آئی ایم اے معاملہ:منصورخان نے کی خودسپردگی کی پیشکش،ویڈیو پیغام میں جان کے خطرے کے خدشے کا اظہار-پولیس کمشنر کے سامنے تمام تفصیلات رکھنے کی یقین دہانی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 24th June 2019, 10:48 AM | ریاستی خبریں |

 

بنگلورو،24؍جون(ایس او نیوز؍ایجنسی) ای ڈی کے ذریعہ سمن جاری ہونے کے تین دن کے بعد گذشتہ 8 جون سے مفرور آئی ایم اے کے منیجنگ ڈائرکٹر محمدمنصورخان نے اپنی زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک ریکارڈ ویڈیو پیغام پولیس کمشنر الوک کمار اوردیگر سرمایہ کاروں کے لئے ریلیز کیا -جس میں انہوں نے جہاں ایک طرف اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ بہت جلد بنگلور آکرخودسپردگی چاہتے ہیں -وہیں انہوں نے اپنی جان کے خطرے کا ذکرکرتے ہوئے پولیس انتظامیہ کے سامنے تمام تفصیلات رکھنے کی بات کی - انہوں نے اپنوں، قریبی لوگوں کی غداری اور سیاسی لوگوں کی ہراسانی کا بھی ذکرکیا -واضح رہے کہ منصور خان نے اپنے ویڈیو کے ذریعہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے -اپنی غلطیوں اورکرپشن کو چھپانے کے لئے کیا منصورخان نے اپنے اس ریکارڈ ویڈیو سے پولیس کمشنر ودیگر سرمایہ کاروں کے دلوں پر اپنی چھاپ چھوڑ سکیں گے؟ویڈیو میں منصور خان نے دوسروں پر الزام عائد کرکے اپنے آپ کو معصوم اور بے قصور ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے -سوال یہ ہے کہ اگر وہ اتنے ہی معصوم اور بے قصور تھے تو بھاگنے سے قبل وہ پولیس کمشنر سے کیوں نہیں ملے یا پریس ریلیز اور آڈیوویڈیو پیغامات سے اپنے سرمایہ کاروں کو اپنی جان کے خطرے کی بات کیوں نہیں بتائی؟ویڈیو پیغام عام ہونے کے بعد گھوٹالے کی کی جانچ کیلئے قائم ایس آئی ٹی افسر اور پولیس ڈپٹی کمشنر نے منصور خان کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ منصور ملزم ہے اور اب وہ کسی پر بھی کوئی الزام لگا سکتا ہے -اس کے دعوے یا الزامات پر کسی بھی صورت میں یقین نہیں کیا جاسکتا -انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہاکہ ہندوستان سے بھاگنے کافیصلہ جلد بازی اور اچانک ہوا-پہلے سے اس کے لئے کوئی تیاری نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی منصوبہ بنایا گیا - اپنے اور اپنے اہل خانہ کی جان کے تحفظ کے لئے اپنی سرزمین چھوڑنی پڑی -انہوں نے کہاکہ ہاں یہ میری غلطی تھی،لیکن میرے اپنے اور قریبی لوگوں کے ساتھ سیاسی لوگوں نے ایسے اندوہناک حالات پیدا کردئے کہ مجھے آناً فاناً اپنی فیملی کو کسی قریہ میں چھپانا پڑا اوراپنی جان بچانے کے لئے ہندوستان سے بھاگنا پڑا- انہوں نے ویڈیو میں کہا ہے کہ اب میں ذہنی اوردماغی طور پر صحیح ہوں اور ہندوستان واپس آنا چاہتا ہوں - تمام ناسپاس حالات کے باوجود 14 جون کو میں ہندوستان واپس آنے کے لئے ایرپورٹ گیا لیکن مجھے وہاں سے یہ کہتے ہوئے واپس کردیا کہ آپ ہندوستان نہیں جاسکتے- امیگریشن ڈپارٹمنٹ سے رابطہ کریں - لیکن جمعہ ہونے کی وجہ سے وہاں کوئی نہیں