ رہی ہے۔ سی اے جی کی نئی رپورٹ میں یہ قبول کیا گیا ہے کہ رافیل کے آفسیٹ میں 'ٹیکنالوجی ٹرانسفر' کی شرط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ پہلے 'میک اِن انڈیا'، 'میک ان فرانس' بن گیا۔ اب ڈی آر ڈی او کے ٹیک ٹرانسفر کو درکنار کر دیا گیا اور مودی جی کہیں گے ’سب کچھ چنگا سی!‘‘

واضح رہے کہ سی اے جی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں دسالٹ ایوی ایشن نے وزارت دفاع کی آفسیٹ سے متعلقہ پالیسیوں کے حوالہ سے 36 رافیل طیاروں کے لئے معاہدہ کیا ہے، لیکن فرانسیسی فرم نے ابھی تک دفاعی تحقیق اور ترقیاتی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کے تئیں اپنی آفسیٹ شرائط پوری نہیں کی ہے۔

دراصل آفسیٹ پالیسی کے تحت یہ شرط ہے کہ کسی بھی غیر ملکی کمپنی کے ساتھ معاہدے کی قیمت کا کچھ حصہ ہندوستان میں ایف ڈی آئی کی شکل میں آنا چاہیے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی طور پر نوکریاں پیدا کرنے کی تیاری شامل ہیں۔

رافیل معاہدے کے دوران فرانس نے ہندوستان کے لائٹ جنگی طیاروں میں لگنے والے امریکی کمپنی کے انجن کو تبدیل کرنے کے لئے اپ گریڈ شدہ کاویری انجن پر کام کرنے پر اتفاق کیا تھا حالانکہ ابھی تک دسالٹ کی طرف سے کچھ بھی صاف نہیں کیا گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

دہلی تشدد: عمر خالد نے عدالت میں بیان کیا اپنا درد، کہا 'کسی سے ملنے تک نہیں دیا جا رہا'

 دہلی تشدد معاملہ میں گرفتار عمر خالد اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔ جمعرات کے روز انھیں دہلی ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا جہاں انھوں نے پولس پر الزام عائد کیا ہے کہ انھیں کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