ملا- انہوں نے ویڈیو پیغام میں پولیس کمشنر الوک کمار سے درخواست کی ہے کہ وہ موبائل نمبر9902129090پر ہمیں ایس ایم ایس کرکے تفصیلات سے آگاہ کریں کہ مجھے ہندوستان آنے کے لئے کیا کرنا ہے، ٹکٹ بک کرانے ہیں یا کس جگہ کس سے ملاقات کرنی ہے تمام تفصیلات مجھے ارسال کریں کیونکہ میں پوری تفصیلات آپ اور آپ کی ٹیم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ذاتی مفادات کی خاطر نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے پروپیگنڈے کو اجاگرکرنے اور سرمایہ کاروں کے پیسوں کو واپس کرنے کے لئے- انہوں نے پولیس کمشنر سے اپیل کی کہ وہ قانونی طورپر جو بھی کارروائی کریں گے اس کیلئے وہ ہر صورت میں اور ہر طرح کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں - اس معاملہ میں جو بھی ملوث ہیں ان تمام کی فہرست بھی پیش کردیں گے - کس نے کیا لیا، کتنے پیسے لئے،کس نے ہراساں کیا اور کس نے غداری کی، کس کو ہم نے کتنے پیسے دئے تمام کی تفصیلات ہمارے پاس ہیں جو بہت ہی ایمانداری کے ساتھ ہم انتظامیہ یا عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں - ان تمام بڑے بڑے لوگوں کے نام واضح ہوجانے کے بعد مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ مجھے زندہ نہیں چھوڑیں گے - اگر میں ابھی ان تمام کا نام لے لوں تو مجھے یہاں بھی مرواسکتے ہیں لیکن اس سے قبل میں چاہتا ہوں کہ تمام تفصیلات آپ (پولیس کمشنر) کے سامنے رکھ دوں مجھے یہ بھی یقین ہے کہ یہ لوگ پولیس حراست میں بھی مجھے مرواسکتے ہیں، ضمانت پر باہر آؤں تو سڑک پر بھی مروا سکتے ہیں اورعدالت کے اندر بھی مروا سکتے ہیں لیکن میں نے عزم کرلیا ہے کہ جو حقیقت ہے وہ عوام کے سامنے رکھوں - انہوں نے اپنے پہلے آڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ میں نے اپنے آپ کو ختم کرنے کی بات بہت ہی پریشان کن حالات میں کہی تھی اب جبکہ تمام لوگ مجھے مارنے کے لئے تیار ہیں تو میں کیوں اپنے آپ کو ماروں - انہوں نے کہاکہ میرے پاس سرمایہ کاروں کے ایک ایک روپئے کا حساب ہے یہ عوام کا روپیہ ہے کوئی بلیک منی نہیں - انہوں نے کہاکہ جب میں نے ہندوستان چھوڑا اس وقت میرے پاس جملہ 2350کروڑ روپئے کے اثاثے تھے جس میں 500 کروڑ روپئے کی جائیداد،120 کلو خالص سونے کے زیورات اوردیگر قیمتی اثاثے موجود تھے -انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جمعہ کو بہت سے زیورات وہاں سے نکال لئے گئے ہیں اس میں ڈائرکٹرس اور میرے چند بھائی ملوث ہیں - ڈائرکٹر نظام الدین، محمد وسیم، تعمیراتی کاموں کو دیکھنے والے خالد احمد اور ان کے بیٹے فہد نے مل کر وہاں سے زیورات نکالے ہیں - اس میں ڈائرکٹر نوید بھی ملوث ہیں - انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کی بھنک انہیں 3 مہینہ پہلے ہی لگ چکی تھی لیکن برے حالات سے نکلنے کا انتظار کررہے تھے - ویڈیو پیغام میں انہوں نے کروڑوں روپئے کے لون کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ این بی ایف سی آئی ایم اے کو کروڑوں روپئے دینے کے لئے تیار تھی لیکن ایک آئی اے ایس افسر کو وقت مقررہ پر 10 کروڑ روپئے نہ پہنچانے کی وجہ سے وہ لون کی رقم نہیں مل سکی - انہوں نے کہاکہ وہ تمام تفصیلات پولیس کمشنر کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں اور ان لوگوں کی بھی تفصیلات جو 400 کروڑ روپئے لے کر جواب دہ نہیں بن رہے ہیں - انہوں نے کہاکہ اگر میری جواب دہی ہے تو پھر ان تمام لوگوں کی بھی جوابدہی ہونی چاہئے جو پیسہ لے کر بیٹھے ہوئے ہیں - انہوں نے کہاکہ تقریباً 21 ہزار خاندانوں کو 12 سے 13 سال تک آمدنی پہنچاتا رہا،قومی سطح پر 18 ہزار بچوں کو تعلیمی سہولیات مہیا کراتا رہا، 7300 گھروں کو راشن کی فراہمی ہوتی رہی لیکن جب آئی ایم اے بری حالت میں آیا تو اسے بچانے کے لئے کوئی بھی سامنے نہیں آیا- انہوں نے کہاکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہزاروں خاندانوں کا ہم نے اکیلے خیال رکھا لیکن سب نے مل کر بھی ایک اکیلے شخص کا خیال نہیں رکھا- ہم نے سرمایہ کاروں سے تھوڑی مہلت مانگی تھی لیکن وہ بھی نہیں دی گئی- گذشتہ 13 برسوں میں ہم نے 12ہزار کروڑ کا منافع اپنے سرمایہ کاروں کو دیا ہے اور تقریباً 2 ہزار کروڑ روپئے کا اصل سرمایہ کاروں کو واپس کیا جاچکا ہے- انہوں نے یقین کے ساتھ کہاکہ جتنے بھی لوگوں کے پیسے باقی ہیں وہ بھی واپس کردئے جائیں گے - انہوں نے یہ بھی کہاکہ 99 فیصد لوگ جھوٹی خبریں پھیلارہے ہیں لیکن ان میں سے ایک فیصد وہ بھی ہیں جو ہماری حوصلہ افزائی کررہے ہیں - آئی ایم اے پونزی اسکیم والی کمپنی نہیں بلکہ مکمل اور صحیح تجارتی کمپنی ہے کیونکہ پونزی اسکیم کی ایک حد ہوتی ہے -موجودہ وقت میں اسے تجارتی خسارہ ہی کہا جاسکتا ہے - ویڈیو کے آغاز میں ایسے بہت سارے لوگوں کے نام لیتے ہوئے امنصورخان نے نہیں مبارکباد پیش کی کہ ان لوگوں نے کڑی محنت کے بعد آئی ایم اے کو بند کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے -ان میں کے رحمن خان، عبیداللہ شریف،مختارٹاڈا،عبدالخالق،مفتی افتخار قاسمی، مولانا زین العابدین،مولانا شمس الدین بجلی،عرفان رزاق اور سوشیل میڈیا پر آئی ایم اے کے خلاف سرگرم لوگ شامل ہیں - ردعمل میں یہ واضح طورپر کہا گیا ہے کہ منصور خان نے نام لے کریہ واضح کردیا ہے کہ مذکورہ تمام لوگ آئی ایم اے کے طریقہ کار سے خوش نہیں تھے- ویڈیو کے آخر میں بھی منصور خان نے پولیس کمشنر سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد انہیں ایس ایم ایس کے ذریعہ معلومات فراہم کرائیں تاکہ وہ دو سے تین روز کے اندر ہندوستان آنے کی تیاری شروع کرسکیں 

ایک نظر اس پر بھی

مفرورمنصورخان کاایک اورویڈیو 24 گھنٹے میں ہندوستان واپسی کاوعدہ!

لوگوں کو کروڑوں روپئے کا دھوکہ دینے والی پونزی کمپنی آئی ایم اے کے بانی وایم ڈی محمد منصور خان کیا واقعی 24 گھنٹوں میں ہندوستان واپس لوٹ آئیں گے؟ جبکہ اس گھپلے کی جانچ کررہی ایس آئی ٹی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ منورخان کا پاسپورٹ انٹرپول کے ذریعہ کالعدم قرار دیا گیا ہے -